امریکی پابندیوں کا خاتمہ پہلا قدم ہو گا: ایران

ایرانی وزارت خارجہ نے ویانا میں جاری مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے کہا کہ مذاکرات کے نتائج کی پیش گوئی کرنا قبل از وقت ہے۔

15 نومبر، 2021 کو ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان  سیدخطیب زادہ تہران میں ایک پریس کانفرنس میں شریک ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ پابندیوں کا خاتمہ ایران کے لیے سرخ لکیر ہے ( اے ایف پی)

ایران کا کہنا ہے کہ مغربی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے جاری مذاکرات میں امریکی پابندیوں کا ہٹایا جانا پہلا قدم ہو گا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر کو اپنی ہفتہ وار نیوز کانفرنس میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سید خطیب زادہ نے کہا کہ ویانا میں جاری مذاکرات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا امریکہ سیاسی فیصلہ کرنے کو تیار ہے یا نہیں۔

ان کے مطابق مذاکرات کا اگلا مرحلہ منگل سے شروع ہونے والا ہے۔ جب خطیب زادہ سے پوچھا گیا کہ کیا یہ کامیاب ہوں گے؟ تو ان کا کہنا تھا: ’مذاکرات کے نتائج کی پیش گوئی کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔۔۔ مگر تہران کی سرخ لکیر واضح ہے۔‘

یاد رہے کہ جمعے کو امریکہ نے ایران پر پابندیوں میں نرمی  بحال کی تھی جس سے ان ایرانی منصوبوں پر بین الاقوامی تعاون کی راہ ہموار ہوئی، جن کا مقصد ایران کی جوہری تنصیبات کو  ہتھیار بنانے کے قابل بننے سے روکنا تھا۔

تاہم امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک سینیئر عہدیدار نے وضاحت کی کہ اس کا مقصد ایسا کوئی اشارہ نہیں کہ واشنگٹن کسی معاہدے کے قریب ہے۔

اپنی پریس کانفرنس میں خطیب زادہ نے کہا: ’واشنگٹن نے ایک ایسا قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا ایران کی معاشی صورت حال پر کوئی اثر نہیں۔۔۔ ایک ذمہ دار امریکی حکومت کو معاہدے میں واپس آنا چاہیے اور یہ اس کی ذمہ داری ہے۔‘

ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے اتوار کو کہا تھا کہ امریکی اقدام ’اچھا ہے مگر کافی نہیں۔‘

 

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ کا کہنا ہے کہ ’ہمارا موقف بڑا واضح ہے۔ ایک جوہری معاہدے کی ظاہری شرائط جوہری پروگرام سے نمٹنے کی صلاحیت کو نقصان پہنچائے گا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’جو یہ سمجھتا ہے کہ معاہدے سے استحکام بڑھے گا وہ غلط ہے۔ یہ عارضی طور پر یورینیم کی افزودگی میں تاخیر کرے گا لیکن خطے میں ہم سب کو اس کی بھاری اور غیر متناسب قیمت ادا کرنا پڑے گی۔‘

اس سے قبل ایران کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی رابرٹ ملی نے اتوار کو اصرار کیا کہ 2015 کا معاہدہ اب بھی بحال ہو سکتا ہے اور وہ مذاکرات کے اگلے دور میں شرکت کے لیے جلد ویانا جا رہے ہیں۔

ایم ایس این بی سی کو دیے گیے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا: ’صدر بائیڈن اب بھی چاہتے ہیں کہ ہم ویانا میں مذاکرات کریں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا: ’ہم اگلے ہفتے واپس آئیں گے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ہمیں یقین ہے کہ یہ مردہ نہیں اور ہمیں اسے بحال کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ہمارے مفاد میں ہے۔‘

سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان اس بات کی وضاحت کے لیے دستیاب نہیں تھے کہ مذاکرات کب سے شروع ہو رہے ہیں۔

تاہم نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک یورپی عہدیدار نے بتایا کہ وہ ممکنہ طور پر منگل کو شروع ہوں گے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ جتنی دیر ایران معاہدے سے باہر رہے گا اتنی دیر وہ اپنے جوہری پروگرام کو بڑھاتا رہے گا اور جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کے قریب تر ہوتا جائے گا۔ 2015 کے معاہدے کا مقصد ہی اسے ایسا کرنے سے روکنا تھا۔  

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں امریکہ کو اس تاریخی معاہدے سے نکال لیا تھا اور ایران کے خلاف سخت پابندیاں واپس لگا دی تھیں، جس کے بعد ایران نے بھی یورینیم کی افزودگی کرتے ہوئے معاہدے کی خلاف ورزیاں شروع کر دی تھیں۔

تاہم جنوری 2021 میں اقتدار میں آنے والے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اس معاہدے میں واپسی کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔ ویانا میں مذاکرات انہی کوششوں کا حصہ ہیں جن میں امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ یورپی ممالک کے توسط سے بات چیت چل رہی ہے، کیونکہ ایران امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکاری ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا