خیبر پختونخوا کے ضلع مہمند میں ریسکیو حکام کے مطابق منگل کو پولیو مہم کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار جان سے گئے جبکہ ایک زخمی ہے۔
یہ واقعہ مہمند کی تحصیل پنڈیالی کے علاقے تمازئی میں اس وقت پیش آیا جب انسداد پولیو مہم کے سلسلے میں ٹیم وہاں موجود تھی۔
پاکستان میں 2 نومبر سے انسداد پولیو مہم کا آغاز کیا گیا ہے جس کے تحت خیبر پختونخوا کے 27 اضلاع میں پولیو حکام کے مطابق 45 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔
ریسکیو 1122 مہمند کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار، سپاہی ظہور اور سپاہی فضل ربی جان سے گئے جبکہ سپاہی صابر زخمی ہوئے۔
ترجمان ریسکیو 1122 عبد اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ریسکیو ٹیم ہسپتال میں موجود ہے، جہاں زخمی پولیس اہلکار کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے واقعے کی مذمت کی گئی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیو مہم کے دوران پولیس ٹیم کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت اقدام ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ’ملک و قوم کے تحفظ اور بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔‘
انہوں نے کہا کہ پولیو ٹیموں اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانا نہ صرف امن و امان بلکہ بچوں کے روشن اور محفوظ مستقبل پر بھی حملہ ہے۔
ٹانک میں پولیو ورکرز اغوا
اسی طرح ایک دوسرے واقعے میں ضلع ٹانک میں پولیس کے مطابق پولیو مہم میں مصروف چار پولیو ورکرز کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری بیان میں مغویوں کی باحفاظت بازیابی کے لیے فوری اور موثر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں بتایا کہ پولیو ٹیموں کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔