امریکہ اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کی جانب سے تیل کے لیے اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کیے جانے سے جہاں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی اور عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوا، وہیں اس سے دیگر صنعتیں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے جن میں پاکستان کی پلاسٹک صنعت بھی شامل ہے۔
آبنائے ہرمز سے خلیج کی 20 فیصد سے زائد تیل کی ترسیل کے ساتھ ساتھ اسی راستے سے خلیجی ممالک دیگر مصنوعات بھی مختلف ممالک کو برآمد کرتے ہیں جن میں پاکستان کے لیے پلاسٹک کا خام مال بھی شامل ہے۔
پاکستان پلاسٹک کی مصنوعات بنانے کے لیے تقریباً 60 فیصد خام مال سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت سے درآمد کرتا ہے جبکہ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان سالانہ تین لاکھ 35 ہزار ٹن سے زائد پلاسٹک کے لیے خام مال درآمد کرتا ہے۔
پلاسٹک شاپنگ بیگز، فوڈ پیکجنگ کی اشیا، ڈسپوزبل فوڈ کنٹینرز، ڈسپوزبل گلاسز اور چمچے، پلاسٹک پلیٹس، گلاسز اور دیگر اشیا اسی خام مال سے تیار کی جاتی ہیں۔
گذشتہ 13 دنوں کی کشیدگی کی وجہ سے اب تک پلاسٹک کی پاکستان کو ترسیل میں رکاوٹ کے حوالے سے سرکاری سطح پر کچھ نہیں کہا گیا ہے لیکن مارکیٹ میں مصنوعات مہنگی ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
ایاز خان پشاور میں پلاسٹک سے بنی مصنوعات جیسے شاپنگ بیگز، ڈسپوزبل کنٹینرز وغیرہ کا کام کرتے ہیں اور ان کے مطابق مصنوعات مارکیٹ میں مہنگی ہو گئی ہیں۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ خام مال کے حوالے سے ’میرے پاس معلومات اتنی نہیں ہیں لیکن یہاں ہمارے پاس مصنوعات کی قیمتوں میں فرق آیا‘ ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایاز خان نے بتایا کہ ’پلاسٹک شاپنگ بیگز کی فی کلو قیمت ہفتہ پہلے تقریباً 400 روپے تھی لیکن اب 520 روپے فی کلو ہے۔‘
اسی طرح ان کے مطابق مختلف چیزوں کے لیے استعمال ہونے والا پلاسٹک رول پہلے 400 روپے تک تھا لیکن اب 600 سے 700 روپے پر مل رہا ہے جبکہ ڈسپوزبل کنٹینرز کے ایک کارٹن میں 900 روپے تک فی کارٹن فرق آیا ہے۔
پلاسٹک پائپ کی صنعت بھی متاثر ہونے کا خدشہ
پاکستان میں بننے والے پلاسٹک پائپ، جن کا استعمال سینیٹری ورک اور دیگر چیزوں میں ہوتا ہے، بھی پلاسٹک کے خام مال سے تیار کیے جاتے ہیں۔
اسی خام مال سے پلاسٹک واٹر ٹینک، ایریگیشن میں استعمال ہونے والے پلاسٹک کے پائپ اور گھر میں استعمال ہونے والے پائپ بھی تیار کیے جاتے ہیں۔
صوابی کے گدون صنعتی زون میں واٹر ٹیک نامی پلاسٹک کے کارخانے کے مالک اور گدون صنعت کار یونین کے سینیئر نائب صدر عاصم علی سمجھتے ہیں کہ اگر خام مال کی ترسیل میں رکاوٹ آئی تو پائپ مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ خام مال زیادہ تر خلیجی ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے جبکہ دیگر ممالک سے بھی کچھ مقدار میں درآمد کیا جاتا ہے لیکن اس سے ڈیمانڈ پوری نہیں ہوتی۔
عاصم علی نے بتایا کہ ’اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے اور خام مال کی ترسیل میں رکاوٹ آتی ہے تو اس سے ہمارے اندازے کے مطابق سپلائی اور قیمت میں 200 فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔‘
ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان خلیجی ممالک کے علاوہ کچھ مقدار میں خام مال شمالی کوریا، چین، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، ویت نام، امریکہ، جرمنی، ترکی، جاپان، سنگاپور، ایران، سوئٹزرلینڈ، سپین، پولینڈ اور مصر سے بھی درآمد کرتا ہے۔