اپنی ایکس پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران پر عائد بحری ناکہ بندی کو جاری رکھے ہوئے ہے اور مذاکرات میں حد سے زیادہ مطالبات کر رہا ہے۔
اسحاق ڈار کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان 60 روزہ ایم او یو پر اتفاق ہو گیا تاہم اس کے لیے صدر ٹرمپ کی منظوری باقی ہے۔