ٹیسلا کے سائبر ٹرک کا سفر تمام ہوا

ایلون مسک نے بتایا کہ 2027 کے وسط تک ٹیکساس میں واقع گیگا فیکٹری میں سائبر ٹرک کی پیداوار بتدریج بند کر دی جائے گی۔

دو اپریل، 2026 کو کیلی فورنیا میں سائبر ٹرک فالکن نائن راکٹ کے سامنے سے گزر رہا ہے(اے ایف پی)

الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی امریکی کمپنی ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک نے جمعے کو کہا ہے کہ کمپنی 2027 کے وسط تک ٹیکساس میں واقع اپنی گیگا فیکٹری میں سائبر ٹرک کی پیداوار بتدریج بند کر دے گی۔

یہ فیصلہ کئی برسوں سے اس جدید طرز کی گاڑی کی مسلسل کم فروخت کے بعد سامنے آیا ہے جسے کبھی روایتی پک اَپ ٹرکوں کے مقابلے میں پیش کیا گیا تھا۔

یہ فیصلہ ایلون مسک کے پسندیدہ منصوبوں میں سے ایک سے بڑی پسپائی سمجھا جا رہا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مسک نے کہا کہ سائبر ٹرک کی پیداوار بتدریج بند کرنے سے ٹیسلا کو سائبر کیب کی پیداوار بڑھانے کا موقع ملے گا۔

سائبر کیب بغیر ڈرائیور چلنے والی روبوٹیکسی ہے جسے مسک نے کمپنی کے خودکار گاڑیوں کے منصوبے کا مرکزی حصہ بنایا ہے تاہم یہ گاڑی ابھی تجارتی اعتبار سے اپنی کامیابی ثابت نہیں کر سکی۔

یہ اعلان ایلون مسک کے لیے ایک مشکل ہفتے کے اختتام پر سامنے آیا ہے۔

منگل کو امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ان کی جانب سے تقریباً 50 کروڑ ڈالر کے ریکارڈ سیاسی اخراجات بھی خاطر خواہ نتائج نہ دے سکے اور ان کی حمایت یافتہ رپبلکن امیدواروں کی بڑی اکثریت انتخابات ہار گئی۔

مجموعی طور پر ایلون مسک کی کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو میں اس ہفتے 180 ارب ڈالر سے زیادہ کی کمی ہونے کا امکان تھا۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ سائبر ٹرک کی پیداوار کسی دوسرے پلانٹ میں منتقل کی جائے گی یا مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔

تاہم ٹیسلا کا آسٹن میں واقع پلانٹ کمپنی کی واحد معلوم فیکٹری ہے جہاں اس بھاری بھرکم اور مخصوص زاویہ دار ڈیزائن والی گاڑی کے خصوصی پرزے تیار کرنے کی سہولت موجود ہے۔

ایکس پر ایک صارف کے سوال کے جواب میں ایلون مسک نے سائبر ٹرک کو ’ٹیسلا کی اب تک کی بہترین گاڑی‘ قرار دیا اور اس کی پیداوار بند کرنے کے فیصلے کو ’ایک عہد کا خاتمہ‘ کہا۔

ٹیسلا اپنی توجہ روبوٹکس اور خودکار ٹیکنالوجی کی جانب منتقل کر رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تبدیلی ایسے وقت میں کمپنی کے روایتی الیکٹرک گاڑیوں کے کاروبار کو متاثر کر رہی ہے جب چینی حریف کمپنیاں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔

ٹیسلا کا شمار الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کو فروغ دینے والی اولین کمپنیوں میں ہوتا ہے۔

امریکی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی اس کمپنی نے 2023 کے آخر میں صارفین کو سائبر ٹرک کی فراہمی شروع کی تھی۔

گاڑیوں سے متعلق اعداد و شمار فراہم کرنے والے پلیٹ فارم کیلی بلیو بک کے مطابق ٹیسلا نے گذشتہ سال امریکہ میں صرف 20 ہزار 237 سائبر ٹرک فروخت کیے جو 2024 میں فروخت ہونے والے 38 ہزار 965 سائبر ٹرکوں کے مقابلے میں 48 فیصد کم تھے۔

2023 میں پیداوار شروع ہونے کے وقت ایلون مسک نے سالانہ ڈھائی لاکھ سائبر ٹرک فروخت ہونے کی پیش گوئی کی تھی۔

گاڑیاں بنانے والی کمپنی آسٹن مارٹن کے سابق چیف ایگزیکٹو اینڈی پالمر نے کہا کہ ’جب کوئی گاڑی اپنے مقررہ اہداف حاصل نہیں کر رہی تو اس کی پیداوار جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

’گاڑیوں کی صنعت سے وابستہ ہر سمجھ دار شخص یہی بات کہے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’بلاشبہ ٹیسلا کی بیلنس شیٹ میں اس کا مالی اثر نہ ہونے کے برابر ہوگا لیکن اعداد و شمار خود ہی ساری کہانی بیان کر رہے ہیں۔‘

ایلون مسک کی خلائی کمپنی سپیس ایکس گذشتہ سال سائبر ٹرک کے بڑے خریداروں میں شامل تھی۔

کمپنی کی ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) سے متعلق دستاویزات کے مطابق سپیس ایکس نے 2025 میں ٹیسلا سے مقررہ قیمت پر 13 کروڑ 10 لاکھ ڈالر مالیت کے سائبر ٹرک خریدے تھے۔

2019 میں پہلی مرتبہ متعارف کرائے جانے کے بعد سے ہی سائبر ٹرک ایلون مسک کا ایک متنازع منصوبہ رہا ہے۔

روایتی پک اَپ ٹرکوں کے شوقین افراد نے اس کے زاویہ دار ڈیزائن کا مذاق اڑایا جبکہ حفاظتی امور کے ماہرین نے پیش گوئی کی تھی کہ یورپ جیسی اہم منڈیوں میں اس کی فروخت کی منظوری حاصل کرنا مشکل ہوگا۔

سائبر ٹرک کی رونمائی کی تقریب بھی اس وقت ناخوشگوار صورت حال کا شکار ہو گئی تھی جب ایلون مسک نے اس کے شیشوں کو نہ ٹوٹنے والا ثابت کرنے کے لیے ان پر دھاتی گیندیں پھینکوائیں، لیکن اس تجربے کے نتیجے میں دو شیشوں میں بڑی دراڑیں پڑ گئیں۔

2023  میں سائبر ٹرک کی باضابطہ لانچنگ کے موقعے پر ایلون مسک نے اسے جنرل موٹرز اور فورڈ کے پک اَپ ٹرکوں کا مستقبل کی ٹیکنالوجی سے آراستہ حریف قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’بالآخر مستقبل ویسا ہی نظر آئے گا جیسا مستقبل کو ہونا چاہیے۔‘

تاہم سائبر ٹرک ان توقعات پر پورا اترنے میں مشکلات کا شکار رہا۔

امریکی نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کے مطابق 2023 کے آخر میں فروخت شروع ہونے کے بعد سے ٹیسلا سائبر ٹرک کو مختلف خرابیوں کے باعث 11 مرتبہ واپس منگوانے کا اعلان کر چکی ہے۔

بعض گاڑیوں میں خرابی دور کرنے کے لیے عملی مرمت کی ضرورت پڑی جبکہ دیگر مسائل کو انٹرنیٹ کے ذریعے سافٹ ویئر اپ ڈیٹس سے حل کیا گیا۔

آٹو موبائل تجزیہ کار فیلیپے مونوز نے کہا کہ اگرچہ کم فروخت کی وجہ سے سائبر ٹرک کو ناکام منصوبہ قرار دیا گیا ہے لیکن فورڈ اور دیگر کمپنیوں کے الیکٹرک پک اَپ ٹرک بھی امریکی مارکیٹ میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

مونوز کے مطابق ’یہ تمام گاڑیاں مقابلے میں ناکام رہیں کیونکہ امریکہ میں الیکٹرک پک اَپ ٹرک مقبول نہیں ہیں۔‘

تاہم سائبر ٹرک کے تیز کناروں والے سٹین لیس سٹیل ڈیزائن نے یورپ جیسی منڈیوں میں بھی اس کے امکانات محدود کر دیے جہاں الیکٹرک گاڑیاں نسبتاً زیادہ مقبول ہیں۔

پیدل چلنے والوں کو گاڑی کی ٹکر سے محفوظ رکھنے سے متعلق یورپی قوانین کے باعث سائبر ٹرک کے لیے وہاں ریگولیٹری منظوری حاصل کرنا ممکن نہیں تھا۔

آسٹن مارٹن کے سابق چیف ایگزیکٹو اینڈی پالمر نے کہا کہ ’جہاں بھی گاڑیوں کے حادثات سے متعلق قوانین میں پیدل چلنے والوں پر ٹکر کے اثرات کو مدنظر رکھا جاتا ہے وہاں سائبر ٹرک نہیں جا سکتا، اسے اجازت ہی نہیں مل سکتی۔‘

ایلون مسک کا نیا منصوبہ

سائبر کیب، جس کے دروازے تتلی کے پروں کی طرح کھلتے ہیں اور جس میں سٹیئرنگ، پیڈل یا شیشے موجود نہیں، ایلون مسک کے اہم ترین منصوبوں میں شامل ہے۔

اس منصوبے کے ذریعے وہ ٹیسلا کو محض گاڑیاں بنانے والی کمپنی کے بجائے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی کمپنی میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

ایلون مسک کا کہنا ہے کہ وہ سائبر کیب کو ٹیسلا کی مرکزی خودکار گاڑی کے طور پر دیکھتے ہیں، جس کے ذریعے دنیا بھر میں بغیر ڈرائیور چلنے والی روبوٹیکسیوں کا نیٹ ورک قائم کیا جا سکے گا۔

خودکار ڈرائیونگ سے متعلق ایلون مسک کے اہداف میں کئی برس کی تاخیر کے بعد ٹیسلا نے ستمبر میں آسٹن میں محدود تعداد میں سائبر کیب گاڑیوں کے ذریعے کرائے پر سفری سہولت فراہم کرنا شروع کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم کمپنی کو اب بھی امریکی ادارے کے ان سوالات کے جواب دینا ہیں کہ آیا اس نے سائبر کیب کے وفاقی حفاظتی معیارات پر پورا اترنے کی تصدیق درست طریقے سے خود کی ہے یا نہیں۔

امریکی نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن نے اس تصدیق کی بنیاد کا جائزہ لینے کے لیے ستمبر میں آڈٹ شروع کیا تھا۔

سائبر ٹرک کے مرکزی انجینیئر ویس موریل نے ایکس پر کہا کہ ’سائبر ٹرک ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے ایک غیرمعمولی پلیٹ فارم تھا اور اس کی ٹیکنالوجی سائبر کیب کی صورت میں آگے بڑھ رہی ہے۔‘

تاہم امکان نہیں کہ سائبر کیب مستقبل قریب میں سائبر ٹرک کی پیداوار میں ہونے والی کمی پوری کر سکے۔

دو نشستوں والی اس روبوٹیکسی کا منصوبہ ابھی محدود پیمانے پر جاری ہے اور اس کی پیداوار رواں سال کے آغاز میں ہی شروع ہوئی تھی۔

ٹیسلا کے مطابق اس کی نصب شدہ سالانہ پیداواری صلاحیت ایک لاکھ 25 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی ہے۔

ٹیکساس کے محکمہ موٹر وہیکلز کے مطابق ریاست میں چلنے والی ٹیسلا کی 1200 سے زیادہ روبوٹیکسیوں میں سے تقریباً 570 سائبر کیب ہیں جبکہ باقی زیادہ تر ماڈل وائی گاڑیاں ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی