سعودی عرب، اقوام متحدہ، یورپی یونین، چین، برطانیہ، اٹلی، ترکی، قطر، فن لینڈ، نیدرلینڈ، مصر، فرانس، بیلجیم، آسٹریا اور کینیڈا سمیت متعدد ممالک نے پیر کو ایران امریکہ امن معاہدے کے لیے پاکستانی کی ثالثی اور سفارتی کاوشوں کی تعریف اور اس کے لیے پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کیا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا کہ مملکت ’امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور 60 دن کے اندر تفصیلی مذاکرات شروع کرنے کے معاہدے‘ کا خیرمقدم کرتی ہے تاکہ ایک مستقل معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایک پائیدار امن معاہدہ وہ ہو گا ’جو علاقائی ریاستوں کے سکیورٹی مفادات کو مدنظر رکھے اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر قائم رہے۔‘
#Statement | The Foreign Ministry expresses the Kingdom of Saudi Arabia’s welcome of the agreement reached between the United States of America and the Islamic Republic of Iran to end military operations and commence detailed negotiations over a 60-day period with the aim of… pic.twitter.com/5tEgn3qxQm
— Foreign Ministry (@KSAmofaEN) June 15, 2026
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے کہا: میں امریکہ اور ایران کو اس امن معاہدے پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں، جس میں فوری اور مستقل جنگ بندی، آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے اور مزید مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک شامل ہے۔ یہ اقدام اس تنازعے کے پرامن حل کی طرف ایک انتہائی اہم قدم ہے۔
I warmly congratulate the US & Iran for having reached a peace deal that provides for an immediate & permanent ceasefire, the reopening of the Strait of Hormuz, as well as a framework for further negotiations. This represents a critical step towards the peaceful settlement of the…
— António Guterres (@antonioguterres) June 14, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان، قطر، مصر، سعودی عرب، ترکی اور دیگر علاقائی ممالک کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کیا جاتا ہے جنہوں نے مذاکرات میں تعمیری کردار ادا کیا اور اس امن معاہدے تک پہنچنے میں مدد فراہم کی۔‘
چین نے پیر کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ختم کرنے کے معاہدے کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لِن جیان نے کہا کہ چین اس معاہدے کا خیرمقدم کرتا ہے اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی تعریف کرتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ معاہدہ طے شدہ وقت کے مطابق دستخط ہو جائے گا۔
برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے کہا: ’میں صدر ٹرمپ، پاکستان اور قطر کے ثالثوں، اور اس عمل میں شامل تمام افراد کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘
وزیراعظم سٹارمر نے مزید کہا: ’یہ ایک انتہائی اہم لمحہ ہے۔ ہم طویل عرصے سے کشیدگی میں کمی کے لیے مطالبہ کرتے رہے ہیں اور یہ ضروری ہے کہ تمام فریق اس موقع سے فائدہ اٹھائیں تاکہ خطے میں استحکام قائم ہو اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی بحال ہو سکے۔‘
آسٹریلوی وزیراعظم انتھنی البانیز نے بھی اس مفاہمی یاداشت کا خیر مقدم کیا ہے۔
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے کہا: ’کینیڈا امریکہ اور ایران کے درمیان نئے معاہدے کا خیرمقدم کرتا ہے۔ ہم پاکستان، قطر اور دیگر علاقائی شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے مذاکرات میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈا واضح طور پر سمجھتا ہے کہ ایک پائیدار جنگ بندی کے لیے ضروری ہے کہ آبنائے ہرمز سے محفوظ اور بلا رکاوٹ آمدورفت یقینی بنائی جائے، اور ساتھ ہی ایران کے جوہری پروگرام سے پیدا ہونے والے مستقل خطرے کو بھی حل کیا جائے۔
Nella notte abbiamo già espresso, insieme a Francia, Germania e Regno Unito, il nostro forte apprezzamento per il memorandum d’intesa siglato da Stati Uniti e Iran nelle scorse ore.
— Giorgia Meloni (@GiorgiaMeloni) June 15, 2026
Un grazie sentito va a tutti i mediatori, e in particolare al Qatar e al Pakistan, che hanno reso…
اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے کہا: ’گذشتہ رات ہی ہم نے فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے ساتھ مل کر امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ گھنٹوں میں دستخط کیے گئے مفاہمتی یادداشت پر اپنی بھرپور تعریف اور حمایت کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام ثالثوں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا جاتا ہے، خاص طور پر قطر اور پاکستان کا جنہوں نے اس معاہدے کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر سٹب نے کہا: ’میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے اعلان کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ میں پاکستان، قطر اور اس میں شامل دیگر ثالثوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
یورپی یونین، فرانس، قطر، بیلجیم، آسٹریا، نیدرلینڈز، مصر اور دیگر ممالک کے سربراہان اور وزرائے خارجہ نے بھی امن معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کا خیر مقدم کیا تاہم انہوں نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں پاکستان کی کاوشوں کا ذکر نہیں کیا۔
I welcome the understanding reached between the United States and Iran on ending the conflict in West Asia, which has caused serious economic disruption across the world and led to loss of life in many countries.
— Narendra Modi (@narendramodi) June 15, 2026
India hopes that the implementation of this understanding will…
امریکہ اور ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کو لبنان سمیت تمام محاذوں پر ختم کرنے اور اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں۔
تاہم تہران کے جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ مسئلے پر انہوں نے بہت کم تفصیلات فراہم کی ہیں۔
واشنگٹن اور اسلام آباد نے کہا ہے کہ معاہدے پر جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط کیے جائیں گے۔
کئی ماہ سے جاری اس جنگ میں ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور توانائی کی عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا ہوئی ہے۔
معاہدے کی تفصیلات عام نہیں کی گئیں تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جمعے کو معاہدے پر دستخط کے بعد آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، دوبارہ کھول دی جائے گی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اتوار کو اپنی 80ویں سالگرہ کے موقعے پر سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں ٹرمپ نے لکھا ’اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’دنیا کے جہازوں، اپنے انجن سٹارٹ کرو۔ تیل کو بہنے دو!‘
اس کے کچھ ہی دیر بعد ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے بیان میں کہا کہ اس معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ کا ’فوری خاتمہ‘ ہو گیا ہے اور وہ دو ماہ کے اندر ایک ’حتمی معاہدے‘ تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کریں گے۔
ادھر ایک سفارت کار نے پیر کو اے ایف پی کو بتایا کہ معاہدے پر باضابطہ دستخط سے قبل امریکہ اور ایران اس ہفتے دوحہ میں بالواسطہ ملاقاتیں کریں گے۔
سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا ’اس ہفتے دوحہ میں دونوں فریقوں کے ساتھ الگ الگ تیاری پر مبنی ملاقاتیں ہوں گی، جس کے بعد سوئٹزرلینڈ میں معاہدے پر باضابطہ دستخط کیے جائیں گے اور تکنیکی مذاکرات کا آغاز ہو گا۔‘
ذرائع نے مزید بتایا کہ قطری ثالث ’17 گھنٹے کی مسلسل اور انتہائی اہم مذاکراتی نشستوں‘ کے بعد تہران سے روانہ ہوئے۔