جوانی میں لوگ چاکلیٹ قسم کے ہیرو پسند کرتے ہیں، میری جوانی ہی نانا پاٹیکر سے شروع ہوئی۔
جس عمر میں دوست یار وی سی آر کرائے پہ لے کر ایکشن یا رومینٹک فلمیں دیکھتے تھے، اپن لوگ کرانتی ویر تین تین بار چلاتے تھے۔
ایک بار ابو نے دیکھا تو کہنے لگے یہ کیسا ہیرو ہے؟ بعد میں خیر انہیں بھی پتہ چل گیا کہ یہ کیسا ہیرو ہے!
کسی اداکار کو کاپی کرنے کی ہائٹ کیا ہو سکتی ہے، آپ اس جیسا حلیہ بنا لیں ۔۔۔ وہی تھا اپنا سٹائل ان دنوں، چھوٹے بال، نہ ہونے کے برابر، اسی کے جیسی داڑھی ۔۔۔ خیر موالی ہونا قسمت سے ہوتا ہے، نانا پاٹیکر شاید بہانہ تھا، لیکن آرٹ کی دنیا سے کتابوں کے بعد پہلا تعارف اسی اداکار سے ہوا۔
نانا پاٹیکر سے پہلے فلم کامیاب ہونے کی نشانی یہ ہوتی تھی کہ شو ٹوٹنے کے بعد لوگ سینیما سے اسی فلم کے گانے گاتے ہوئے باہر نکلیں ۔۔۔ پورے پورے ڈائیلاگ دیکھنے والا یاد کرے، کاپی کرے، یہ آغا حشر کے لیے سنا تھا یا اپنے ٹائم میں صرف اس ایک اداکار کے لیے دیکھا میں نے ۔۔۔ لہجہ، ہنسی کا انداز، رونے کا طریقہ ۔۔۔ تھا سب کچھ اس کا ایک ہی طرح کا، لیکن، اصل بات یہی تھی۔
نانا پاٹیکر کی اداکاری میں ورائٹی نہیں تھی، عام زندگی میں جیسے بولتا تھا ویسے ہی کیمرے کے سامنے ہوا کرتا ۔۔۔ اب اس کے چاہنے والوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں سمجھ ہی یہی چیز آتی تھی ۔۔۔ ایک فلم میں وہ گونگا بنا لیکن باقی چال ڈھال، پہناوا، سب کا سب عین ویسا ہی تھا جیسا فلم سے باہر آپ نانا پاٹیکر کو دیکھ سکتے ہیں۔ جہاں تک میں سمجھا ہوں وہ خود ایک کردار تھا اور اسی لیے مرنے کے بعد اپنا خلا ساتھ لے گیا۔* لوگ کچھ بھی اور ایکٹنگ کر سکتے ہیں لیکن نانا پاٹیکر دوبارہ نہیں آ سکتا۔
میری بیٹی کا باقاعدہ فون آیا، اسے پتہ تھا نانا پاٹیکر اس کے باپ کو کتنا پسند ہے، اس نے افسوس کیا مجھ سے، اور حق پہ کیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دیکھیے سب ہیرو خوبصورت ہو سکتے ہیں، لمبے ہو سکتے ہیں، باڈی بلڈر ہو سکتے ہیں، کیوٹ ہنسی ہو سکتی ہے ان کی، اسائن کیے گئے کرداروں میں ڈوب کے ایکٹنگ کر سکتے ہیں لیکن نانا پاٹیکر کون ہو سکتا ہے؟
آرٹ کی دنیا سے تعارف نانا پاٹیکر کے ذریعے کیسے ہوا، ابھی اوپر یہ بات اس لیے کی، چونکہ، یہ بندہ ہٹ کے تھا، کھوج لگائی، کہاں سے آیا، پتہ لگا باپ کو سٹیج پسند تھا، فلموں کے پوسٹر پینٹ کرتے تھے، نانا پاٹیکر بھی اسی سب کام میں آ گیا، کیلیگرافی اور مصوری میں باقاعدہ ڈگری لی، تھیٹر میں کام شروع کیا لیکن فلموں میں آ کے بھی تھیٹر ہی کا اداکار رہا۔
مجھے شاید وہ پسند ہی اسی لیے تھا، تھیٹر کی اداکاری لاؤڈ ہوتی ہے، آواز اندر سے نکالنی ہوتی ہے، بات کرتے ہوئے ہاتھ پاؤں ایسے چلانے ہوتے ہیں کہ دور تک بیٹھنے والوں کو سب کچھ باقاعدہ سمجھ آئے، تو نانا پاٹیکر بس وہ پورا پیکج لے کر فلم میں آ گیا۔
ہیرو کے نام پہ ہم لوگ لڑائی بھڑائی، ڈانس، اچھے کپڑے اور خوبصورتی دیکھنے کے عادی تھے، اس نے بندے نے ہمیں دکھا دیا کہ ایکٹنگ ایسے بھی ہو سکتی ہے، اور ہیرو ۔۔۔ ہیرو کوئی بھی سکتا ہے، میں بھی ہو سکتا ہوں۔
لیکن خیر، ہیرو مرتا نہیں ہے، جیسے مصنف مر جاتا ہے کتاب نہیں مرتی، مصور مر جاتا ہے تصویر نہیں مرتی، بس ویسے ہی نانا پاٹیکر کی زندگی ختم ہو گئی ۔۔۔ مرا وہ بہرحال نہیں۔ نانا پاٹیکر کے پاکستانی اور انڈین فینز کو میرا سلام!
*یہ اصطلاح وسعت اللہ خان صاحب کی تھی۔ ان کے شکریے کے ساتھ برت رہا ہوں۔