ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ 15ویں روز بھی جاری ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔ تازہ ترین اپ ڈیٹس
14ویں دن کے احوال کے لیے یہاں کلک کریں
رات 10 بج کر 45 منٹ: ایران کے صنعتی علاقے پر میزائل حملہ، کم از کم 15 اموات
ایران کے وسطی شہر اصفہان کے ایک صنعتی علاقے پر ہفتے کو امریکی اور اسرائیلی میزائل حملے میں کم از کم 15 افراد جان سے گئے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کی رپورٹ کے مطابق حملہ ایک گھریلو آلات بنانے والی فیکٹری پر کیا گیا۔ حملے کے وقت فیکٹری میں کام جاری تھا اور کارکن اندر موجود تھے، جس کے باعث جانی نقصان ہوا۔
ایجنسی کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیاں جاری ہیں اور خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
روئٹرز کے مطابق ایران میں ہفتے کو عام طور پر کام کا دن ہوتا ہے، اس لیے حملے کے وقت فیکٹری میں کارکنوں کی موجودگی نے اموات کی تعداد بڑھا دی۔
رات: 9 بج کر 05 منٹ: متعدد ممالک ہرمز کے راستے کو کھلا رکھنے کے لیے جنگی جہاز بھیجیں گے: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو کہا ہے کہ متعدد ممالک آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے اپنے جنگی جہاز بھیجیں گے تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سے ممالک یہ اقدام کریں گے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’کئی ممالک، خاص طور پر وہ جو ایران کی جانب سے ہرمز کے راستے کو بند کرنے کی کوشش سے متاثر ہوں گے، امریکہ کے تعاون سے اس راستے کو کھلا اور محفوظ رکھنے کے لیے جنگی جہاز بھیجیں گے۔‘
صدر نے امید ظاہر کی کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر ممالک بھی اس علاقے میں بحری جہاز بھیجیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس دوران، امریکہ ساحلی علاقوں پر بمباری کرے گا اور ایرانی کشتیوں اور جہازوں کو پانی سے دور رکھے گا۔‘
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ آیا کسی ملک نے اپنے جنگی بحری جہاز بھیجنے کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے یا نہیں۔
رات 9 بجے: اسرائیل اور لبنان جلد براہ راست مذاکرات کریں گے: روئٹرز
ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیل اور لبنان قریبی دنوں میں اپنی پہلی براہ راست مذاکرات کریں گے۔ اس تنازع نے لبنان کو بھی جنگ میں لپیٹ لیا ہے۔
روئٹرز نے اسرائیلی اخبار ہاریتز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مذاکرات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنر بھی شامل ہوں گے جبکہ اسرائیلی وفد کی قیادت وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے قریبی ساتھی رون ڈرمِر کریں گے۔ ممکنہ مقامات میں پیرس یا قبرص شامل ہیں۔
مذاکرات کا مرکزی موضوع لبنان میں لڑائی کا خاتمہ اور ایران نواز لبنانی مسلح گروپ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہوگا۔
حزب اللہ نے دو مارچ کو اسرائیل پر راکٹ داغے تھے جس کا جواز ایران کے سپریم لیڈر کے قتل پر انتقامی کارروائی قرار دیا گیا تھا۔
شام 7 بج کر 20 منٹ: سعودی فوجی اڈے پر حملے میں طیاروں کو ’بہت کم‘ نقصان پہنچا: صدر ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو کہا ہے کہ سعودی عرب میں ایک فوجی اڈے پر ہونے والے حملے میں نشانہ بنائے گئے بیشتر طیاروں کو بہت کم نقصان پہنچا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے ذاتی پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں بتایا کہ حملے میں نشانہ بنائے گئے پانچ میں سے چار KC-135 ری فیولنگ طیاروں کو ’تقریباً کوئی نقصان‘ نہیں پہنچا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ فوجی اڈہ چند روز قبل حملے کی زد میں آیا تھا۔
شام 6 بج کر 10 منٹ: فضائی دفاع نے آج ایران کے 9 میزائل اور 33 ڈرون ناکام بنا دیے: یو اے ای
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ہفتے کو 14 مارچ کو ایران کی جانب سے داغے گئے نو بیلسٹک میزائل اور 33 ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا۔
وزارت دفاع کے مطابق ایران کی جانب سے شروع کی گئی جارحیت کے آغاز سے اب تک اماراتی فضائی دفاعی نظام 294 بیلسٹک میزائل، 15 کروز میزائل اور 1600 ڈرونز کو ناکام بنا چکا ہے۔
حکام کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں اماراتی، پاکستانی، نیپالی اور بنگلہ دیشی شہریوں سمیت مجموعی طور پر چھ افراد جانوں سے گئے جبکہ مختلف ممالک کے 141 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
وزارت دفاع نے کہا کہ امارات کی مسلح افواج کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ریاست کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
شام پانچ بج کر 15منٹ: فجیرہ میں ڈرون حملے کے بعد یو اے ای نے لوڈنگ آپریشن روک دیے
متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ میں ڈرون حملے اور آگ لگنے کے واقعے کے بعد تیل لوڈ کرنے کی بعض کارروائیاں معطل کر دی گئی ہیں۔
روئٹرز کے مطابق فجیرہ تیل کی ترسیل اور بنکرنگ کا ایک اہم مرکز اور خام تیل کی برآمد کا بڑا ٹرمینل ہے۔
صنعت اور تجارت سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز ڈرون حملے کے بعد فجیرہ میں بعض لوڈنگ آپریشن روک دیے گئے۔
یہ پیش رفت اس کے چند گھنٹوں بعد سامنے آئی جب امریکہ نے ایران کے خارگ جزیرے پر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے بعد ایران کی پاسداران انقلاب نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں امریکی مفادات، جن میں بندرگاہیں، ڈاکس اور فوجی پناہ گاہیں شامل ہیں، جائز اہداف ہو سکتے ہیں۔
فجیرہ آبنائے ہرمز سے باہر واقع ہے اور یہاں سے متحدہ عرب امارات کے تقریباً 10 لاکھ بیرل یومیہ خام تیل کی برآمد ہوتی ہے، جو عالمی طلب کا تقریباً ایک فیصد بنتی ہے۔
شام 4 بج کر 45 منٹ: خارگ جزیرے پر 90 سے زائد ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا: سینٹ کام
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ہفتے کو کہا ہے کہ امریکی افواج نے گذشتہ رات ایران کے خارگ جزیرے پر 90 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
Last night, U.S. forces executed a large-scale precision strike on Kharg Island, Iran. The strike destroyed naval mine storage facilities, missile storage bunkers, and multiple other military sites. U.S. forces successfully struck more than 90 Iranian military targets on Kharg… pic.twitter.com/2X1glD4Flt
— U.S. Central Command (@CENTCOM) March 14, 2026
سینٹ کام نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ گذشتہ رات کیے گئے بڑے پیمانے کے اس درست نشانہ بنانے والے حملے میں بحری بارودی سرنگوں کے ذخائر، میزائل ذخیرہ کرنے والے بنکرز اور دیگر فوجی تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران خارگ جزیرے پر موجود ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جبکہ تیل کے بنیادی ڈھانچے کو محفوظ رکھا گیا۔
دوپہر دو بج کر 55 منٹ: ایران کی یو اے ای میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے ہفتے کو خبردار کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں امریکہ سے منسلک تنصیبات — جن میں بندرگاہیں، ڈاکس اور فوجی مقامات شامل ہیں — اب ’جائز اہداف‘ بن سکتے ہیں، اگر ایران کے خلاف حملے جاری رہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاسداران انقلاب کے بیان میں متحدہ عرب امارات میں رہنے والے لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بندرگاہوں، ڈاکس اور امریکی فوجی پناہ گاہوں سے دور رہیں تاکہ ممکنہ حملوں کی صورت میں شہری اموات سے بچا جا سکے۔
دوپہر ایک بج کر 45 منٹ: ’امریکی حملوں میں کسی بھی تیل کے انفراسٹرکچر کو نقصان نہیں پہنچا‘
ایرانی میڈیا نے ہفتے کو رپورٹ کیا کہ خلیج میں ایران کے تیل کی برآمدات کے مرکز جزیرہ خارگ پر امریکی حملوں میں کسی بھی تیل کے انفراسٹرکچر کو نقصان نہیں پہنچا۔
خبر رساں ایجنسی فارس نیوز نے جزیرے پر موجود ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی حملوں میں تیل کی تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔
دوسری جانب ایران نے بھی امریکہ سے منسلک تیل کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
فارس نیوز کے مطابق امریکی کارروائی میں ’فوج کے دفاعی نظام، جوشن بحری اڈے، ہوائی اڈے کے کنٹرول ٹاور اور کانٹیننٹل شیلف آئل کمپنی کے ہیلی کاپٹر ہینگر کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔‘
دن 11 بج کر 40 منٹ: ایران پڑوسی ممالک کو نشانہ نہ بنائے: حماس
حماس نے ہفتے کو ایران سے کہا ہے کہ وہ پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے سے گریز کرے، جبکہ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کے خلاف تہران اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حماس نے بیان میں کہا ہے کہ ’ایران کے اس حق کی توثیق کرتے ہوئے کہ وہ بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کے مطابق اس جارحیت کا ہر ممکن ذریعے سے جواب دے، تحریک ایران میں اپنے بھائیوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے سے گریز کریں۔‘
دن 11 بجے: دوحہ کے بعض علاقے خالی کروا رہے ہیں: قطری وزارت داخلہ
قطر کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ عوامی سلامتی کے پیش نظر اور خطرہ ختم ہونے تک متعلقہ ادارے عارضی احتیاطی اقدام کے طور پر دوحہ کے چند مخصوص علاقوں کو خالی کرا رہے ہیں۔
وزارت نے اپنی ایکس پوسٹ میں لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ معلومات کے لیے سرکاری ذرائع پر اعماد کریں اور دی گئی ہدایات پر عمل کریں۔
The Ministry of Interior announces that the relevant authorities are evacuating a number of specified areas as a temporary precautionary measure, in the interest of public safety until the threat has subsided.
The Ministry urges everyone to rely on official sources for…
— Ministry of Interior - Qatar (@MOI_QatarEn) March 13, 2026
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ پہلے سے اعلان کردہ عارضی احتیاطی انخلا کے اقدامات صرف ان مخصوص علاقوں کے رہائشیوں کے لیے ہیں جنہیں قومی الرٹ سسٹم کے ذریعے اطلاع موصول ہوئی۔ متاثرہ افراد کے لیے محفوظ متبادل رہائش کا انتظام کر دیا گیا ہے۔
بعض لوگوں نے خطرہ ٹلنے تک اپنی مرضی سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
صبح 10 بجے: ایران اسرائیل جنگ میں جزیرہ خارگ اہم کیوں؟
ایران اسرائیل جنگ میں جزیرہ خارگ اہم کیوں؟#KhargIsland #IranIsraelConflict #independenturdu pic.twitter.com/2phjE6HAnK
— Independent Urdu (@indyurdu) March 11, 2026
صبح نو بج کر 30 منٹ: امریکہ کا ایران کے جزیرہ خارگ پر حملہ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے اہم ترین مقام جزیرہ خارگ پر حملہ کر کے فوجی ہدف کو ’مکمل طور پر تباہ‘ کر دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ ’کچھ لمحے پہلے، میری ہدایت پر امریکی سینٹرل کمانڈ نے مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کی سب سے طاقتور بمباری کی اور ایران کے قیمتی ترین مقام جزیرہ خارگ پر موجود ہر فوجی ہدف کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہمارے ہتھیار دنیا میں اب تک بنائے گئے سب سے زیادہ طاقتور اور جدید ہیں، لیکن میں نے جزیرے پر موجود تیل کے انفراسٹرکچر کو تباہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
’لیکن اگر ایران، یا کوئی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آزاد اور محفوظ آمد و رفت میں کسی قسم کی مداخلت کرتا ہے تو میں فوری طور پر اس فیصلے پر دوبارہ غور کروں گا۔‘
صبح نو بج کر 12 منٹ: نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہیں: امریکہ
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے جمعے کو کہا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہیں اور ممکنہ طور پر ان کے چہرے کو نقصان پہنچا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی وزیر دفاع نے نے ایران پر تقریباً دو ہفتوں کے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خامنہ ای کی حکمرانی کی صلاحیت پر سوال اٹھایا۔
ہیگسیتھ نے ایک بریفنگ میں بتایا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ نام نہاد نئے لیڈر جو اتنے سپریم بھی نہیں زخمی ہیں اور ممکنہ طور پر ان کا چہرہ خراب ہو چکا ہے۔ انہوں نے کل ایک بیان جاری کیا۔ درحقیقت ایک کمزور بیان، لیکن اس میں کوئی آواز تھی اور نہ ہی کوئی ویڈیو۔ یہ ایک تحریری بیان تھا۔
'ایران کے پاس بہت سے کیمرے اور بہت سے وائس ریکارڈر موجود ہیں۔ تحریری بیان کیوں؟ میرا خیال ہے کہ آپ جانتے ہیں کیوں۔ ان کے والد جان سے جا چکے ہیں۔ وہ خوفزدہ ہیں۔ زخمی ہیں۔ چھپ رہے ہیں اور ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔‘
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ نئے سپریم لیڈر زخمی ہوئے ہیں۔ ایک ایرانی اہلکار نے بدھ کو بتایا کہ ان کے زخم معمولی نوعیت کے ہیں۔ جمعے کو، جاپان میں ایران کے سفیر پیمان سعادت نے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای ’معذور‘ نہیں ہوئے۔
صبح 8 بج کر 55 منٹ: امریکہ کا ایرانی رہنماؤں کی معلومات فراہم کرنے پر ایک کروڑ ڈالر انعام کا اعلان
امریکہ نے ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سمیت سینیئر فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر ایک کروڑ ڈالر انعام کی پیشکش کی ہے۔
امریکہ دفتر خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق اس انعام کا اعلان ایران کے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) سے وابستہ 10 اہلکاروں کے لیے کیا گیا ہے۔
سپریم لیڈر کے علاوہ امریکہ ایران کے سکیورٹی چیف علی لاریجانی، انٹیلی جنس وزیر اسماعیل خطیب، وزیر داخلہ وزیر سکندر مومنی اور خامنہ ای کے دفتر کے دو اہلکاروں کے بارے میں بھی معلومات چاہتا ہے۔
Got information on these Iranian terrorist leaders?
Send us a tip. It could make you eligible for a reward and relocation. pic.twitter.com/y7avkqdGWw
— Rewards for Justice (@RFJ_USA) March 13, 2026
روئٹرز نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی مسلح افواج نے ہفتے کہا کہ ایران کے تیل اور توانائی کے ڈھانچے پر کسی بھی حملے کے جواب میں خطے میں امریکہ کے ساتھ تعاون کرنے والی تیل کمپنیوں کی ملکیت توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا۔
یہ انتباہ اس کے بعد سامنے آیا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے اہم تیل مرکز خارگ جزیرے پر فوجی اہداف تباہ کر دیے۔ یہ جزیرہ ایران کی 90 فیصد تیل برآمدات کے لیے برآمدی ٹرمینل کے طور پر کام کرتا ہے۔
