امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے ایسے تارکین وطن کو پاکستان کے راستے واپس بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جنہیں امریکہ میں حراست میں لیا گیا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو حاصل ہونے والی عدالتی دستاویزات کے مطابق انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ان افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ملک بدر کیے جانے والے افغان شہریوں کو طالبان کی انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان میں سے ہزاروں افراد نے افغانستان میں امریکی فوج اور امدادی تنظیموں کے ساتھ کام کرنے کے باعث طالبان کے ظلم و ستم اور اپنی جانوں کو لاحق خطرات کے پیش نظر ملک چھوڑا تھا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
امریکی بحریہ کے سابق اہلکار اور افغان شہریوں کی مدد کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’افغان ایویک‘ کے صدر شان وین ڈائیور نے کہا ’یہ سراسر ناقابل برداشت ہے۔ ایسا لگتا ہے انہیں قانون توڑنے اور لوگوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے کی کوئی حد نظر نہیں آتی۔‘
عدالتی دستاویزات کے مطابق امریکہ کا ارادہ ہے کہ افغان تارکین وطن کو ابتدائی طور پر پیر سے ملک بدر کیا جائے۔
اس مقصد کے لیے امریکی ریاست لوزیانا سے پاکستان کے لیے پروازیں چلائی جائیں گی، جہاں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے حراستی اور کارروائی کے مراکز موجود ہیں۔
افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے ملک بدر کرنے کے منصوبے کی خبر سب سے پہلے پیر کو بلومبرگ نے دی تھی۔
جمعے کو نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ ان تارکین وطن کو پاکستان پہنچنے کے بعد افغانستان بھیجا جائے گا۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے ایک ترجمان نے ہفتے کو اے پی کو ای میل کے ذریعے بتایا کہ آئی سی ای مستقبل میں تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کی کارروائیوں پر تبصرہ نہیں کرتا کیونکہ اس کا تعلق آپریشنل سکیورٹی اور اہلکاروں کے تحفظ سے ہے۔
واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے حکام نے بھیجی گئی ای میلز کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کی زد میں آنے والے افغان شہری
امریکی حکام نے اے پی کو حاصل ہونے والی خفیہ عدالتی دستاویزات میں افغان شہریوں کو ملک بدر کرنے کے منصوبے کی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جمعے کو ریاست ورجینیا کی وفاقی عدالت میں جمع کرائی گئی ایک دستاویز میں آئی سی ای کے ایک سینیئر اہلکار نے تسلیم کیا کہ ایک افغان تارک وطن کو لوزیانا کے شہر الیگزینڈریا سے پاکستان جانے والی آئندہ چارٹر پرواز میں شامل کیا گیا تھا، جہاں سے انہیں ’مزید سفر کے ذریعے افغانستان منتقل کیا جانا تھا۔‘
یہ دستاویز ایک ایسے افغان شہری کے مقدمے میں جمع کرائی گئی جو حراست میں نہیں اور جو اسے ملک بدر کرنے کی کوششوں کو عدالت میں چیلنج کر رہا ہے۔
اوکلاہوما کی ایک اور وفاقی عدالت میں استغاثہ نے پیر کو جمع کرائی گئی دستاویز میں انکشاف کیا کہ ایک اور افغان تارک وطن کو آئندہ ہفتے کسی وقت افغانستان ملک بدر کیا جانا تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ اب تک ہزاروں تارکین وطن کو ان کے اپنے ممالک کی بجائے دوسرے ممالک میں ملک بدر کر چکی ہے۔
بعض صورتوں میں ایسا اس لیے کیا گیا کیونکہ امریکہ انہیں ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنے سے قاصر تھا، جیسا کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ امریکہ کے باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں۔
دیگر صورتوں میں اس طریقہ کار کو تارکین وطن کی حوصلہ شکنی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
بہت سے مقدمات میں امریکی امیگریشن جج یہ فیصلہ دے چکے ہیں کہ اگر ان افراد کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیجا گیا تو ان کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ افغانستان واپس بھیجے جانے والے افراد میں سے کسی کے حق میں ایسا عدالتی حکم موجود ہے یا نہیں جو انہیں وہاں بھیجنے سے روکتا ہو۔