امریکہ نے بدھ کو دو انڈین شہریوں کے زیر انتظام چلنے والے ایک ’وسیع مجرمانہ نیٹ ورک‘ پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جو بحری دھوکہ دہی کرتے ہوئے ایران کے تیل بردار جہازوں کے خفیہ طور پر کام کرنے والے بیڑے کی مدد کر رہا تھا۔
ایک بیان میں امریکی محکمہ خزانہ نے کہا کہ اس نیٹ ورک نے ایرانی جہازوں کو جعلی پرچموں تلے سفر کرنے اور جعلی بحری سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں مدد فراہم کی۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔
یہ اقدام اگست سے ایران کے خلاف سخت ہوتی امریکی پابندیوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے، جب واشنگٹن نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی فوجی مہم کے ساتھ ساتھ ملک کا ’معاشی دم گھونٹنے‘ کی کوشش کرے گا۔
امریکہ اور اسرائیل نے فروری کے اواخر میں ایران کے خلاف جنگ چھیڑ دی تھی، جس نے مشرق وسطیٰ کو تشدد میں دھکیل دیا کیوں کہ تہران کی جوابی کارروائی نے امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنایا اور توانائی کی تجارت کی ایک اہم آبی گزرگاہ بند کر دی۔
وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے، جو ماضی میں واشنگٹن کے ساتھ تعلقات سے قطع نظر ایران کی مدد کرنے والے کسی بھی ملک یا کمپنی پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں، کہا: ’جیسا کہ ہم کئی بار کہہ چکے ہیں، آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کے تحت، آپ یا تو ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف ہیں۔
’ہمیں معلوم ہے کہ آپ کہاں ہیں اور ہم ان لوگوں پر پابندیاں عائد کریں گے، جو ایرانی حکومت کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں، چاہے وہ زمین، سمندر یا ہوا کے ذریعے ہو۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بدھ کو عائد کی گئی پابندیوں میں انڈین شہریوں سنیل کمار شرما اور ان کی اہلیہ جسپریت پریتی شاہد کو چنڈی گڑھ میں اپنے اڈے سے بحری دھوکہ دہی کا ایک بڑا نیٹ ورک چلانے پر نامزد کیا گیا ہے۔
محکمہ خزانہ نے ایک بیان میں کہا: ’گیانا سے لے کر ایسواتینی اور لاؤس تک، تقریباً ہر براعظم کے ممالک کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہوئے سنیل کمار شرما اور جسپریت پریتی شاہد نے ایرانی شیڈو فلیٹ کو اپنے آپریشنز پر عائد بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے میں مدد دی ہے۔‘
ان پابندیوں میں دو دیگر انڈین شہریوں اور متعدد کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جن کے بارے میں محکمہ خزانہ نے کہا کہ وہ اس مجرمانہ نیٹ ورک کا حصہ تھیں۔
بدھ کی کارروائی کے تحت واشنگٹن نے ترکی میں قائم فوگو گراؤنڈ سروسز انکارپوریٹڈ پر بھی مبینہ طور پر ایران کے ایوی ایشن سیکٹر کو خدمات فراہم کرنے کے الزام میں پابندیاں عائد کیں، جسے امریکہ بند کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
قبل ازیں رواں ماہ امریکہ نے غیر ملکی منڈیوں میں تیل کی مصنوعات کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والے ٹینکروں پر مشتمل ’ایران کے شیڈو فلیٹ کی باقیات‘ کو نشانہ بناتے ہوئے پابندیاں عائد کی تھیں، جس سے 17 جہاز متاثر ہوئے۔