ہم سب اپنی ذات میں مظلوم ہوا کرتے ہیں۔ اپنا قصور ہمیں کبھی بھی نظر نہیں آتا۔
کوئی بڑے سے بڑا واقعہ ہو جائے، اگر اس میں ہم انوالو ہوں گے تو ہمارے پاس ایک جسٹیفیکیشن ہو گی، اور وہ صرف ہمیں مظلوم ثابت کرنے کے لیے ہو گی۔
ظالم کون ہے، سامنے والا، دوسرا بندہ۔ ہمیشہ سے ہے، ہمیشہ رہے گا۔ یہ ہم طے کر کے بیٹھتے ہیں۔
اب یہ انسانی دماغ کی کرامات ہیں کہ اپنا آپ ہمیشہ حق پر لگتا ہے۔
دوسری طرف جھانکیں تو وہ بھی پورے یقین سے ہمیں ظالم بنانے پہ تُلا ہوتا ہے، اس کے پاس بھی پوری دلیلیں ہوں گی، اس کی بات جب کوئی سنے گا تو ہمارا سارا فلسفہ جھاگ ہو جائے گا۔
ایسے میں درمیان کا راستہ کہاں سے لایا جائے؟ جب دونوں خود کو مظلوم سمجھے بیٹھے ہیں اور بات چیت کا کوئی باعزت راستہ نہیں ہے تو کیسے طے کریں کہ آگے کیسے نکلنا ہے؟ زندگی کی سڑک پہ اگلا قدم کیسے اٹھانا ہے؟
پہلا کام تو یہ ہو سکتا ہے کہ الجھی ہوئی چیزوں کو سیدھا کریں۔ اصل میں ہُوا کیا، اور ہم نے اس کا مطلب کیا نکالا؟
عین ممکن ہے مسئلہ بالکل بیسک سا ہو اور ہم نے صرف سوچ سوچ کے اسے گُنجل کر دیا ہو۔ جیسے میں اگر وعدہ کر کے کسی جگہ پہنچ نہیں پایا تو میں کہوں گا کہ میری طبیعت خراب تھی، یا سڑک بند تھی، یا سواری نہیں ملی، دوسرے نے کسی دن وہی کام کر دیا تو میں سیدھا سیدھا اسے لاپروائی کا سرٹیفکیٹ پکڑا دوں گا، یعنی، اس کے مکمل کیریکٹر پہ میرا سوالیہ نشان لگ جائے گا، وجوہات والا پورا مارجن اسے نہیں ملے گا۔ اسے صرف فیصلہ سناؤں گا میں ۔۔۔ اس چیز پہ غور کریں۔
دوسرا وہ جو ہم سوال کرتے ہیں ہمیشہ، میرا کیا قصور تھا؟ اسے اگر صرف ایک مرتبہ اتنا بدل لیں کہ اس سارے مسئلے میں میرا حصہ کتنا تھا؟ بھلے ایک پرسنٹ کا حصہ بھی آپ مان جائیں تو شاید کام سیدھا ہو جائے۔ سو فیصد اگر آپ خود کو مظلوم یا بے قصور سمجھتے ہیں تو پھر کیس کلوز ہی سمجھیں۔
تیسرا ایک کام یہ ہو سکتا ہے کہ دوسرے کی بات صرف جواب دینے کے لیے نہ سنی جائے، سن کر، سمجھ کر، تھوڑے وقفے سے جواب دینے کی کوشش کر لی جائے۔ ایک کام اور بھی ہو سکتا ہے کہ جواب دینے سے پہلے دوسرے کی بات اس کے سامنے دہرائیں،
’اگر میں نے ٹھیک سمجھا تو آپ کو یہ شکایت ہے کہ ۔۔۔‘
یہ جملہ کوئی ٹیکنیک نہیں ہے، اس کا فائدہ صرف یہ ہے کہ بات جینوئنلی سنی جائے گی۔
وہ کیا شعر تھا جون ایلیا کا۔۔۔
ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک
بات نہیں کہی گئی، بات نہیں سنی گئی
دونوں پارٹیوں کے شدید مظلوم ہونے کی صورت میں چوتھا حل یہ ہو سکتا ہے کہ آمنے سامنے بیٹھنے کی بجائے کوئی دوست یا عزیز درمیان میں آ جائے، جس پر دونوں کو یقین ہو، لیکن بیٹھیں تو بات سننے سمجھنے کے لیے، ورنہ وہ بھی غریب خوار ہی ہو گا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایک چیز یہ بھی ہو سکتی ہے کہ لائیو بات کرنے کی بجائے کاغذ پر لکھ کے پیغام پہنچایا جائے، کمیونیکیشن بڑھائی جائے، کیونکہ ہاتھ سے لکھتے ہوئے ہم جتنے مرضی غصے میں ہوں، لفظ کم از کم مہذب چنتے ہیں، سوچ کے بات کرتے ہیں۔
آخری ایک صورتحال یہ ہوتی ہے کہ دو انسانوں کا بولا گیا سچ بعض اوقات کسی نتیجے تک نہیں پہنچا سکتا۔ تب یہ ہو سکتا ہے کہ ’کون ٹھیک تھا؟‘ کی بجائے سوچا جائے کہ اب ’آگے کیا کرنا ہے؟‘ لمٹ طے کی جا سکتی ہے کہ اچھا بھئی فلاں موضوع پر بات نہیں کرنی یا بھلے کچھ عرصے کے لیے فاصلہ کر لیا ۔۔۔ لیکن فاصلہ امن سکون کے لیے ہو، اس فاصلے میں بھی نفرت اور اذیت ہی پالنی ہے تو وہ کوئی حل نہیں ہے۔
ہاں، بعض اوقات دونوں ظالم یا دونوں مظلوم برابر قصوروار نہیں ہوتے۔ کبھی کبھی ایک پارٹی سے واقعی زیادتی ہوتی ہے، اور بعض اوقات مسلسل ہوتی ہے۔ ایسے میں حل نکالتے رہنے کا یا درمیانی راستے کا مطلب ظلم سہتے رہنا بن جاتا ہے، اس صورت میں اپنی حد مقرر کرنا یا اپنے آس پاس دیوار بنا لینا خودغرضی نہیں، شاید ضرورت ہوتی ہے۔
بہرحال ایک چیز طے ہے کہ زندگی کی سڑک پر اگلا قدم اٹھانے کے لیے ضروری نہیں کہ پچھلے سفر کا حساب کتاب برابر کیا جائے۔ ہمیں بس سمت طے کرنی ہے۔ اگر وہ سمت تعلق بچانے کی ہے تو اپنا ایک فیصد مان کر، دوسرے کو سن کر اور وقت دے کر بات آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔ اگر سمت امن کی ہے تو کبھی خاموشی اور فاصلے سے بھی کام چل جاتا ہے۔ اور اگر معاملہ مستقل اذیت کا ہے تو اپنی دماغی صحت کی حفاظت سب سے پہلے کریں، وہ ہو گی تو قدم مولا اٹھوا ہی دے گا۔