پاکستان میں حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد 90 لاکھ سے زائد کم آمدنی والے افراد کو فیول پر سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔
وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ نے منگل کو کہا کہ یہ پروگرام علاقائی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے لاکھوں افراد پر پڑنے والے اضافی مالی بوجھ کو کم کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے شہریوں کے لیے اس عمل کو آسان اور تیز رکھنے کو یقینی بنایا ہے۔‘
ان کے مطابق یہ پاکستان میں ٹیکنالوجی کے ذریعے ہدفی ایندھن سبسڈی فراہم کرنے کا پہلا ملک گیر پروگرام ہے۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے پہلے ہی بلند مہنگائی کا سامنا کرنے والے مالی مشکلات سے دوچار ملک میں عوام پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے، جس سے ٹرانسپورٹ، خوراک اور دیگر ضروری اخراجات میں اضافہ ہوا ہے اور حکومت مخالف احتجاج کے خدشات بھی پیدا ہوئے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گذشتہ ماہ منظور کیے گئے اس پروگرام کے تحت موٹر سائیکل سواروں، رکشہ ڈرائیوروں اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو ایندھن پر رعایت دی جا رہی ہے۔ ان میں سے بہت سے افراد روزگار اور روزمرہ آمدورفت کے لیے اپنی گاڑیوں پر انحصار کرتے ہیں۔
یہ سبسڈی اس وقت متعارف کروائی گئی جب جماعت اسلامی نے حکومت پر پٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کی دھمکی دی تھی۔
حکومت کے مطابق رواں سال کے آغاز میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے، جس سے پہلے ہی مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات سے متاثرہ گھرانوں پر مزید بوجھ پڑا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شہباز شریف حکومت کا کہنا ہے کہ سبسڈی کا مقصد کم آمدنی والے موٹر سائیکل اور گاڑی مالکان کو جنگ سے پہلے کی قیمتوں پر پٹرول خریدنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق کہ اس پروگرام سے 90 لاکھ سے زائد افراد فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
اہل صارفین کو موبائل فون پر ٹیکسٹ پیغام کے ذریعے ایک ٹوکن موصول ہوتا ہے، جسے متعلقہ پٹرول پمپ پر پیش کرنے کے بعد عملہ ان کی اہلیت کی تصدیق کرتا ہے اور ایندھن کی قیمت میں رعایت فراہم کی جاتی ہے۔
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے مطابق سبسڈی کی رقم اور اس کے حصول کی مدت گاڑی کی قسم کے لحاظ سے مختلف ہے۔
موٹر سائیکل اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے صارفین کو ہفتہ وار 500 روپے کی رعایت دی جاتی ہے، جبکہ ایک ماہ میں زیادہ سے زیادہ چار ٹوکن حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس طرح انہیں ماہانہ زیادہ سے زیادہ 2 ہزار روپے کی سبسڈی مل سکتی ہے۔
800 سی سی تک انجن رکھنے والی گاڑیوں کے مالکان کو ہر 10 دن میں زیادہ سے زیادہ 10 لیٹر پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت دی جاتی ہے۔ وہ ماہانہ تین ٹوکن حاصل کر سکتے ہیں، جس سے انہیں زیادہ سے زیادہ 3 ہزار روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔
اسلام آباد کے رہائشی عامر شہزاد نے کہا کہ سبسڈی ان کے گھر سے دفتر تک روزانہ سفر کے لیے کافی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اگر مجھے کسی دوسرے شہر کا سفر کرنا پڑے تو مجھے مارکیٹ میں رائج قیمت پر پٹرول خریدنا ہوگا۔‘
پاکستان کا انحصار بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے حاصل ہونے والے قرضوں پر ہے، جو اسلام آباد سے گندم اور دیگر اشیا پر دی جانے والی سبسڈی کم کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔