امریکہ میں نو منتخب سینیٹر عبدالسید کے انڈیا میں رہنے والے رشتہ دار مڈ ٹرم انتخابات میں ان کی جیت کا جشن منا رہے ہیں، جہاں انہوں نے اہم ترین سوئنگ ریاستوں میں سے ایک میں تلخ مہم کے بعد رپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دی۔
مصری تارکین وطن کے بیٹے ڈاکٹر السید کی شادی سارہ جوکاکو سے ہوئی ہے، جو ایک ماہر نفسیات ہیں اور ان کا تعلق انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک سے ہے۔
اطلاعات کے مطابق، اس جوڑے کی ملاقات یونیورسٹی آف مشی گن میں تعلیم کے دوران ہوئی اور بعد ازاں 2006 میں ان کی شادی ہو گئی۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں.
اگرچہ ڈاکٹر جوکاکو مشی گن میں پیدا ہوئیں اور وہیں ان کی پرورش ہوئی، لیکن ان کے رشتہ دار اب بھی ریاستی دارالحکومت بنگلورو سے تقریباً 490 کلومیٹر مغرب میں واقع علاقے بھٹکل میں رہتے ہیں۔
کیرالہ میں مقیم تاجر اور ڈاکٹر سارہ جوکاکو کے چچا، جوکاکو عبدالمجید نے کہا کہ ڈاکٹر السید کی جیت ایک انتہائی ذاتی کامیابی ہے۔
انہوں نے نیو انڈین ایکسپریس کو بتایا: ’امریکی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب صرف 2.5 فیصد کے قریب ہے۔ حالات کے پیش نظر، ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ نتیجہ ان کے حق میں ہوگا۔ ان کی جیت ایک نعمت بن کر آئی ہے۔‘
رشتہ داروں نے ڈاکٹر السید کو ’کرناٹک کا داماد‘ اور ایک گرم جوش اور ملنسار شخص قرار دیا۔
یہ جوڑا، جن کی دو بیٹیاں ہیں، ایک دہائی سے بھی پہلے ایک کزن کی شادی میں شرکت کے لیے بھٹکل آیا تھا، جہاں انہوں نے اہل خانہ کے ساتھ کم از کم چار دن گزارے تھے۔
ڈاکٹر جوکاکو کی کزن بی بی حسنہ نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ سخت مہم کے دوران اور ووٹوں کی گنتی کے دن اہل خانہ دباؤ کا شکار تھے۔ انہوں نے کہا: ’لیکن خدا کے فضل سے، یہ ایک شاندار جیت رہی ہے۔‘
اپنی مہم کے دوران عبدالسید نے مذاق میں کہا کہ دو دہائیوں تک ایک جنوبی انڈین خاتون کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک رہنے نے انہیں ’عرب سے زیادہ انڈین‘ بنا دیا ہے۔ انہوں نے ایک پوڈ کاسٹ میں کہا: ’ہر کوئی عربوں کے مقابلے میں دیسیوں کو زیادہ پسند کرتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’میں ایک اعزازی انڈین ہوں۔ انڈین ثقافت میں ایک ایسا صبر ہے جس کی قدر میں نے اس وقت کی جب میں انڈیا گیا۔ آپ ایک ارب لوگوں میں گھرے ہوتے ہیں۔ کوئی بھی کام جلدی نہیں ہوتا۔‘
اگست میں ایک اور پوڈ کاسٹ میں، انہوں نے یاد کیا کہ ان کے چچا نے ان سے پوچھا تھا کہ جب آٹھ کروڑ مصری تھے تو انہوں نے ایک انڈین سے شادی کیوں کی۔ ڈاکٹر السید نے جواب دیا: ’عمو (عربی میں چچا)، وہ ایک ارب ہیں، اس لیے اعداد و شمار کے لحاظ سے اس کا امکان بہت زیادہ تھا۔‘
عبدالسید نے الگ سے کہا کہ وہ ’دیسی خواتین میں گھرے ہوئے ہیں۔ میری دو دیسی بیٹیاں اور ایک دیسی بیوی ہے‘۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ڈاکٹر سارہ جوکاکو کے والد، جوکاکو طیب نے 1976 میں امریکہ منتقل ہونے سے قبل بنگلور میڈیکل کالج میں تعلیم حاصل کی تھی۔ ان کے دادا، جوکاکو شمس الدین نے سابق ریاست میسور میں نائب وزیر خزانہ کے طور پر فرائض انجام دیے تھے۔
عبدالسید نے اکثر اپنے آبائی ورثے کے بارے میں بھی محبت سے بات کی ہے، مصری کھانوں اور مزاح کی تعریف کی ہے اور بحیرہ روم کے شہر اسکندریہ میں گزری گرمیوں کو خوشگوار انداز میں یاد کیا ہے، جہاں ان کے والد پلے بڑھے تھے۔
عبدالسید صحت عامہ کے ایک سابق اہلکار ہیں جنہوں نے اپنی عوامی مہم کو سب کے لیے صحت کی سہولیات، انتخابات سے بیرونی پیسے کے خاتمے اور اسرائیل کی کڑی تنقید پر مرکوز رکھا۔ اس چیز نے ڈیموکریٹک پرائمری اور عام انتخابات دونوں میں بڑے پیمانے پر ہونے والے بیرونی اخراجات کے باوجود انہیں کامیابی سے ہمکنار کیا۔
ان کی جیت 2028 کے صدارتی انتخابات سے قبل اس تحریک کو تقویت بخشے گی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اس ایجنڈے کو اپنانے والے امیدوار اہم فیصلہ کن ریاستوں میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔
سابق صدر باراک اوباما اور سابق نائب صدر کملا ہیرس ان سرکردہ ڈیموکریٹس میں شامل تھے، جنہوں نے ووٹروں کو متحرک کرنے کے لیے شہر میں عبدالسید کے ساتھ انتخابی مہم چلائی۔
© The Independent