امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے لیے اب بھی پُرامید ہیں: قطر

قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ دونوں فریق اس وقت ہماری جانب سے پیش کردہ خیالات اور تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔

  تہران میں قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی 27 اگست، 2026 کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی (دائیں) سے ملاقات کر رہے ہیں (قطری وزارت خارجہ)

قطر نے منگل کو کہا اسے اب بھی امید ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری معاہدہ طے پا سکتا ہے جبکہ دونوں ممالک دوحہ سمیت ثالثوں کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں امریکہ کی جانب سے نئے بڑے حملوں کی دھمکی کے بعد دوبارہ لڑائی شروع ہونے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سفارتی پیش رفت کا اشارہ دیا ہے۔

منگل کی صبح امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن نے آبنائے ہرمز میں واقع ایک ایرانی جزیرے پر محدود حملے کیے ہیں جبکہ ایرانی میڈیا نے یکے بعد دیگرے پانچ دھماکوں کی اطلاع دی۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے صحافیوں کو بتایا کہ ’دونوں فریق مذاکراتی عمل کے لیے بدستور پُرعزم ہیں جیسا کہ ہم پہلے بھی بتا چکے ہیں۔ ہم ان کے درمیان تجاویز کے فوری تبادلے میں سہولت فراہم کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’دونوں فریق اس وقت ہماری جانب سے پیش کردہ خیالات اور تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا ’ہم اب بھی پُرامید ہیں کہ معاہدہ طے پانے کا امکان موجود ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 انہوں نے مزید کہا کہ دوحہ ’ایک عبوری معاہدے‘ کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔

پیر کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ثالثوں کے ذریعے امریکہ کے ساتھ ’بھرپور مذاکرات‘ جاری ہیں۔

ماجد الانصاری کے مطابق اسی روز قطری مذاکرات کار تہران میں تین گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی ملاقات کے بعد دوحہ واپس پہنچے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ کشیدگی میں کسی بھی قسم کا اضافہ مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات اور اسرائیل میں گذشتہ ہفتے ہونے والے عام انتخابات سے قبل امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنی دھمکیوں میں اضافہ کر دیا تھا۔

اسرائیلی انتخابات میں وزیراعظم بن یامین نتن یاہو اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا