صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قدامت پسند ٹی وی مبصر کیٹی زکریا کو وائٹ ہاؤس کی نئی پریس سیکریٹری مقرر کرنے کے اعلان کے ٹھیک ایک ہفتے بعد عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔
ان کی برطرفی سے قبل پہلی بریفنگ میں ان کی مایوس کن کارکردگی سامنے آئی تھی، جس کے بعد کئی روز تک اس حوالے سے بھی سوالات اٹھتے رہے کہ آیا انہوں نے وکالت کرنے کا لائسنس رکھنے کے بارے میں جھوٹ بولا تھا۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی کہ کیٹی زکریا کو ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس سے روانہ ہونے کے کچھ ہی لمحوں بعد برطرف کر دیا گیا تھا۔ امریکی صدر فلوریڈا میں اپنے مار اے لاگو گھر پر ویک اینڈ گزارنے سے قبل جارجیا میں ریلی کے لیے جا رہے تھے۔
صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے صدر نے شکایت کی کہ ترجمان کے عہدے کے لیے ان کی اپنی منتخب کردہ کیٹی زکریا کے ساتھ میڈیا نے ’بہت، بہت برا اور انتہائی غیرمنصفانہ‘ سلوک کیا۔
انہوں نے گذشتہ رات اپنے قریبی دوست اور فاکس نیوز کے میزبان شان ہینیٹی کے سخت سوالوں کا بھی حوالہ دیا۔ صدر نے کہا کہ انہوں نے کیٹی زکریا سے اس بارے میں بات کی ہے کہ آیا وہ میڈیا کی اتنی سخت جانچ پڑتال کے باوجود اس عہدے پر رہنا چاہتی ہیں؟
ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا: ’میں نے ابھی دو منٹ پہلے ہی کیٹی سے کہا کہ دیکھیں، آپ کے لیے یہ کام کرنا ضروری نہیں ہے۔ میڈیا نے ان کے ساتھ اتنا برا سلوک کیا ہے کہ میں نے پہلے کبھی ایسا نہیں دیکھا۔ میں نے ان سے صاف کہا کہ اگر میں آپ کی جگہ ہوتا تو اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرتا۔ آپ اس بارے میں سوچ لیں، لیکن میں خود دوبارہ غور نہ کرتا۔ ان کے شوہر اور گھر والے بہت اچھے ہیں۔ شاید یہ کام ان کے لیے نہیں ہے۔‘
کیٹی زکریا عہدہ سنبھالنے سے برطرفی تک صرف پانچ دن ہی کام کر سکیں۔ یوں انہوں نے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری یا ڈائریکٹر کمیونی کیشنز کے عہدے پر سب سے کم عرصہ رہنے کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔ یہ مدت ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں قائم ہونے والے 11 دن کے ریکارڈ سے بھی آدھی سے کم ہے۔
President Trump is a kind, wonderful, gracious, thoughtful, enthusiastic, and hardworking man. I wish more Americans appreciated him. No one will ever make America great the way he has and continues to. It was an honor to work for him. https://t.co/Tp4NizrhE2
— Katie Zacharia (@KatieZacharia) October 17, 2026
اس سے پہلے یہ ریکارڈ ہیج فنڈ منیجر انتھونی سکاراموچی کے پاس تھا۔ ٹرمپ نے جولائی 2017 میں انہیں اپنا ڈائریکٹر کمیونی کیشنز مقرر کیا تھا، لیکن صرف 11 دن بعد برطرف کر دیا۔
اس دوران انہوں نے صرف ایک پریس بریفنگ دی تھی۔ برطرفی سے پہلے انہوں نے جریدے نیویارکر کے ایک صحافی کو انٹرویو دیا تھا، جس میں گالم گلوچ کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے دیگر اعلیٰ معاونین کو برا بھلا کہا تھا۔
سکاراموچی کا نام اب مذاق میں ٹھیک 11 دن کی مدت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنا یہ بدنام زمانہ ریکارڈ ٹوٹنے پر ایکس پر لکھا: ’ریکارڈ بنتے ہی ٹوٹنے کے لیے ہیں، لیکن مجھے دوسروں کی تکلیف سے کوئی خوشی نہیں ہوتی۔‘
ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ وہ مستقبل میں کیٹی زکریا سے کیا چاہتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا: ’میں بس چاہتا ہوں کہ وہ خوش رہیں۔‘
جب مزید پوچھا گیا کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ کیٹی زکریا اس عہدے پر برقرار رہیں، جس پر انہوں نے پیر کو کام شروع کیا تھا، تو ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ واشنگٹن واپس پہنچ کر وہ ان سے بات کریں گے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ کیٹی زکریا کو ’بہت‘ پسند کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ’میں چاہتا ہوں کہ وہ اچھی زندگی گزاریں۔ میں نہیں چاہتا کہ ان کی زندگی ویسی ہو جیسی گذشتہ تین دن رہی ہے۔ میڈیا انہیں بری طرح نشانہ بنا رہا ہے۔ میرے خیال میں یہ انتہائی غیرمنصفانہ ہے، لیکن میڈیا نے ان کے ساتھ بہت برا سلوک کیا ہے۔ واپس پہنچ کر ہم بات کریں گے، کیوں کہ میرے خیال میں کیٹی کو اس طرح تکلیف میں مبتلا نہیں رہنا چاہیے، جس طرح وہ اس وقت ہیں۔‘
اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اس فیصلے سے واقف چار افراد کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ نے اپنی چیف آف سٹاف سوزی وائلز سے مشورہ کیے بغیر کیٹی زکریا سے یہ عہدہ سنبھالنے کے لیے رابطہ کیا تھا۔
اس کے بعد یہ چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں کہ وائلز کی رخصتی ہونے والی ہے۔ وہ طویل عرصے سے ٹرمپ کی بااعتماد اعلیٰ معاون ہیں اور ان کے دور میں اس عہدے پر سب سے زیادہ عرصے تک رہنے والی شخصیت بھی ہیں۔ ان چہ میگوئیوں نے ٹرمپ کو بھڑکا دیا اور وائٹ ہاؤس میں اقتدار کی کشمکش بھی شروع ہو گئی۔
صدر نے زکریا کے اپنی مرکزی ترجمان کے عہدے پر برقرار نہ رہنے کا اشارہ ایک ایسے ہفتے کے بعد دیا، جو اس قدامت پسند کارکن کے لیے انتہائی خراب رہا۔ زکریا نے ابتدا میں فاکس نیوز، نیوز میکس اور دائیں بازو کے دیگر ٹی وی چینلوں پر بار بار آ کر ٹرمپ کی توجہ حاصل کی تھی۔ وہ اکثر ایسے اوقات میں ان پروگراموں میں شریک ہوتی تھیں جب ان کے خیال میں ٹرمپ ٹی وی دیکھ رہے ہوتے تھے۔
Thank you to President Trump for the distinguished privilege of serving as White House Press Secretary. Serving President Trump and the American people at this critical 250-year mark is the honor of a lifetime. President Trump has shown America that we can be great again, and he works to effectuate that greatness every single day. His confidence is a true privilege, and his leadership is a blessing to this country. The work ahead is to continue delivering strong results for our Country and communicating to the American people the major wins that this Administration is making every single day. I look forward to working with the White House press corps, and with reporters across the country, to get that record out. Following the fabulous Karoline Leavitt is a high standard, and one worth meeting. God bless President Trump, and God bless America.
— Katie Zacharia (@KatieZacharia) October 9, 2026
کیٹی زکریا نے پیر کو باضابطہ طور پر کام شروع کیا۔ اس سے تین دن پہلے ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ان کی تقرری کا اعلان کیا تھا۔ اگلے ہی دن انہوں نے اچانک اپنی پہلی پریس بریفنگ کی۔ وائٹ ہاؤس کے بریفنگ روم میں ان کی یہ پہلی پیشی صرف 14 منٹ جاری رہی، جس پر صحافی حیران رہ گئے۔
نئی اور ناتجربہ کار ترجمان نے 14 منٹس میں سے آٹھ منٹ پہلے سے لکھا ہوا بیان اٹک اٹک کر پڑھنے میں گزار دیے۔ اس کے بعد انہوں نے قدامت پسندوں کی طرف جھکاؤ رکھنے والے تین میڈیا اداروں کے آسان سوالوں کے جواب دیے۔
اس دوران وہ صدر اور اپنے شوہر کا ذکر کرتے ہوئے گڑبڑا گئیں اور یونان میں امریکہ کی سفیر کمبرلی گلفوئل کو برطرف کرنے کا اعلان بھی کر دیا۔ پھر وہ جلدی سے وہاں سے چلی گئیں۔
اس وقت وائٹ ہاؤس کے حکام نے کہا تھا کہ صدر کو اب بھی ان پر اعتماد ہے۔ تاہم، پہلی بریفنگ میں ان کی گھبراہٹ اور گڑبڑ سے ہونے والی شرمندگی کا معاملہ جلد ہی پس منظر میں چلا گیا اور یہ سوال اٹھنے لگا کہ کیا انہوں نے اپنے پس منظر اور قانونی اہلیت کے بارے میں جھوٹ بولا تھا۔
Trump's new White House Press Secretary Katie Zacharia is completely lost for words and fumbling on her first day as she reads off a script https://t.co/58fMuVbvDg
— Headquarters (@HQNewsNow) October 13, 2026
پیپرڈائن یونیورسٹی کے لا سکول سے فارغ التحصیل زکریا وائٹ ہاؤس میں تقرر سے پہلے متعدد ٹی وی پروگراموں میں خود کو ’لائر‘ یا ’اٹارنی‘، یعنی وکیل، بتاتی رہی تھیں۔
لیکن منگل کو جب وہ اپنی پہلی بریفنگ کی تیاری کر رہی تھیں تو ’پاپولر انفارمیشن‘ کے مصنف جڈ لیگم نے خبر دی کہ ان کے پاس امریکہ کی کسی بھی ریاست میں وکالت کا لائسنس نہیں ہے۔ بعض ریاستوں میں لائسنس کے بغیر خود کو ’لائر‘ یا ’اٹارنی‘ کہنا جرم ہے۔
ابتدا میں انہوں نے ان سوالوں کو یہ کہہ کر ٹالنے کی کوشش کی کہ قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد چین کی ایک فرم میں اپنی پہلی ملازمت کے لیے انہیں وکالت کے لائسنس کی ضرورت نہیں تھی۔
بعد میں وال سٹریٹ جرنل نے خبر دی کہ وہ کیلی فورنیا میں وکالت کے لائسنس کا امتحان پاس نہیں کر سکی تھیں اور انہوں نے دوبارہ کبھی یہ امتحان نہیں دیا۔ اس کے باوجود وہ گذشتہ مارچ سے اب تک 18 ٹی وی پروگراموں میں خود کو وکیل بتا چکی تھیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس غلط بیانی پر فاکس نیوز کے میزبان شان ہینیٹی نے بھی گذشتہ رات اپنے نام سے نشر ہونے والے پروگرام میں زکریا سے سخت سوال کیے۔
ہینیٹی نے کہا: ’آپ نے اپنے وکیل ہونے کے معاملے پر اٹھنے والے سوالوں کو سازشی نظریہ قرار دیا تھا۔ آپ نے پیپرڈائن سے تعلیم حاصل کی ہے۔ پیپرڈائن ایک اچھا تعلیمی ادارہ ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ آپ نے وکالت کا امتحان دیا، لیکن آپ اسے پاس نہیں کر سکیں۔ درست؟‘
اس کے بعد فاکس نیوز کے میزبان نے اصرار سے پوچھا کہ کیا انہوں نے دوسری بار امتحان دیا تھا، لیکن پریس سیکریٹری اپنی شادی اور چین منتقل ہونے کی تفصیل بیان کرنے لگیں۔
ہینیٹی نے پوچھا: ’ٹھیک ہے، لیکن میں آپ سے ایک واضح سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ آپ کی کہانی کا یہ حصہ مجھے معلوم ہے اور آپ نے یہ سب کیا بھی تھا، لیکن کیا آپ نے کبھی دوسری یا تیسری بار وکالت کا امتحان دیا؟‘
زکریا نے تسلیم کیا: ’نہیں شان، میں نے دوبارہ امتحان نہیں دیا۔‘
اس پر ہینیٹی نے پوچھا: ’آپ سیدھا یہ کیوں نہیں کہہ دیتیں کہ میں نے پیپرڈائن لا سکول سے تعلیم حاصل کی اور پھر کسی دوسرے شعبے میں چلی گئی؟ لائر اور اٹارنی کے فرق پر اتنی لمبی بحث میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے؟‘
کیٹی زکریا نے کہا کہ انہوں نے کبھی کسی کو قانونی مشورہ نہیں دیا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ٹی وی پروگراموں میں خود کو وکیل کہنے کے بارے میں انہوں نے قانونی ماہرین سے مشورہ کیا تھا۔
اگلی صبح ’فاکس اینڈ فرینڈز‘ میں کیٹی زکریا نے یہ کہہ کر بظاہر ذمہ داری صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ڈال دی کہ ٹرمپ انتظامیہ میں کسی نے بھی ان سے ان کی قانونی اہلیت کے بارے میں نہیں پوچھا تھا۔ ان کے اس بیان سے تقرری سے پہلے ان کے پس منظر اور اہلیت کی جانچ پڑتال کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھ گئے۔
© The Independent