اقوام متحدہ امن مشنز کا بجٹ کم کرنے کی بجائے اصلاحات کی جائیں: پاکستان

پاکستان کے مستقبل مندوب سید حیدر شاہ کا کہنا تھا کہ عالمی ادارے کی یہ اہم ترین سرگرمی بین الاقوامی سلامتی کے لیے انتہائی اہم اور کم خرچ ذریعہ ہے۔ 

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سید حیدر شاہ چھ نومبر، 2026 کو جنرل اسمبلی چوتھی کمیٹی کے اجلاس میں خطاب کر رہے ہیں (پاکستان مشن)

اقوام متحدہ کے امن مشنز کو درپیش دباؤ کے تناظر میں پاکستان نے زور دیا ہے کہ عالمی ادارے کی یہ اہم سرگرمی عالمی سلامتی کے لیے ایک ناگزیر اور کم لاگت مؤثر ذریعہ ہے، جسے کمزور کرنے کے بجائے ان کی حکمت عملی میں اصلاحات اور معاونت جاری رکھی جانی چاہیے، نہ کہ ان کے لیے مالی وسائل میں کٹوتی کی جائے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں.

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سید حیدر شاہ نے جمعے کو جنرل اسمبلی کی چوتھی کمیٹی (خصوصی سیاسی اور غیر نوآبادیاتی) کو بتایا کہ ’بین الاقوامی امن و سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے امن کا قیام ناگزیر، موثر اور کم خرچ ذریعہ ہے۔‘

پاکستانی مندوب نے کہا کہ ’اگرچہ اصلاحات کی ضرورت ہے، لیکن اقوام متحدہ کی آپریشنل صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے اسے ایک سٹریٹجک مقصد کے ساتھ آگے بڑھانا چاہیے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی مستقبل میں جنگ بندی، سیاسی تصفیے یا ابھرتے ہوئے بحرانوں کا تقاضا ہو تو اقوام متحدہ کو ایک قابل اعتماد بین الاقوامی موجودگی تعینات کرنے کی صلاحیت برقرار رکھنی چاہیے۔

اپنے ریمارکس میں حیدر شاہ نے فوج فراہم کرنے والے ایک بڑے ملک اور میزبان ریاست کے طور پر، اقوام متحدہ کے امن مشنز کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد پاکستانی امن اہلکاروں نے اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے خدمات انجام دی ہیں، جن میں سے 183 نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ پاکستان، انڈیا اور پاکستان میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ (یو این ایم او جی آئی پی) کا میزبان ہے، جو متنازع جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول کی نگرانی کرتا ہے۔

امن کارروائیوں کو بڑھتے ہوئے سیاسی، آپریشنل اور مالی دباؤ کا سامنا ہونے کے پیش نظر حیدر شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ اس کی اہمیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی انتظامات اور عارضی آپریشنز کی جانب بڑھتا ہوا رجحان، زمینی سطح پر اقوام متحدہ کے قابل اعتماد امن مشنز کی موجودگی کی مسلسل ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا: ’ضرورت اس امر کی ہے کہ جب حالات تقاضا کریں تو سکیورٹی کونسل میں اس اہم ذریعے کو استعمال کرنے کا سیاسی عزم موجود ہو۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سلسلے میں، پاکستانی مندوب نے سیاسی حل کی اہمیت کو بڑھانے، مناسب وسائل سے ہم آہنگ واضح مینڈیٹ کو یقینی بنانے، امن کارروائیوں کی مخصوص ادارہ جاتی خوبیوں کو برقرار رکھنے، مستقبل کی فوجی اور پولیس ضروریات کے لیے تیاری کرنے، امن اہلکاروں کی حفاظت اور سکیورٹی مضبوط بنانے اور ان کے خلاف جرائم پر احتساب اور امن کارروائیوں کو اقوام متحدہ کے ایک حقیقی اجتماعی ذریعے کے طور پر برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کے سیاسی، امن سازی کے امور اور امن کارروائیوں کے محکموں کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل، محمد خالد خیاری نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا: ’ہر روز، ہمارے امن دستے اپنے گھروں سے دور اور انتہائی ذاتی خطرے کے باوجود بات چیت کو زندہ رکھتے ہیں اور شہریوں اور تشدد کے درمیان ڈھال بن کر کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے ہم پر یقین قائم رکھا ہے۔ آئیے ہم بھی ان پر یقین قائم رکھیں۔‘

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے امن مشنز کو مناسب وسائل فراہم کیے جانے چاہییں، ان کا کہنا تھا کہ ریاستوں سے اپنا حصہ مکمل طور پر ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ مشنز اپنے اخراجات میں 15 فیصد کمی کرنے پر مجبور ہوئے، جس کے نتیجے میں 13,296 فوجی اور 1,212 پولیس اہلکار واپس بھیجے گئے۔

محمد خالد خیاری نے کہا کہ اگرچہ امن کارروائیوں کی وسیع پیمانے پر حمایت موجود ہے، لیکن ’مسلسل سیاسی حمایت حاصل کرنا مشکل ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان چیلنجوں کے باوجود، اقوام متحدہ کے امن مشنز کمزوروں کی حفاظت اور قیام امن کا دفاع جاری رکھے ہوئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان