’چین غصے میں ہے‘: جنگ کے خدشات سے تائیوانی خوف زدہ

حالیہ ماہ میں چینی جنگی طیاروں کی تائیوان کی حدود کی خلاف ورزی کے واقعات میں بہت اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ وہ بار بار کہہ چکا ہے کہ وہ تائیوان کو اپنا علاقہ سمجھتے ہوئے اس پر قبضے کے لیے تیار ہے۔

10 اکتوبر کو تائیوان کے نیشنل ڈے کے موقعے پر اس کا جھنڈا آسمان میں لہرایا جا رہا ہے (اے ایف پی)

کن من جزیرے کے ساحل پر موجود ٹینکوں کے لیے نصب رکاوٹیں اس حقیقت کی یاددہانی کراتی ہیں کہ تائیوان کو چینی حملے کا خطرہ مسلسل محسوس ہوتا رہتا ہے، اور جنگ یا جھڑپیں چھٹر جانے کے امکانات اس وقت گذشتہ دہائیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔

جمہوریہ تائیوان نے چینی حکمرانوں کی ان دھمکیوں کے ساتھ رہنا سیکھ لیا ہے جس میں وہ بار بار کہہ چکے ہیں کہ تائیوان کو وہ اپنا علاقہ سمجھتے ہوئے اس پر قبضے کے لیے تیار ہیں۔

ماضی کے مقابلے میں حال میں چینی جنگی طیاروں کی تائیوان کی حدود کی خلاف ورزی کے واقعات میں بہت اضافہ ہو چکا ہے جبکہ چین کی پیپلز لبریشن آرمی نے بھی اپنے پروپیگینڈے میں جزیرے پر حملہ کرنا اور یہاں تک کہ گوام پر امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کے سیمیولیٹڈ مناظر بھی دکھا ڈالے ہیں۔

ماحول 1990 کے وسط میں تائیوان کی جانب سے چینی میزائل پھینکے جانے کے بعد سے کبھی اتنا کشیدہ نہیں رہا۔

تائیوان کے جزیرے کن مین کے ساحل پر بیٹھے ایک مچھیرے وانگ جوئی چینگ کا کہنا کہ وہ یہاں بہت بے چینی محسوس کرتے ہیں۔ یہ جزیرہ چین سے تھوڑے ہی فاصلے پر ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ’چین غصے میں ہے اور بہت جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ میں دونوں ممالک کے درمیان مستقبل قریب میں ہونے والے فوجی تنازعے کے حوالے سے پریشان ہوں۔‘

کن من جزیرہ جو چینی سرحد سے صرف دو میل کے فاصلے پر واقع ہے تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار نفوس کی آبادی رکھتا ہے۔ 1949 کی خانہ جنگی کے دوران اس جزیرے پر قوم پرست طاقتوں کا قبضہ تھا۔ 

اگر چینی فوج آبنائے تائیوان کو پار کرتی ہے تو انہیں سب سے پہلے کن من پر قبضہ کرنا ہو گا اور اگر جنگ چھڑ جاتی ہے تو اس میں امریکہ بھی کود سکتا ہے جس سے دو جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک آمنے سامنے آ جائیں گے۔

ماضی میں چین کی جانب سے تائیوان کو ساتھ ملانے کے لیے گاجر اور چھٹری دونوں کا استعمال کیا جاتا رہا ہے جبکہ دو کروڑ تیس لاکھ آبادی والے ملک تائیوان کو کبھی مشترکہ ترقی کے وعدوں سے اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے اور کبھی اسے تباہ کرنے کی دھمکیاں بھی دی جاتی رہی ہیں۔

لیکن حالیہ کئی برسوں میں گاجر غائب ہو چکی ہے۔ چار سال قبل تائیوان نے صدر تسائی انگ وین کو منتخب کیا جو تائیوان کو ایک آزاد اور خود مختار ملک مانتے ہیں نہ کہ ’ایک چین‘ کا حصہ۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چین نے تائیوان سے سرکاری رابطے ختم کرتے ہوئے معاشی، فوجی اور سفارتی دباؤ میں اضافہ کر دیا تاکہ تائیوانی عوام اگلی بار چین سے دوستانہ تعلقات رکھنے والے سیاست دانوں کو ووٹ ڈالیں لیکن یہ داو نہ چل سکا اور تسائی دوسری بار بھی منتخب ہو گئے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تائیوان کی اکثریت خود کو بطور تائیوانی شہری دیکھتی ہے نہ کہ چینی۔

تائیوان میں کامیابی نہ ملنے کے بعد چین نے سنکیانگ اور ہانگ کانگ میں کریک ڈاؤن کا آغار کر رکھا ہے۔ صدر شی جن پنگ نے تائیوان کے بارے میں ماؤ زے تنگ کے بعد سے سب سے جارحانہ پالیسی اپنا رکھی ہے۔ شی تائیوان پر قبضے کو ’چینی عوام کی عظیم کامیابی کے لیے ناگزیر‘ قرار دے چکے ہیں۔ وہ اس منصوبے پر 2049 تک عمل کرنا چاہتے ہیں جو کہ کمیونسٹ چین کی ایک سوویں سالگرہ ہو گی۔

رواں مہینے کے آغاز میں ایک فوجی اڈے کے دورے پر وہ فوجیوں کو ’جنگ کے لیے تیار‘ رہنے کا کہہ چکے ہیں۔

امریکی نیوی میں پیسفک فلیٹ انٹیلی جنس کے سابق ڈائریکٹر کیپٹن جیمز فانیل کا ماننا ہے کہ چین اگلے دس سال میں تائیوان کے حوالے سے کوئی قدم اٹھا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’حقیقت یہ ہے کہ چین ہمیشہ سے ایک منصوبے پر عمل پیرا رہا ہے اور وہ طے شدہ وقت پر سب کر رہا ہے۔ اب ہم تشویش ناک دہائی میں داخل ہو چکے ہیں۔ ہمارے ہر بحری جہاز کے مقابلے میں وہ پانچ بحری جہاز تیار کر رہے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ تائیوان کے حوالے سے چین کے منصوبے خطرناک ہیں لیکن ماضی کے مقابلے میں چین کے پاس وہ فوج موجود ہے جو تائیوان پر قبضہ کر سکتی ہے گو کہ اس حملے کی قیمت بہت زیادہ ہو گی۔

یہ واضح نہیں ہے کہ امریکہ تائیوان کی مدد کو آئے گا یا نہیں کیونکہ جاپان، جنوبی کوریا اور فلپائن کی طرح تائیوان امریکہ کا ایسا اتحادی نہیں ہے جس کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا جا چکا ہو لیکن امریکی کانگریس کی جانب سے واشنگٹن پر یہ لازم کیا جا چکا ہے کہ وہ تائیوان کو اپنے دفاع کے لیے اسلحہ فروخت کرے۔

امریکہ کی یہ غیر مبہم پالیسی چین کے ساتھ کسی براہ راست تنازعے کے بچنے کے لیے بنائی گئی تھی لیکن چین کی جارحانہ پالیسی کے بعد امریکہ میں اس حوالے سے کوئی واضح پالیسی اپنانے کی بحث میں اضافہ ہو گیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پیشرووں کے مقابلے میں تائیوان کو اسلحہ بیچنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ گذشتہ تین سالوں میں امریکہ نے تائیوان کو 15 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے کی ہامی بھری ہے جس میں نئے ایف 16 طیارے اور میزائل بھی شامل ہیں۔

جہاں عالمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں وہیں کن من میں بسنے والوں کو دلی امید ہے ان بڑے ہتھیاروں کی کبھی ضرورت نہ پڑے۔ 

سائی یان مے، ایک چینی خاتون جن کی شادی ایک تائیوانی شخص سے ہوئی ہے اور جو کن من میں رہتی ہیں کا کہنا ہے: ’میں جنگ کا چھڑ جانا بالکل نہیں چاہتی کیونکہ اس میں دونوں طرف کا نقصان ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’میں ایک مستحکم زندگی جینا چاہتی ہیں اور تائیوان میں جمہوریت اور آزادی کو پسند کرتی ہوں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا