شمالی کوریا نے 6.3 ارب ڈالر مالیت کی ریکارڈ کرپٹو کرنسی چوری میں ملوث ہونے کے دعوؤں کو ’مضحکہ خیز بیان بازی‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
امریکی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے ہفتے کے اختتام پر کہا تھا کہ دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس سے 6 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے ڈیجیٹل اثاثوں کی چوری میں شمالی کوریا ملوث ہے۔ اسے ممکنہ طور پر تاریخ کی سب سے بڑی مالیاتی چوری قرار دیا جا رہا ہے۔
ایف بی آئی نے ایک بیان میں کہا کہ رواں ہفتے ہونے والا سائبر حملہ ’ٹریڈر ٹریٹر‘ نامی گروہ کی ’بدنیتی پر مبنی سائبر سرگرمیوں‘ سے منسلک تھا۔ یہی گروہ گذشتہ سال بائی بٹ سے 1.5 ارب ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی چوری کرنے کے واقعے میں بھی ملوث تھا۔
ان الزامات کو پیانگ یانگ کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ’مذموم کوشش‘ قرار دیتے ہوئے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے اسے واشنگٹن کی جانب سے اپنے ملک کے خلاف دشمنی کا ثبوت قرار دیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے شمالی کوریا کے سرکاری نام ڈیموکریٹک پیپلز رپبلک آف کوریا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’ایف بی آئی شمالی کوریا کو ایک ’سائبر جرائم پیشہ ریاست‘ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور دعویٰ کر رہی ہے کہ اسے ایسی معلومات ملی ہیں جن کے مطابق شمالی کوریا کی حمایت یافتہ ہیکنگ تنظیم اس واقعے میں ملوث تھی۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’لیکن امریکہ کا یہ دعویٰ مضحکہ خیز بیان بازی ہے اور اس میں کوئی نئی بات نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا: ’یہ شمالی کوریا کے خلاف ایک سنگین سیاسی اشتعال انگیزی ہے کہ امریکہ عالمی رائے عامہ کو اس طرح گمراہ کر رہا ہے جیسے دنیا کے مختلف حصوں میں ہونے والے تمام سائبر جرائم ہماری ہی کارروائیاں ہوں۔‘
پیانگ یانگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سربراہی اجلاسوں پر مبنی سفارت کاری دوبارہ شروع کرنے کی پیشکشوں پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ امریکی الزامات کے بعد کم یو جونگ نے کہا کہ شمالی کوریا کو امریکہ کی اس دشمنی کے حوالے سے ’اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنے کے معاملات‘ درپیش ہیں۔
ایف بی آئی نے یہ بھی کہا کہ اس کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ٹریڈر ٹریٹر چوری کیے گئے اثاثوں کو بنیادی طور پر ایتھیریم نامی کرپٹو کرنسی میں تبدیل کر رہا تھا۔ ادارے کے مطابق اسے توقع ہے کہ یہ گروہ اب ڈی سینٹرلائزڈ فنانس (ڈی فائی) اور ’فوری تبادلے کی خدمات‘ کے ذریعے ان اثاثوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا۔
ٹرمپ نے ہفتے کی شب ریاست فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ مار اے لاگو میں ہالووین کی تقریب میں شرکت کے موقعے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اشارہ دیا کہ تفتیش کاروں کو ابھی تک یقین نہیں کہ شمالی کوریا اس واقعے میں ملوث ہے۔
سائبر سکیورٹی کے ماہرین کے مطابق شمالی کوریا کے ہیکرز دنیا میں کرپٹو کرنسی چوری کرنے والے سب سے زیادہ سرگرم گروہوں میں شامل ہیں اور اس سے حاصل ہونے والی رقم مشرقی ایشیائی ملک کے ہتھیاروں کے پروگراموں کی مالی معاونت کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
شمالی کوریا کرپٹو کرنسی کی چوری اور دیگر سائبر جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کرتا ہے۔
بلاک چین کے تجزیے سے متعلق ادارے ایلیپٹک نے اندازہ لگایا ہے کہ شمالی کوریا نے رواں سال 7.6 ارب ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی چوری کی ہے، جو کسی بھی سابقہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
جنوبی کوریا کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیانگ یانگ کی جانب سے فوری ردعمل کا ممکنہ سبب یہ خدشہ ہے کہ ان الزامات کے نتیجے میں اس کی آمدنی کے ذرائع کو روکنے کی کوششیں مزید سخت ہو سکتی ہیں۔
کیونگنم یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار فار ایسٹرن سٹڈیز کے پروفیسر لم ایول چول نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’پہلے سے عائد پابندیوں کے باعث کرپٹو کرنسی کی چوری شمالی کوریا کے لیے حکومت کے انتظامی اخراجات پورے کرنے اور ہتھیاروں کی تیاری کے لیے فنڈز حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔‘
اس سے قبل گذشتہ جمعرات کو ریکارڈ سائبر حملے کے بعد کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس کی سروسز بحال ہونے کے کچھ ہی دیر بعد اس کے صارفین نے 4.6 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی نکال لی تھی۔
© The Independent