برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنم نے غلاموں کی تجارت پر زر تلافی کے امکان کو مسترد کر دیا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اس میں برطانیہ کے کردار پر باضابطہ معافی مانگنے کے مطالبات سننے کے لیے ’تیار‘ ہیں۔
وزیر اعظم اگلے ہفتے کیریبین میں دولت مشترکہ کے سربراہوں حکومت کے اجلاس (چوگھم) میں شرکت کریں گے۔
ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بادشاہ نے خطے کا دورہ کیا اور کیریبین ممالک نے منافع کے لیے غلام بنائے گئے افراد کو بیچنے میں برطانیہ کے کردار پر باضابطہ معافی اور مالی ہرجانے کے اپنے مطالبات کو دہرایا ہے۔
سربراہ اجلاس سے قبل اینڈی برنم نے بحر اوقیانوس کے پار غلاموں کی تجارت کے باعث ہونے والے مصائب پر اپنے ذاتی ’دکھ اور افسوس‘ کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ متاثرین کے ساتھ ’باضابطہ بات چیت‘ کی پیشکش کرنا چاہتے ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔
اخبار دا گارڈین میں لکھتے ہوئے انہوں نے کہا ’مستقبل کے لیے دولت مشترکہ کو محفوظ بنانے کی خاطر یہ مشکل بات چیت کرنا ایک درست اقدام ہے۔ یہ حب الوطنی کا تقاضہ بھی ہے۔
’صرف اس لیے نہیں کہ یہ ہمارے مفادات میں ہے، بلکہ کیوں کہ جس برطانیہ پر میرا یقین ہے وہ پر اعتماد، شائستہ اور بہادر ہے۔ ہم نے غلامی کے خاتمے میں دنیا کی قیادت کی تھی، اور آج ہم دوبارہ یہ قیادت دکھا سکتے ہیں۔‘
انہوں نے اس تجارت کو لوگوں کے حقوق کی ’وحشیانہ اور ظالمانہ خلاف ورزی‘ قرار دیا جن کے ساتھ ’جائیداد جیسا سلوک کیا گیا اور مرتے دم تک ان سے کام لیا گیا۔‘
انہوں نے لکھا ’میں کروڑوں لوگوں کے درد اور تکالیف پر اپنے دکھ اور افسوس کا اظہار کرنا چاہتا ہوں اور اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ اس کے اثرات آج بھی ہماری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔‘
وزیر اعظم نے کہا ’ہم بحر اوقیانوس کے پار غلاموں کی تجارت سے متاثر ہونے والوں کے ساتھ منظم بات چیت کی پیشکش کر رہے ہیں۔
’برطانوی سٹیٹ کی جانب سے باضابطہ معافی کے مطالبات سننا اس عمل کا ایک اہم حصہ ہو گا اور میں انہیں سننے کے لیے تیار ہوں۔‘
اپنے پیشروؤں کی پالیسی پر قائم رہتے ہوئے، انہوں نے زر تلافی کی ادائیگی پر غور کرنے کی کوئی پیشکش نہیں کی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’کچھ لوگوں نے غلاموں کی تجارت پر مالی ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ میرا نہیں خیال کہ یہ درست حل ہے۔‘
'میرا نہیں ماننا کہ آج کے برطانوی عوام کو ان تاریخی غلطیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے، چاہے وہ کتنی ہی گھناؤنی کیوں نہ ہوں، جو ایک مختلف دور میں مختلف قوانین کے تحت ہوئیں اور جن میں ان کا کوئی ذاتی کردار نہیں تھا۔‘
اس کی بجائے انہوں نے کہا کہ وہ قرضوں کی ادائیگی کے حوالے سے ایک مہم شروع کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ ممالک بہتر شرحوں کے ساتھ طویل عرصے میں اپنے قرضے ادا کر سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چانسلر جان ہیلی، سیکرٹری خارجہ ایڈ ملی بینڈ اور سابق وزیر اعظم گورڈن براؤن اس کام میں مدد کے لیے سربراہی اجلاس میں ان کے ہمراہ ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی میں دیگر ممالک کی مدد کرے گا اور عالمی سطح پر چھوٹے ممالک کی آواز پہنچانے میں بھی ان کا ساتھ دے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، اور غربت اور عدم مساوات سے نمٹنے کے کاموں میں بھی تعاون کیا جائے گا۔
© The Independent