پاکستان کی آئل ریفائنریوں نے اتوار کو خبردار کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمتوں کے تعین کے قواعد میں حالیہ تبدیلی سے ملک کے ریفائننگ سیکٹر کو جدید بنانے کے چھ ارب ڈالر کے منصوبے کو خطرہ لاحق ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے اور ریفائنریوں کے لیے اپنا کام جاری رکھنا مالی طور پر ناقابل عمل ہو سکتا ہے۔
وزارت پیٹرولیم نے جمعے کو ریفائنریوں کو ہدایت دی کہ وہ سات مارچ کے معیار پر مبنی فارمولے کے تحت قیمتوں کا فرق حکومت کے حوالے کریں۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
صنعتی شعبے کے تخمینوں کے مطابق اس اقدام سے مقامی طور پر تیار ہونے والے پٹرول پر فی لیٹر 49 روپے (0.18 ڈالر) تک کا اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔
ریفائنریوں کا کہنا ہے کہ 30 اکتوبر کو تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بغیر کیا گیا یہ فیصلہ براؤن فیلڈ ریفائنریز اپ گریڈیشن پالیسی کے تحت حکومت کی یقین دہانیوں کو نقصان پہنچاتا ہے جبکہ کمپنیاں بڑے پیمانے پر جدیدکاری کے منصوبوں کے لیے مالی وسائل کے حصول کی خاطر مذاکرات کر رہی ہیں۔
اٹک ریفائنری لمیٹڈ (اے آر ایل) کے چیف ایگزیکٹیو افسر عادل خٹک نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’اس سے زیادہ نامناسب وقت پر یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا ’ریفائنریاں اس وقت مقامی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ وسیع پیمانے پر مذاکرات کر رہی ہیں تاکہ ان منصوبوں کے لیے درکار خطیر مالی وسائل حاصل کیے جا سکیں۔
’پاکستان کے صنعتی شعبے میں یہ منصوبے اپنی تکنیکی پیچیدگی اور سرمایہ کاری کے حجم، دونوں اعتبار سے غیر معمولی ہیں۔‘
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ سرکاری ہدایت نامے، جس کی نقل عرب نیوز نے دیکھی ہے، میں چھ ریفائنریوں کو قیمتوں کے نظرثانی شدہ فارمولے پر فوری عمل درآمد کا حکم دیا گیا ہے۔
ان میں پاک عرب ریفائنری لمیٹڈ (پارکو)، پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (پی آر ایل)، اٹک ریفائنری لمیٹڈ (اے آر ایل)، نیشنل ریفائنری لمیٹڈ (این آر ایل)، سنرجیکو پی کے اور اینار شامل ہیں۔
اس اقدام کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں میں پیدا ہونے والے تعطل کے نتیجے میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے صارفین کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
عارضی انتظام کے تحت اگرچہ عوام کے لیے پٹرول کی قیمتیں پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) کی حالیہ درآمدات کی اصل لاگت کے مطابق مقرر ہوں گی، تاہم مقامی ریفائنریوں کو ریفائنری سے فروخت کی قیمتوں کا حساب سات مارچ کو جنگ سے پہلے نافذ پریمیم، اضافی اخراجات اور کسٹمز ڈیوٹی کی شرحوں کی بنیاد پر لگانا ہوگا۔
اس انتظام کے تحت ریفائنریوں کو قیمتوں میں حاصل ہونے والا کوئی بھی مثبت فرق پیٹرولیم لیوی کے ذریعے حکومت کے حوالے کرنا ہو گا، جس کا مطلب ہے کہ اس فرق کا مالی بوجھ ریفائنریاں خود برداشت کریں گی۔
صنعتی شعبے کے عہدے داروں کا تخمینہ ہے کہ اس انتظام کے نتیجے میں ریفائنریوں کو بنیادی قیمتوں میں ردوبدل کے ذریعے فی لیٹر تقریباً 35 روپے (0.13 ڈالر) اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں حاصل ہونے والی رقوم دوسری طرف منتقل کیے جانے کے باعث مزید 14 روپے (0.051 ڈالر) کا نقصان ہوگا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پاکستان کا ریفائننگ سیکٹر طویل عرصے سے زیرِ التوا جدیدکاری کے پروگرام کی تیاری کر رہا ہے۔
برسوں کی پالیسی تاخیر کے بعد چار ریفائنریوں نے 24 ستمبر کو اپ گریڈیشن کے معاہدوں پر دستخط کیے تھے، تاہم پارکو نے تاحال یہ معاہدہ نہیں کیا۔
خٹک نے نشاندہی کی کہ ماضی میں ضابطہ جاتی تاخیر کے باعث قومی معیشت کو سالانہ تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
ریفائننگ کے شعبے کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ کمپنیاں اس سے پہلے بھی قیمتوں میں استحکام لانے کی کوششوں میں مدد کے لیے ہائی سپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کے ریفائننگ منافع کی حد دو مرتبہ مقرر کرنے پر رضامند ہو چکی ہیں۔
پہلے یہ حد 41.89 ڈالر اور بعد ازاں 38 ڈالر فی بیرل مقرر کی گئی تھی۔
خٹک نے کہا ’یہ فیصلہ براؤن فیلڈ ریفائنریز اپ گریڈیشن پالیسی کی بنیاد ہی کو متاثر کرتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا ’پالیسی میں واضح طور پر لازم قرار دیا گیا ہے کہ 10 فیصد کسٹمز ڈیوٹی سے حاصل ہونے والی رقم ریفائنریوں کے مخصوص اکاؤنٹس میں جمع کرائی جائے تاکہ جدیدکاری کے اخراجات کا کچھ حصہ پورا کیا جا سکے۔
’ان رقوم کو دوسرے مقاصد کے لیے منتقل کرنا اس شق کے بنیادی مقصد کو ناکام بنا دیتا ہے۔‘
پاکستان کے پیٹرولیم ڈویژن اور وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
حکام اس سے پہلے قیمتوں کے تعین میں حکومتی مداخلت کا دفاع کرتے ہوئے اسے منڈی میں ناجائز منافع خوری روکنے اور عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے اثرات سے صارفین کو بچانے کے لیے ضروری اقدام قرار دے چکے ہیں۔
صنعتی شعبے کے عہدے داروں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر مشاورت کرے، ٹیرف کے ذریعے فراہم کردہ تحفظ بحال کرے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپ گریڈیشن کے نظام کے تحت کیے گئے وعدے پورے کرے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ قیمتوں کا نظرثانی شدہ طریقۂ کار ملک میں ریفائنریوں کے لیے کام جاری رکھنا مالی طور پر ناقابلِ عمل بنا سکتا ہے۔
سنرجیکو پی کے لمیٹڈ کے وائس چیئرمین اسامہ قریشی نے کہا ’اگر ان فیصلوں پر نظرثانی نہ کی گئی تو بالآخر ریفائنریاں اپنی پیداوار محدود کرنے یا حتیٰ کہ بند کرنے پر مجبور ہو سکتی ہیں، جس سے پاکستان کا درآمدی پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار مزید بڑھ جائے گا۔‘
قریشی نے سعودی عرب، قطر اور امریکہ سے غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کی اسلام آباد کی کوششوں اور ایسے ملکی ضابطہ جاتی اقدامات کے درمیان تضاد کی نشاندہی کی جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا ’ہم صارفین کو تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت کو پوری طرح تسلیم کرتے ہیں لیکن قلیل مدتی ریلیف کی قیمت ملکی ریفائننگ کی صلاحیت تباہ کرنے، توانائی کے تحفظ کو خطرے میں ڈالنے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچانے کی صورت میں نہیں چکائی جانی چاہیے۔‘
صنعت کے دیگر عہدے داروں نے بھی ان خدشات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ریفائنریوں کو عالمی منڈی میں جنگ کے بعد کی موجودہ قیمتوں پر خام تیل خریدنے اور اس سے تیار ہونے والی مصنوعات جنگ سے پہلے کی قیمتوں پر فروخت کرنے پر مجبور کرنا ایک غیر متوازن صورتِ حال پیدا کرتا ہے۔
نیشنل ریفائنری لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹیو اسد حسن نے کہا ’حکومت کی جانب سے عوام کے لیے قیمتیں کم رکھنے کی خواہش بالکل قابلِ فہم ہے اور صنعت اس کی قدر بھی کرتی ہے اور حمایت بھی۔‘
انہوں نے مزید کہا ڈیزل کے منافع کی حد مقرر کرنے پر رضامندی ظاہر کر کے ریفائنریاں 100 ارب روپے (361 ملین ڈالر) سے زیادہ کا حصہ ڈال چکی ہیں۔
اسد حسن نے کہا ’یہ بات خاصی حیران کن ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ ریفائنریاں موجودہ جنگ کے بعد کے پریمیم پر خام تیل خریدیں، لیکن موٹر اسپرٹ (ایم ایس) یعنی پٹرول جنگ سے پہلے کی قیمتوں پر فروخت کریں۔‘