خبر کی تلاش میں خطرہ مول لینے والے صحافیوں کی حفاظت کون کرے گا؟

سکیورٹی آپریشن، مظاہرے یا حساس واقعے کی کوریج سمیت فیلڈ میں کام کرنے والوں کو اپنی حفاظت کا مسئلہ درپیش ہے۔

پاکستان میں صحافیوں کو رپورٹنگ کے دوران مختلف نوعیت کے خطرات کا سامنا رہتا ہے۔ کسی علاقے میں سکیورٹی آپریشن یا مسلح تصادم کی کوریج کرنا ہو، کوئی احتجاجی مظاہرہ ہو یا کسی حساس واقعے کی رپورٹنگ، فیلڈ میں کام کرنے والے صحافیوں کو اپنی حفاظت کا اہم مسئلہ درپیش ہے۔

 تاہم کئی صحافی ایسے ہیں جن کے پاس بلٹ پروف جیکٹ، ہیلمٹ اور دیگر بنیادی حفاظتی سامان بھی موجود نہیں ہوتا جب کہ بعض میڈیا ادارے اپنے عملے کو یہ سہولیات فراہم کرتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں رپورٹنگ کرنے والے فری لانس صحافی اسلام گل آفریدی بھی ان صحافیوں میں شامل ہیں جنہیں فیلڈ میں کام کے دوران کسی حفاظتی کٹ کی سہولت میسر نہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔

’بغیر حفاظتی سامان کے فرنٹ لائن پر کام کرتے ہیں‘

اسلام گل آفریدی کے مطابق وہ اور ان جیسے کئی دوسرے صحافی ایسے علاقوں میں رپورٹنگ کرتے ہیں جہاں سکیورٹی صورت حال غیر یقینی رہتی ہے، لیکن ان کے پاس بلٹ پروف جیکٹ یا ہیلمٹ جیسے حفاظتی آلات موجود نہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے حکومتی سطح پر، صحافتی تنظیموں اور میڈیا اداروں کی جانب سے اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق صرف حفاظتی سامان کی فراہمی ہی کافی نہیں بلکہ صحافیوں کو اس کے درست استعمال اور خطرات سے نمٹنے کے لیے تربیت بھی دی جانی چاہیے۔

اسلام گل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’ان جیسے کئی صحافی حفاظتی آلات کے بغیر فرنٹ لائن پر کام کر رہے ہیں، اس لیے متعلقہ اداروں کو ان کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہییں۔‘

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

حفاظتی کٹس صرف تنازعے والے علاقوں کے لیے نہیں

فریڈم نیٹ ورک پاکستان میں قائم ایک آزاد میڈیا واچ ڈاگ اور صحافتی حقوق کے لیے کام کرنے والا ادارہ ہے۔

یہ ادارہ آزادیٔ صحافت، صحافیوں کی حفاظت اور میڈیا کے خلاف ہونے والی خلاف ورزیوں کی نگرانی کرتا ہے، جب کہ ان مسائل پر تحقیق اور آگاہی کے لیے بھی کام کرتا ہے۔

 فریڈم نیٹ ورک پاکستان کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اقبال خٹک نے بتایا کہ صحافیوں کے لیے حفاظتی کٹس کی ضرورت صرف ان علاقوں تک محدود نہیں جہاں مسلح تصادم یا سکیورٹی آپریشن جاری ہوں۔

 ان کے مطابق شہروں میں رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو بھی مختلف حالات میں خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے، اس لیے انہیں بھی حفاظتی سامان تک رسائی ہونی چاہیے۔

اقبال خٹک نے کہا کہ ’پاکستانی میڈیا اداروں کو اپنے صحافیوں کی حفاظت کے معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور فیلڈ میں کام کرنے والے عملے کے لیے ضروری حفاظتی انتظامات کرنے چاہییں۔‘

فریڈم نیٹ ورک کی 29 اکتوبر کو جاری ہونے والی سالانہ امپیونٹی رپورٹ 2026 کے مطابق اکتوبر 2025 سے اگست 2026 کے دوران پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا سے وابستہ افراد کے خلاف 97 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔

 رپورٹ میں ایک صحافی کا پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے قتل، تین قاتلانہ حملوں کی کوششیں، قتل یا جسمانی نقصان کی 18 دھمکیاں، تشدد کے 11 واقعات، 13 قانونی کارروائیاں اور قانونی کارروائی کی 32 دھمکیاں شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق خلاف ورزیوں کی مجموعی تعداد میں گزشتہ مانیٹرنگ مدت کے مقابلے میں کمی آئی، تاہم ادارے نے خبردار کیا کہ واقعات کی نوعیت اور ملک بھر میں ان کے پھیلاؤ سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ صحافی پہلے سے زیادہ محفوظ ہو گئے ہیں۔

میڈیا اداروں کی ذمہ داری کیا ہے؟

فریڈم نیٹ ورک کی 22 اکتوبر کو جاری ہونے والی ایک اور رپورٹ میں صحافیوں کے تحفظ سے متعلق وفاقی اور سندھ کے کمیشنوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے لیے سندھ کے تقریباً 40 صحافیوں سے آن لائن سروے بھی کیا گیا۔

سروے میں شامل 51 فیصد صحافیوں نے بتایا کہ ان کے میڈیا اداروں نے انہیں حفاظتی طریقۂ کار، ہنگامی رابطوں، انشورنس، قانونی معاونت یا شکایت درج کرانے کے طریقوں کے بارے میں آگاہ نہیں کیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے صرف قوانین اور کمیشن قائم کرنا کافی نہیں بلکہ ان کی مدد کے لیے مؤثر نظام اور میڈیا اداروں کا تعاون بھی ضروری ہے۔

یہ اعداد و شمار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ صحافیوں کی حفاظت کے معاملے میں ادارہ جاتی انتظامات کی اہمیت برقرار ہے۔ خاص طور پر ان صحافیوں کے لیے جو احتجاج، سکیورٹی کارروائیوں یا دیگر حساس حالات کی کوریج کرتے ہیں، حفاظتی سامان کے ساتھ اس کے استعمال کی تربیت بھی ضروری ہے۔

حفاظتی سامان فیلڈ میں کس طرح مدد دیتا ہے؟

بین الاقوامی میڈیا اداروں کے ساتھ کام کرنے والے ویڈیو جرنلسٹ معاذ طارق ان صحافیوں میں شامل ہیں جنہیں ان کے ادارے کی جانب سے فیلڈ رپورٹنگ کے دوران حفاظتی سامان فراہم کیا جاتا ہے۔

معاذ طارق نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’جب مجھے کسی احتجاج یا ایسی کوریج کے لیے جانا ہو جہاں خطرے کا امکان ہو تو وہ روانگی سے پہلے اپنی گاڑی میں ہیلمٹ، جیکٹ اور ماسک رکھتا ہوں۔‘

 ان کے مطابق وہ کسی ناخوشگوار واقعے کے امکان سے قطع نظر حفاظتی سامان ساتھ رکھتے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر اسے استعمال کر سکیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ میں رپورٹنگ شروع کرنے سے پہلے اپنی حفاظت کا خیال رکھنا ضروری ہے، کیونکہ صحافی کی اپنی سلامتی ہی اسے بہتر انداز میں کوریج جاری رکھنے کے قابل بناتی ہے۔

معاذ طارق کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ حفاظتی سامان صرف کسی واقعے کے بعد استعمال کرنے کی چیز نہیں بلکہ حساس کوریج پر روانہ ہونے سے پہلے کی تیاری کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں صحافیوں کی حفاظت کا معاملہ صرف خطرناک علاقوں تک محدود نہیں۔ مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں، ہجوم اور دیگر حساس واقعات کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی بھی خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

 ایسے میں حفاظتی کٹس کی دستیابی، ان کے استعمال کی تربیت اور میڈیا اداروں کی جانب سے واضح حفاظتی طریقۂ کار فیلڈ میں کام کرنے والے صحافیوں کے تحفظ کے لیے اہم ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان