امریکہ نہیں چاہتا کہ پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بنے: مارکو روبیو

امریکی ریاست جارجیا میں جی 20 وزرائے خارجہ اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو ان دہشت گرد حملوں پر تشویش ہے جن کی سرپرستی افغانستان کی سرزمین سے کی جا رہی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 31 اکتوبر، 2026 کو اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقعے پر پریس کانفرنس کر رہے ہیں (روئٹرز)

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ  کہا ہے کہ اسلام آباد کو ’افغانستان سے ہونے والے حملوں‘ پر طالبان کی جانب سے مناسب کارروائی نہ کی جانے پر تشویش ہے۔

جارجیا کے شہر اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ’پاکستان کو ان دہشت گرد حملوں پر تشویش ہے جن کی سرپرستی افغانستان کی سرزمین سے کی جا رہی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’واشنگٹن نے اسلام آباد کے تحفظات سن لیے ہیں اور وہ نہیں چاہتا کہ پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بنے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔

روبیو نے مزید کہا: ’ان (پاکستان) کا خیال ہے کہ طالبان نے ان حملوں کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے، اور انہوں (پاکستان) نے اس کے خلاف کارروائی کی ہے۔ اگر ہمارے لیے کوئی تعمیری کردار ادا کرنے کی گنجائش ہوئی، تو ہم اسے ادا کریں گے۔‘

مارکوروبیو نے کہا کہ ’امریکہ دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے قطع نظر اس کے کہ یہ کہاں سے جنم لیتی ہے یا کسے نشانہ بناتی ہے۔‘ انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ واشنگٹن کے طالبان کے ساتھ کوئی خاص قریبی تعلقات نہیں ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پانچ سال قبل طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد تیزی سے خراب ہوئے ہیں اور پاکستان نے افغانستان سے متصل اپنے مغربی صوبوں میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ دیکھا ہے۔ 

پاکستان نے گذشتہ مہینوں کے دوران سرحد پار حملوں اور افغان طالبان پر کالعدم تنظیموں کی سرپرستی کے الزامات لگائے گئے ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی برقرار ہے، کیوں کہ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ کابل نے ان کے خلاف خاطر خواہ ایکشن نہیں لیا جس کی افغانستان تردید کرتا ہے۔ ایک سال سے زیادہ عرصے سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحد بند ہے 

دراندازی کے معاملے پر دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات تیزی سے خراب ہوئے ہیں اور کشیدگی بارہا مسلح جھڑپوں تک جا پہنچی ہے۔

گذشتہ سال 18 اور 19 اکتوبر کو دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد دونوں ممالک نے فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ یہ مذاکرات سرحد پر ہونے والی مہلک جھڑپوں کے بعد ہوئے تھے۔

25 سے 30 اکتوبر تک استنبول میں ہونے والی ملاقاتوں کا مقصد جنگ بندی کو مستحکم کرنا اور نگرانی و تصدیق کا ایک طریقہ کار قائم کرنا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ادھر پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے ہفتے کو افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے حالیہ بیان کے ردعمل میں کہا ہے کہ دہشت گردی پاکستان کے لیے ’ریڈ لائن‘ ہے اور وہ اپنے شہریوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ 

وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی کی بنیادی وجہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی ہے جس کی روک تھام میں طالبان حکومت کی ناکامی دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

اس سے قبل افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی ختم نہیں کرنا چاہتا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا