چین کی جاسوسی کے لیے تائیوان نے ویب سائٹ کھول لی

یہ ویب سائٹ ان چینی شہریوں کے لیے کھولی گئی ہے، جو ملک کی صورت حال سے ناخوش ہیں تاکہ وہ مشورے اور ذاتی معلومات فراہم کر سکیں۔

تائیوانی فوجی 10 جون 2026 کو تائیچونگ میں ہائی موبیلیٹی آرٹلری راکٹ سسٹم M142 کی لائیو فائر تربیتی مشق کے دوران ویڈیو بناتے اور مشاہدہ کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں (چنگ یو-چن / اے ایف پی)

تائیوان نے ان چینی شہریوں کے لیے ایک ویب سائٹ کھولی ہے، جو ملک کی صورت حال سے ناخوش ہیں تاکہ وہ مشورے اور ذاتی معلومات فراہم کر سکیں۔

تائیوان کی انٹیلی جنس ایجنسی نیشنل سکیورٹی بیورو نے کہا کہ اس ویب سائٹ کا آغاز مغربی انٹیلی جنس اداروں کی پیروی میں کیا گیا ہے۔

انہوں نے اتوار کو اعلان کیا: ’نیشنل انٹیلی جنس سروسز ایکٹ کے تحت اور امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے طریقۂ کار کو مدنظر رکھتے ہوئے، نیشنل سکیورٹی بیورو نے چینی شہریوں کے لیے معلومات رپورٹ کرنے کا ایک چینل قائم کیا ہے۔‘

اس کا مقصد ان کے مطابق: ’چین کی سیاسی، فوجی، معاشی اور سماجی ترقیات سے متعلق انٹیلی جنس معلومات کے حصول کو وسعت دینا ہے۔‘

چین اور تائیوان کے درمیان خودمختاری اور سفارتی سطح پر کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ چین اس خود مختار جزیرے کو اپنی سرزمین کا حصہ سمجھتا ہے اور اسے دوبارہ اپنے ساتھ ملانے کے لیے طاقت کے استعمال کو خارج از امکان قرار نہیں دیتا، جبکہ تائی پے بیجنگ کے اس دعوے کو مسترد کرتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تائیوان کی انٹیلی جنس ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ حالیہ عرصے میں کئی چینی شہری پہلے ہی ان سے رابطہ کر چکے ہیں جو شی جن پنگ کی حکومت سے ناخوش ہیں۔

ایجنسی نے بیان میں کہا: ’گذشتہ برسوں میں چین کی معیشت کو بڑھتی ہوئی مشکلات کا سامنا ہے جبکہ سیاسی کنٹرول سخت سے سخت تر ہوتا جا رہا ہے۔

’اس کے ساتھ سماجی اور روزگار سے متعلق مسائل کے بڑھتے ہوئے دائرے نے عوامی بے چینی کو جنم دیا ہے۔‘

یہ معلوماتی جنگی مہم ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب شی جن پنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا کہ اگر مسئلہ درست طریقے سے حل نہ کیا گیا تو امریکہ اور چین کے درمیان تائیوان کے معاملے پر تصادم ہو سکتا ہے۔

تائیوانی ایجنسی نے اس نئے جاسوسی رابطہ نظام کے کام کرنے سے متعلق وضاحت کچھ یوں کی کہ جب ممکنہ مخبر ویب سائٹ تک رسائی حاصل کریں گے تو انہیں رپورٹنگ کا عمل مکمل کرنے کے لیے چھ سکیورٹی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔

ایجنسی نے کہا کہ وہ ’چینی شہریوں کے لیے انٹیلی جنس سے متعلق اپنی حکمتِ عملیوں کا مسلسل جائزہ اور بہتری جاری رکھے گی جو جمہوری اقدار کے ساتھ ہم خیال ہیں اور ہمارے ساتھ تعاون کرنا چاہتے ہیں۔‘ اس کا مقصد ’تائیوان کی قومی سلامتی اور مفادات کا تحفظ‘ ہے۔

ویب سائٹ پر موجود مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک پروموشنل ویڈیو میں ایک چینی سرکاری ملازم کو دکھایا گیا ہے جو اپنے ساتھیوں کو بغیر کسی وضاحت کے تحقیقات اور نوکری سے برطرف ہوتے دیکھتا ہے۔

تائیوانی ایجنسی کے دعوے کے مطابق اس میں ’ایسا ماحول دکھایا گیا ہے جس میں چین کے آمرانہ نظام کے تحت ہر شخص شدید دباؤ اور خوف کا شکار ہے۔‘

تائیوان کا یہ اقدام امریکی مرکزی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی ایک مشابہ کوشش سے ملتا جلتا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس ادارے نے گذشتہ سال مینڈارن زبان میں ویڈیوز جاری کی تھیں، جن میں ناراض چینی اہلکاروں کو معلومات فراہم کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔

اس کے برعکس امریکی ایف بی آئی کے مطابق چینی فوجی انٹیلی جنس کے جاسوس نجی کمپنیوں یا تھنک ٹینکس کے نمائندوں کے طور پر کام کرتے ہیں، جعلی نوکریوں جیسے خارجہ پالیسی یا دفاعی تجزیہ کاروں کے اشتہارات دیتے ہیں اور امیدواروں پر ’غیر عوامی‘ معلومات فراہم کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں۔

اسی ماہ کے آغاز میں فائیو آئیز انٹیلی جنس اتحاد (آسٹریلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ، برطانیہ اور امریکہ) نے ایک وارننگ جاری کی تھی کہ چین ان ممالک کے اہلکاروں کو ملازمت کی ویب سائٹس کے ذریعے نشانہ بنا رہا ہے تاکہ خفیہ یا حساس معلومات حاصل کی جا سکیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا