پاکستان نے افغانستان کی جانب سے بھیجے گئے 8 ڈرونز مار گرائے: سرکاری میڈیا

پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا: ’طورخم سرحد سے ملحقہ علاقوں میں چار ڈرونز مار گرائے گئے، جبکہ کوہاٹ کے قریب پہاڑی سرحدی علاقوں میں چار ڈرونز کو تباہ کیا گیا۔‘

پاکستانی سرحدی سکیورٹی اہلکار 20 اپریل 2025 کو افغانستان کے ساتھ منسلک طورخم سرحد پر زیرو پوائنٹ کے قریب تعینات ہے (وکیل کوہسار / اے ایف پی)

پاکستان کے سرکاری میڈیا نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ مسلح افواج نے بدھ کو افغانستان کی جانب سے بھیجے گئے آٹھ ڈرونز مار گرائے، جس سے ’عوامی مقامات کو نشانہ بنانے کی بزدلانہ کوشش‘ ناکام بنا دی گئی۔

پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان نے ذرائع کے حوالے سے بتایا: ’طورخم سرحد سے ملحقہ علاقوں میں چار ڈرونز مار گرائے گئے، جبکہ کوہاٹ کے قریب پہاڑی سرحدی علاقوں میں چار ڈرونز کو تباہ کیا گیا۔‘

ذرائع نے مزید بتایا کہ ’پاکستان کی مسلح افواج کے فضائی دفاعی نظام 24 گھنٹے فعال اور پیشہ ورانہ انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔‘

مزید کہا گیا کہ ’یہ دراندازی افغان طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کی براہ راست حمایت اور سرپرستی کا ایک اور ثبوت ہے۔‘

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب پیر کو پاکستانی لڑاکا طیاروں نے مشرقی افغانستان میں ان مقامات کو نشانہ بنایا تھا جنہیں اسلام آباد نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانے قرار دیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رواں ماہ کے آغاز میں بھی پاکستانی سکیورٹی فورسز نے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 15 عسکریت پسندوں کو مار دیا تھا۔

پاکستانی طالبان، جنہیں باضابطہ طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کہا جاتا ہے، نے 2021 میں افغانستان میں افغان طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کی سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ کیا ہے۔

پاکستانی حکام کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لیے ’فتنۃ الخوارج‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، جن کے بارے میں اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ اس کے جنگجو افغانستان میں مقیم ہیں اور انہیں افغان طالبان اور انڈیا کی حمایت حاصل ہے، تاہم کابل اور نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

تازہ کشیدگی سے چین، ترکی، قطر اور سعودی عرب کی جانب سے کابل اور اسلام آباد کے درمیان پائیدار امن کے لیے ثالثی کی کوششوں کو خطرہ لاحق ہے۔

پیر کو کیے گئے فضائی حملوں کے بارے میں پاکستان کی وزارت اطلاعات نے کہا تھا کہ 28 عسکریت پسند مارے گئے، جبکہ افغان حکام کے مطابق کم از کم تین شہری جان سے گئے اور چار زخمی ہوئے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے اموات کی تصدیق کی، جبکہ کابل نے باضابطہ طور پر اس حملے پر احتجاج کیا۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقعے پر بھی پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغانستان میں پاکستان مخالف دو درجن سے زائد عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان