امریکہ میں جنسی مقاصد کے لیے بچوں سے ملنے کے خواہش مند بالغ افراد کے خلاف خفیہ آپریشن کے نتیجے میں 280 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن میں ڈزنی لینڈ اور یونیورسل سٹوڈیوز سمیت فلوریڈا کے تھیم پارکس میں کام کرنے والے 17 افراد بھی شامل ہیں۔
پوک کاؤنٹی شیرف آفس کے مطابق ’پوک اراؤنڈ اینڈ فائنڈ آؤٹ ٹو‘ نامی اس سات روزہ آپریشن کی قیادت فلوریڈا کی پوک کاؤنٹی کے حکام نے کی، جس میں غیر قانونی اور تجارتی جنسی سرگرمیوں کے لیے بچوں سے ملنے کی غرض سے سفر کرنے والے ملزمان کو نشانہ بنایا گیا۔
حکام نے 488 الزامات کے تحت 281 افراد کو گرفتار کیا، جن میں 198 سنگین جرائم شامل ہیں۔ گرفتار ہونے والوں پر مجموعی طور پر پہلے سے 798 مجرمانہ الزامات تھے۔ حکام نے یہ بھی بتایا کہ 24 ملزموں کے پاس آتشیں اسلحہ تھا اور 32 پر منشیات رکھنے کا الزام عائد کیا گیا۔
فلوریڈا کے اٹارنی جنرل جیمز اوتھمیئر نے جمعے کو نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ’جو لوگ بچے کے جنسی استحصال کی توقع کے ساتھ پوک کاؤنٹی آئے تھے انہیں اس کی بجائے ہتھکڑیاں ملیں۔‘
ڈبلیو ڈبلیو ایس بی کے مطابق، شیرف کے دفتر نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے افراد میں سے 17 فلوریڈا کے تھیم پارکس میں کام کرتے تھے۔
رپورٹ کے مطابق، ڈزنی نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس نے گرفتاریوں سے منسلک ملازمین کو نوکری سے نکال دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، پوک کاؤنٹی کے شیرف گریڈی جڈ نے جمعے کو بتایا کہ انہیں ابھی تک یونیورسل کی جانب سے گرفتار ہونے والے کارکنوں کی ملازمت کی صورت حال کے بارے میں کوئی تازہ اطلاع نہیں ملی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حکام نے بتایا کہ گرفتار افراد میں سے 40 پوک کاؤنٹی کے رہائشی ہیں جب کہ باقی فلوریڈا کے علاوہ 20 دیگر ریاستوں اور 18 ممالک سے آئے تھے۔
حکام نے بتایا کہ غیر قانونی جنسی سرگرمی کے لیے کسی نابالغ سے ملنے کے غرض سے سفر کرنا دوسرے درجے کا سنگین جرم ہے، جس کی سزا فلوریڈا ڈیپارٹمنٹ آف کریکشنز میں 15 سال تک قید ہو سکتی ہے۔
گرفتار افراد میں کیوبا، وینزویلا، میکسیکو اور ہیٹی سمیت دیگر ممالک کے 32 ایسے تارکین وطن بھی شامل ہیں جو ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔ 16 افراد کو امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
گریڈی جڈ نے بتایا کہ تفتیش کار اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا گرفتار افراد میں سے ایک کے حوالے سے مزید بچے تو نشانہ نہیں بنے، جو حکام کے مطابق یوتھ فٹ بال کوچ تھا۔
ملزموں سے تفتیش جاری ہے۔
© The Independent