حوثیوں کے سعودی عرب سے 51 ارب ڈالر طلب کرنے کی خبر بے بنیاد: سعودی عہدیدار

سعودی وزارتِ خارجہ کے نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری رائد کریملی نے ان دعوؤں کو اخبار کے لکھاریوں یا ان کے مبینہ ذرائع کی من گھڑت کہانیاں قرار دیا۔

یمنی فورسز 19 جنوری، 2026 کو جنوبی ساحلی صوبے حضرموت کے شہر مکلا میں موجود ہیں (اے ایف پی)

ایک سعودی عہدیدار نے امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کی تردید کر دی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ حوثیوں نے سعودی عرب سے 51 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ کے نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری رائد کریملی نے وال سٹریٹ جرنل کی بدھ کو شائع ہونے والی اس رپورٹ کی سختی سے تردید کی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یمن کی حوثی ملیشیا نے جنگ بندی کے بدلے سعودی عرب سے 51 ارب ڈالر اور ملک کے حکمرانوں کے طور پر تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔

ایکس پر ایک بیان میں رائد کریملی نے کہا کہ اس رپورٹ کی حقیقت میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔ انہوں نے ان دعوؤں کو اخبار کے لکھاریوں یا ان کے مبینہ ذرائع کی من گھڑت کہانیاں قرار دیا۔

انہوں نے حوثیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ یمن کی حکومت کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں، ملک کے عوام کو بھوک اور افلاس میں مبتلا کرنے میں کردار ادا کر رہے ہیں اور یمن کو ایسے تنازعات اور ایجنڈوں میں دھکیل رہے ہیں جو ملک کے مفادات کے خلاف ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رائد کریملی نے حوثی ملیشیا پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں، شہری تنصیبات اور اقتصادی مراکز پر حملے کر رہی ہے، جبکہ امن کی کوششوں کو بھی مسترد کر رہی ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ یمن کی ایک حکومت پہلے ہی موجود ہے جسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب پر متعدد حملے کیے ہیں، جن میں ایئرپورٹس، آئل اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے جواب میں سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا