سویڈن سے پرتگال تک، یورپ بھر کی سپر مارکیٹس کے ریفریجریٹرز پر سائبر حملہ

یورپی یونین نے ان حملوں کو خوراک کی ترسیل کے نظام میں خلل ڈالنے کی دانستہ کوشش قرار دیا ہے۔

فرانس کی سپر مارکیٹ میں سائبر حملے کے بعد 12  اکتوبر 2026  کو ایک خاتون کھانے پینے کی اشیا کے خالی ریفریجریٹرز کے پاس سے گزر رہی ہیں (اے ایف پی)

سویڈن سے پرتگال تک یورپ کے مختلف ممالک میں پیر کو گروسری سٹورز کے فریزر سسٹمز کو مبینہ سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا، جسے یورپی یونین نے خوراک کی ترسیل کے نظام میں خلل ڈالنے کی دانستہ کوشش قرار دیا ہے۔

اس واقعے سے کم از کم آٹھ ممالک متاثر ہوئے، جن میں بیلجیم، ایسٹونیا، فن لینڈ، آئرلینڈ، لکسمبرگ اور نیدرلینڈز کی سپر مارکیٹس شامل ہیں۔

یہ واقعہ فرانس کے گروسری اسٹورز میں بڑے پیمانے پر خلل ڈالنے والے سائبر حملے کے تین ہفتے بعد پیش آیا ہے۔

ریفریجریٹرز کا درجہ حرارت رات بھر بڑھنے کے باعث کھانے پینے کی اشیا خراب ہو گئی یا خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا، جس کے نتیجے میں ان اشیا کو پھینکنا پڑا۔

پیر کے حملوں یا 12 اکتوبر کو فرانس کے بڑے ریٹیل سٹورز پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری اب تک کسی نے قبول نہیں کی۔

فرانس میں ہونے والے حملے کے نتیجے میں بھی سینکڑوں سٹورز کو خوراک ضائع کرنا پڑی تھی۔

یورپی یونین کے کمشنر برائے خوراک و زراعت کرسٹوف ہینسن نے کہا کہ یورپی بلاک ان واقعات کو ’انتہائی سنجیدگی‘ سے لے رہا ہے اور بار بار ہونے والے سائبر حملے ’گہری تشویش‘ کا باعث ہیں۔

ہینسن نے ایک بیان میں کہا ’یہ ہماری خوراک کی فراہمی کے نظام میں خلل ڈالنے اور صارفین کے اس پر اعتماد کو کمزور کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔ یہ ایک ایسا انتباہ ہے جسے ہمیں سنجیدگی سے لینا چاہیے۔‘

بیلجیم میں، جہاں مختلف سپر مارکیٹ چینز کی درجنوں دکانوں نے نظام میں خلل کی اطلاع دی، وفاقی استغاثہ نے تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا، تاہم فی الحال اس واقعے کو سائبر حملہ قرار نہیں دیا۔

لیکن متاثرہ سپر مارکیٹ چینز میں سے کئی نے اس معاملے پر واضح مؤقف اختیار کیا۔

بیلجیم میں کیریفور کے ترجمان میخ ورگاوین نے کہا ’یہ سائبر حملہ ہے، اس کی کوئی دوسری وجہ نہیں ہو سکتی۔‘

کیریفور کی ملک میں 700 میں سے تقریباً 15 دکانوں میں نظام متاثر ہوا تھا۔

اسی طرح آئیکیا بیلجیم کی ترجمان نے بتایا کہ ملک کے جنوب مغربی شہر مونس میں واقع اس کی دکان سائبر حملے کا نشانہ بنی، جس کے باعث پیر کی علی الصبح فریزرز کا درجہ حرارت اچانک بڑھ گیا۔

’سائبر واقعہ‘

بیلجیم کی صنعتی ریفریجریشن کمپنی ’سابکوبیل‘ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس نے فرانس میں 12 اکتوبر کے حملے کے بعد اپنے تنصیبات کو محفوظ بنانے کا عمل شروع کر دیا تھا۔

تاہم اب بھی تقریباً 10 فیصد تنصیبات کی مرمت نہیں ہو سکی تھی اور ان میں سے بعض پیر کو متاثر ہونے والی دکانوں میں موجود تھیں۔

سپر مارکیٹ چینز ڈیلہائز، کولروئٹ اور انٹرمارشے نے بھی سائبر حملے کی واضح تصدیق نہیں کی۔

تاہم بیلجیم میں ان کی درجنوں دکانوں کے ریفریجریٹرز میں تکنیکی مسائل پیش آئے۔ لکسمبرگ میں ڈیلہائز کی چار دکانیں متاثر ہوئیں۔

آئرلینڈ میں سپر ویلیو کی مالک کمپنی مسگریو نے بتایا کہ اس کے 13 سٹورز ایک ’سائبر واقعے‘ سے متاثر ہوئے۔

نیدرلینڈز میں بھی چند چھوٹی دکانوں کو اس نوعیت کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

پرتگال میں موسکیٹیروس گروپ نے اے ایف پی کو تصدیق کی کہ اس کے زیر انتظام انٹرمارشے کی سات دکانوں میں سائبر حملے سے متعلق واقعات پیش آئے، جو ’بظاہر ریفریجریشن سسٹمز کے انتظام کی ذمہ دار ایک بیرونی سروس فراہم کرنے والی کمپنی کو نشانہ بنانے کی کوشش تھی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سویڈن میں سپر مارکیٹ چین کوپ نے بھی تصدیق کی کہ اس کے تقریباً 800 میں سے چھ سٹورز متاثر ہوئے۔

کوپ کے ترجمان کارلوس کانسینو نے بتایا ’ہم تصدیق کر سکتے ہیں کہ یہ ایک سائبر واقعہ تھا۔ اب مسئلہ حل ہو چکا ہے اور ریفریجریٹرز اور فریزرز معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کوپ کو معلوم نہیں کہ اس حملے کے پیچھے کون تھا، تاہم متاثرہ دکانیں 5G کے جدید نظام کی بجائے 4G موبائل نیٹ ورک سے منسلک تھیں، جس کی وجہ سے وہ ہیکرز کے لیے ’زیادہ آسان ہدف‘ بن گئیں۔

’کمزوریاں‘

سویڈن کی سپر مارکیٹ چین آئیکا نے بھی کہا کہ اس کی ’محدود تعداد‘ میں دکانوں کو ریفریجریشن کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اس نے سائبر حملے کی تصدیق نہیں کی۔

آئیکا کی ترجمان ہیلینا یوہانسون کے مطابق متاثرہ دکانیں ڈنمارک کی کمپنی ڈینفوس کے فراہم کردہ ایک بیرونی ریفریجریشن کنٹرول سسٹم سے منسلک تھیں۔

یہی کمپنی فرانس میں 12 اکتوبر کو ریٹیل سٹورز پر ہونے والے سائبر حملے میں بھی نشانہ بنی تھی۔

انہوں نے اس حوالے سے تمام سوالات ڈینفوس کو بھیج دیے، جس نے اے ایف پی کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا تاحال جواب نہیں دیا۔

فن لینڈ میں بھی کیکسکو گروپ کی ملکیت چند چھوٹے گروسری سٹورز میں درجہ حرارت میں غیر معمولی تبدیلیاں دیکھی گئیں۔

کیکسکو کے سربراہ برائے کارپوریٹ سکیورٹی پیٹری کایہکو نے بتایا: ’ہم فی الحال اس کی وجہ کی تحقیقات کر رہے ہیں اور نیٹ ورک کے ذریعے مداخلت کے امکان کو ابھی مسترد نہیں کیا گیا۔‘

فن لینڈ کی ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن ایجنسی ’ٹرافیکوم‘ کے نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر کے انفارمیشن سکیورٹی ماہر رونی کوکولا نے بھی فن لینڈ میں سائبر مداخلت کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔

انہوں نے بتایا ’ہم نے گذشتہ چند ماہ کے دوران یورپ میں اس طرح کے واقعات دیکھے ہیں، اس لیے فرانس سے دوسرے ممالک تک ان کا پھیلنا متوقع تھا۔‘

ایسٹونیا میں سرکاری نشریاتی ادارے ’ای ای آر آر‘ کے مطابق کم از کم ایک سپر مارکیٹ کو ہیکرز نے نشانہ بنایا، جنہوں نے ریفریجریشن یونٹس کا درجہ حرارت بڑھا کر 50 ڈگری سینٹی گریڈ کر دیا۔

ریفریجریشن کے جدید نظام تیار اور تقسیم کرنے والی کمپنی کٹ مین کول ٹیک کے ڈائریکٹر جان متسو نے ’ای ای آر آر‘ کو بتایا کہ یہ یونٹس ڈینفوس کے فراہم کردہ پرانے ماڈلز تھے، جو فرانس میں ہونے والے سائبر حملے میں نشانہ بنائے گئے یونٹس سے ملتے جلتے تھے۔

متسو نے کہا: ’حملے کا انداز بالکل ایک جیسا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ