ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ 14ویں روز بھی جاری ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔ تازہ ترین اپ ڈیٹس
13ویں دن کے احوال کے لیے یہاں کلک کریں
صبح نو بج کر 15 منٹ: امریکہ کے ایران میں چھ ہزار اہداف پر حملے
امریکی سینٹرل کمانڈ کے جاری کردہ نئے اعداد و شمار کے مطابق امریکی افواج نے آپریشن ایپک فیوری کے دوران ایران میں 6000 اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
اس میں تقریباً 60 بحری جہاز اور 30 بارودی سرنگیں شامل تھیں جنہیں امریکی حکام کے مطابق نقصان پہنچا یا تباہ کر دیا گیا۔
دیگر اہداف میں ایران میں کمانڈ سینٹرز، ہتھیاروں کی تیاری کی سہولیات، بیلسٹک میزائل سائٹس، آبدوزیں اور فضائی دفاعی نظام شامل تھے۔
امریکی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ امریکی فوجی تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ امریکی افواج نے امریکہ اسرائیل مشترکہ آپریشنز کے آغاز پر نادانستہ طور پر ایران میں ایک سکول کو فضائی حملوں کے دوران نشانہ بنایا ہو گا، لیکن وہ کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے۔
صبح آٹھ بج کر 50 منٹ: ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ کی سلامتی کونسل میں روس اور چین کے ساتھ جھڑپ
صبح آٹھ بج کر پانچ منٹ: امریکی طیارہ عراق میں گر کر تباہ
صبح سات بج کر 30 منٹ: سعودی حدود میں 28 ڈرون تباہ
صبح سات بجے: عراق میں حملے کے دوران فرانسیسی فوجی کی موت
فرانس کے صدر ایمانویل میکروں نے جمعے کو کہا کہ عراق کے خودمختار کردستان خطے میں کیے گئے حملے میں ایک فرانسیسی فوجی جان سے گیا۔
اس طرح فرانسیسی صدر نے مشرق وسطیٰ کی جنگ میں فرانسیسی فوج کی پہلی موت کی تصدیق کی۔
صبح چھ بج کر 45 منٹ: ایران کے اسرائیل پر حملوں کی نئی لہر
اسرائیل نے جمعے کو کہا کہ ایران نے اسرائیل کی طرف میزائلوں کی کئی لہریں داغیں۔ ایمرجنسی سروسز کے مطابق ملک کے شمال میں دو افراد زخمی ہوئے۔
صبح چھ بج کر 40 منٹ: امریکہ کی روس کو تیل فروخت کرنے کی اجازت
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکہ نے کئی ممالک کو ممنوعہ روسی تیل اور پیٹرولیم خریدنے کی اجازت دے دی ہے جو اس وقت سمندر میں بحری جہازوں پر لدا ہوا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ یہ جنگ کے دوران ’انرجی کی عالمی منڈیوں میں استحکام کو فروغ دینے‘ کے لیے ایک عارضی اقدام ہے۔ یہ اجازت 11 اپریل تک رہے گی۔
بیسنٹ نے کہا ’یہ ایک مختصر طور پر تیار کیا گیا عارضی اقدام ہے جو صرف پہلے سے ٹرانزٹ میں موجود تیل پر لاگو ہوتا ہے اور اس سے روسی حکومت کو کوئی خاص مالی فائدہ نہیں ملے گا۔‘
جمعرات کو تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر واپس آگئیں اور خلیج میں مزید تین ٹینکروں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سٹاک مارکیٹ گر گئی۔
بیسنٹ نے مزید کہا کہ ’تیل کی قیمتوں میں عارضی اضافہ اور عارضی رکاوٹ ہے جس کا طویل مدت میں ہماری معیشت کو بہت زیادہ فائدہ ہو گا۔‘
اس سے پہلے بیسنٹ نے کہا تھا کہ امریکی حکومت آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی حفاظت ’جلد فوجی طور پر‘ شروع کر دے گی۔