لاہور کے فائن آرٹس فوٹوگرافر عدیل چشتی پاکستان کے مختلف علاقوں میں ایسے افراد کی تلاش میں ہیں جن کی دونوں آنکھوں کے رنگ ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
دبئی میں بین الاقوامی فوٹوگرافی ایوارڈ حاصل کرنے والے عدیل اب تک ایسے نو افراد تلاش کر چکے ہیں، جن میں سے پانچ کے پورٹریٹ بھی بنا چکے ہیں۔
ان کا منصوبہ مختلف رنگوں کی آنکھوں والے 30 افراد کی تصاویر پر مشتمل ایک منفرد البم تیار کرنا اور اس کے ذریعے گنیز ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کرانے کی کوشش کرنا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس سے فوٹوگرافی کی ڈگری حاصل کرنے والے عدیل گذشتہ تقریباً 10 برس سے فائن آرٹس فوٹوگرافی سے وابستہ ہیں۔
ان کے کیمرے میں لاہور کے تاریخی مقامات سے لے کر چولستان کے صحرا اور کیلاش کی وادیوں تک، پاکستان کے مختلف علاقوں کے مناظر اور لوگوں کے چہرے محفوظ ہیں۔
عدیل نے بتایا کہ انہیں ایسے افراد کی تلاش ہے جن کی دونوں آنکھوں کی رنگت ایک دوسرے سے مختلف ہو۔
’میں نے پاکستان کے مختلف علاقوں سے اب تک نو ایسے افراد تلاش کر لیے ہیں جن کی ایک آنکھ کا رنگ دوسری سے مختلف ہے۔ ان میں سے پانچ کے پورٹریٹ بنا چکا ہوں جبکہ باقی کی تصاویر جلد بناؤں گا۔‘
عدیل کا کہنا ہے کہ وہ ایسے 30 افراد کی تصاویر مکمل کرنے کے بعد ایک البم تیار کرنا چاہتے ہیں تاکہ گنیز ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کرانے کی کوشش کر سکیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے گنیز ورلڈ ریکارڈ کا جائزہ لیا ہے لیکن انہیں اس نوعیت کے فوٹوگرافی منصوبے کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔
عدیل کے مطابق ان کا فوٹوگرافی کا سفر 2015 میں شروع ہوا، جب انہوں نے پیسے جمع کرکے ایک چھوٹا سا کیمرہ خریدا۔
انہوں نے بتایا ’سب سے پہلے لاہور کے تاریخی مقامات کی تصاویر بنانا شروع کیں۔ بادشاہی مسجد کی ایک تصویر پر انتظامیہ کی جانب سے انعام ملا تو فوٹوگرافی کا شوق مزید بڑھ گیا اور میں نے اسے پیشے کے طور پر اپنانے کا فیصلہ کیا۔‘
اس کے بعد انہوں نے پاکستان کے شمالی علاقوں، کیلاش اور چولستان سمیت مختلف مقامات کا رخ کیا، جہاں انہوں نے قدرتی مناظر کے ساتھ مقامی لوگوں کی زندگی اور چہروں کو بھی اپنے کیمرے میں محفوظ کیا۔
عدیل کے مطابق ان کی تصاویر کو پذیرائی ملنے لگی اور 2022 میں دبئی میں ہونے والی ایک بین الاقوامی تصویری نمائش میں چولستان کی ایک لڑکی کے پورٹریٹ پر انہیں ایوارڈ سے نوازا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کامیابی نے ان کے اعتماد میں اضافہ کیا اور انہیں فوٹوگرافی کے مزید منفرد منصوبوں پر کام کرنے کی ترغیب دی۔
عدیل چشتی نے اپنے ایک دلچسپ تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے 2017 میں کیلاش کی بعض بچیوں کے پورٹریٹ بنائے تھے۔
اکتوبر 2026 میں وہ دوبارہ کیلاش گئے تو نو سال قبل بنائی گئی تصاویر ان بچیوں کو دیں۔
ان کے مطابق ’جب میں نے ان کی تصاویر بنائی تھیں تو وہ پرائمری سکول میں پڑھتی تھیں لیکن اب ہائی سکول پہنچ چکی تھیں۔ اپنے بچپن کی تصاویر دیکھ کر وہ حیران رہ گئیں۔‘
عدیل کا کہنا ہے کہ فوٹوگرافی محض کسی منظر کو کیمرے میں محفوظ کرنے کا نام نہیں بلکہ تصویر کے زاویے اور کمپوزیشن سے بھی اس کا تاثر تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
ان کے بقول بعض اوقات کسی حقیقی تصویر کے مخصوص حصے کو نمایاں کرنے سے ایسا منظر سامنے آتا ہے جو دیکھنے والوں کو ناقابلِ یقین محسوس ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا اس تکنیک سے بنائی گئی ان کی کئی تصاویر نے تجربہ کار فوٹوگرافروں کو بھی حیران کیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
عدیل کے مطابق سوشل میڈیا، خصوصاً انسٹاگرام پر تصاویر شیئر کرنے سے ان کے کام کو مزید شناخت ملی اور مختلف اداروں کی جانب سے انہیں فوٹوگرافی کے منصوبوں کی پیشکشیں موصول ہونے لگیں۔
انہوں نے بتایا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے بھی حالیہ سیلاب کے دوران متاثرہ علاقوں کی تصویری رپورٹس تیار کرنے کے لیے ان کی خدمات حاصل کیں۔
ان کے مطابق دنیا کی مختلف کمپنیوں کی جانب سے بھی فوٹوگرافی کے منصوبوں پر کام کرنے کی پیشکشیں موصول ہو رہی ہیں۔
عدیل کا کہنا ہے کہ فوٹوگرافی نے انہیں نہ صرف اپنا شوق پورا کرنے بلکہ روزگار کمانے کا موقع بھی فراہم کیا، تاہم ان کے خیال میں پاکستانی معاشرے میں اس پیشے کو اب بھی وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو دوسرے شعبوں کو حاصل ہے۔
’آج بھی عزیز و اقارب پوچھتے ہیں کہ کیا کرتے ہو؟ جب بتاتا ہوں کہ فوٹوگرافی کرتا ہوں تو کہتے ہیں کہ یہ تو ٹھیک ہے لیکن کام کیا کرتے ہو؟‘
عدیل چشتی اپنے منفرد تصویری البم پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں سے مزید ایسے افراد تلاش کریں جن کی دونوں آنکھوں کے رنگ مختلف ہیں، ان کے پورٹریٹ بنائیں اور 30 افراد کی تصاویر پر مشتمل اپنا منصوبہ مکمل کریں۔
