انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ریچھ کے حملے میں والدہ کی موت کے بعد ایک سافٹ ویئر انجینیئر مدثر علی نے ہمالیائی خطے کے لوگوں کو جنگلی حیات سے خطرناک ٹکراؤ سے بچانے میں مدد دینے کے لیے آن لائن پیشگی انتباہی نظام بنا دیا۔
مدثر علی نے ’وائلڈ پنگ‘ کے نام سے ایک مفت ویب ایپ بنائی ہے، جہاں صارفین ہمالیائی سیاہ ریچھوں اور تیندوؤں جیسے جانوروں کو دیکھے جانے کی اطلاع دیتے ہیں، جس سے آس پاس کے لوگوں کو انتباہ مل جاتا ہے۔
33 سالہ انجینیئر نے یہ پلیٹ فارم اکتوبر میں اپنی والدہ کی موت کی پہلی برسی پر متعارف کروایا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وہ 2023 سے اس علاقے میں جنگلی جانوروں کے حملے میں جان گنوانے والے کم از کم 50 افراد میں شامل تھیں۔ ان حملوں میں سینکڑوں دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
مدثر علی نے بتایا: ’اس واقعے کے بعد سے میرے ذہن میں ہمیشہ یہ بات رہی کہ میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک ایسی ٹیکنالوجی تیار کروں، جسے ان حساس علاقوں میں رہنے والے لوگ اپنی حفاظت کے لیے استعمال کر سکیں جہاں اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں۔‘
انہوں نے ویب سائٹ پر اپنے علاقے میں جانوروں کے دیکھے جانے کی اطلاعات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا: ’میں اس تکلیف سے گزرا ہوں اور میں نہیں چاہتا کہ کوئی اور اس کا سامنا کرے۔‘
ہمالیہ کے پورے خطے میں انسانوں اور جنگلی حیات کا تصادم ایک بڑھتی ہوئی تشویش بن گیا ہے، جہاں جنگلات کی کٹائی اور جانوروں کے سکڑتے ہوئے مسکن لوگوں کو جنگلی جانوروں کے زیادہ قریب لا رہے ہیں۔
ویب سائٹ پر وضاحت کی گئی ہے کہ ’یہ نظام بذات خود اس تصادم کو نہیں روک سکتا۔ یہ کسی خاندان کو بچاؤ کے لیے چند منٹ فراہم کر سکتا ہے کہ وہ بچوں کو گھر کے اندر رکھیں، باہر پیدل جانے سے گریز کریں، یا مدد کے لیے پکاریں۔‘
لوگوں مخصوص مقامات کے ارد گرد انتباہی زون مقرر کر سکتے ہیں اور اگر کوئی ریچھ قریب آتا ہے، تو انہیں اپنے فون پر وارننگ مل جاتی ہے۔
ویب سائٹ پر وضاحت کی گئی ہے کہ ’گھر، کھیت، سکول اور بچوں کے پیدل چلنے کا راستہ: ان سب کے لیے ایک واچ زون مقرر کیا جا سکتا ہے۔‘
یہ ویب سائٹ تین زبانوں یعنی انگریزی، ہندی اور اردو میں دستیاب ہے۔
’جان بچانے میں مدد‘
کشمیر میں دہائیوں سے جاری تنازعے نے انسانوں اور جنگلی حیات کے تصادم کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
یہ پہاڑی خطہ 1947 میں برطانوی تسلط سے آزادی کے بعد سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان منقسم ہے اور دونوں ممالک اس پر مکمل ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس تنازعے کے باعث کئی جنگیں اور ایک طویل شورش جنم لے چکی ہے۔
باڑ لگانے اور فوج کی بھاری تعیناتی نے جانوروں کی نقل و حرکت کو بھی متاثر کیا ہے، جس سے ممکنہ طور پر لوگوں کے ساتھ ان کے ٹکراؤ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس خطے میں ریچھ کی دو اقسام پائی جاتی ہیں۔ ہمالیائی سیاہ ریچھ، جو جنگلات سے گھرے پہاڑی علاقوں میں رہتے ہیں اور بھورے ریچھ، جو عام طور پر زیادہ بلندی پر پائے جاتے ہیں۔ تیندوے بھی ان جنگلوں میں گھومتے پھرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، اس خطے میں جنگلی جانوروں کے حملوں میں اموات ااور زخمی ہونے کے 80 فیصد سے زیادہ واقعات ہمالیائی سیاہ ریچھ کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔
اگرچہ دیگر ممالک میں عوامی سطح پر جنگلی جانوروں کی اطلاع دینے کے پلیٹ فارمز موجود ہیں، لیکن مدثر علی ایک ایسا پلیٹ فارم بنانا چاہتے تھے، جو خاص طور پر کشمیر کی مقامی آبادی کو درپیش خطرات کے مطابق ہو۔
’وائلڈ پنگ‘ نے اپنے آغاز کے بعد سے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں تقریباً 9000 افراد کی توجہ حاصل کی ہے، اور سینکڑوں صارفین باقاعدگی سے اسے استعمال کر رہے ہیں۔
34 سالہ یاسر اقبال کہتے ہیں کہ ’گذشتہ ہفتے میں نے ایک ریچھ دیکھا، تو میں نے اس کی اطلاع دینے کے لیے فوراً یہ ایپ استعمال کی۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’ہمارے گاؤں کے بہت سے لوگ اب اسے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ ایک اچھی اور کارآمد ایپ ہے جو ہمیں اس بات سے باخبر رکھ کر جانیں بچانے میں مدد دے سکتی ہے کہ جنگلی جانور کہاں دیکھے گئے ہیں۔‘