’پاکستان سے جانے کا دکھ ہو گا‘: تعلیم مکمل کرنے والے فلسطینی طلبہ واپسی پر اداس

بی ڈی ایس کی تعلیم مکمل کرنے والے فلسطینی طالب علم مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ پہلے خاندان سے جدائی سہنی پڑی۔ اب پاکستان سے جانے کا دکھ جھیلنا پڑے گا۔

فلسطینی طالب علم مصطفیٰ ابو شعبان جب دو سال پہلے پاکستان پہنچے تو انہیں دوسری بار اپنے خاندان سے جدائی کا دکھ سہنا پڑا۔

اب وہ پاکستان سے روانگی کی تیاری کر رہے ہیں تو انہیں خدشہ ہے کہ ایک بار پھر اس ملک کو الوداع کہنے کا دکھ جھیلنا پڑے گا، جس سے وہ گہری محبت کرنے لگے ہیں۔

مصطفی ابو شعبان غزہ کی الازہر یونیورسٹی کے ان 51 فلسطینی طلبہ میں شامل تھے، جنہوں نے 23 جولائی کو یونیورسٹی آف لاہور کے ڈینٹل کالج (یو او ایل) سے گریجویشن مکمل کی۔

بیچلر آف ڈینٹل سرجری (بی ڈی ایس) کے فلسطینی طلبہ نے اپنی تعلیم کا باقی حصہ یونیورسٹی کالج آف میڈیسن اینڈ ڈینٹسٹری (یو سی ایم ڈی) میں مکمل کیا۔

یہ یونیورسٹی آف لاہور کا ذیلی میڈیکل اور ڈینٹل کالج ہے۔ غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے باعث ان طلبہ کی تعلیم متاثر ہوئی تھی۔

یونیورسٹی آف لاہور نے اکتوبر 2024 میں جی ہوپ منصوبے کے تحت فلسطینی طلبہ کے پہلے گروپ کا خیرمقدم کیا۔

اس منصوبے میں بین الاقوامی انسانی امداد کے ادارے اور پاکستان کی فلاحی تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن شامل ہیں۔

25 سالہ مصطفی ابو شعبان نے جمعے کو عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلی بار اپنے والد سے اس وقت جدا ہوئے جب ان کے والد غزہ میں رہ گئے اور وہ مصر چلے گئے۔

دوسری بار وہ اپنے خاندان سے اس وقت جدا ہوئے جب ان کے اہل خانہ مصر میں رہ گئے اور وہ 2024 میں تعلیم کے لیے لاہور آ گئے۔

ابو شعبان نے کہا ’لیکن جب ہم یہاں پہنچے تو الحمدللہ ہمیں ایک اور خاندان مل گیا۔ ہمیں ایسے لوگ ملے جو ہمارے جیسے ہیں اور ہماری عزت کرتے ہیں، اس لیے ہر گزرتے دن کے ساتھ حالات آسان ہوتے گئے۔‘

غزہ سے تعلق رکھنے والی ایک اور گریجویٹ علا عیاد نے بتایا کہ بی ڈی ایس کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے اپنے خاندان کو چھوڑ کر پاکستان آتے وقت ان کے کیا احساسات تھے۔

25 سالہ علا عیاد نے بتایا ’جب میں جنگ کے دوران غزہ سے نکلی تو میرا پورا خاندان وہیں رہ گیا۔ میں مسلسل سوچتی رہتی تھی کہ اپنی تعلیم اور زندگی کیسے جاری رکھوں گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی آف لاہور کے ساتھی طلبہ اور اساتذہ کا رویہ بہت دوستانہ تھا اور انہوں نے نئے ماحول میں جلد گھلنے ملنے میں ان کی مدد کی۔

انہوں نے اس غیر یقینی دور سے نکلنے میں مدد دینے پر اپنی والدہ کو بھی اس کا سہرا دیا۔

علا عیاد کا کہنا تھا ’ان کے بغیر میں یہ تصور بھی نہیں کر سکتی کہ اپنی ڈگری مکمل کر پاتی۔ اس کامیابی کا سہرا میرے خاندان، خاص طور پر میری والدہ کے سر ہے، جنہوں نے میرے لیے بہت قربانیاں دیں۔‘

غزہ سے تعلق رکھنے والی ایک اور گریجویٹ نرمین مناع نے بی ڈی ایس کے آخری مضامین پڑھنے اور لاہور میں اپنی عملی طبی تربیت مکمل کرنے کے لیے تقریباً دو سال پاکستان میں گذارے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ بعض لمحوں میں انہوں نے ’واقعی ہمت ہار دی تھی‘ لیکن ان کے خاندان کی قربانیوں نے انہیں حوصلہ دیا۔ ان کے اہل خانہ چاہتے تھے کہ نرمین خاندان کی پہلی ڈاکٹر بنیں۔

25 سالہ نرمین مناع نے بتایا ’اگر مجھ سے یہ سفر ایک ہزار بار دہرانے کو کہا جائے تو میں ہر بار یونیورسٹی آف لاہور اور پاکستان ہی میں یہی سفر دہراوں گی۔‘

’دوسرا گھر‘

یونیورسٹی کالج آف میڈیسن اینڈ ڈینٹسٹری کی پرنسپل ڈاکٹر مہوش عروج کے مطابق طلبہ کو محفوظ اور پرسکون ماحول فراہم کرنا ان کے لیے بہت اہم تھا۔

مہوش عروج نے بتایا کہ اکتوبر 2024 میں یونیورسٹی کالج آف میڈیسن اینڈ ڈینٹسٹری پہنچنے والے طلبہ کے پہلے گروپ میں 28 افراد شامل تھے۔

اس وقت 100 سے زیادہ فلسطینی طلبہ اس کالج میں اپنی تعلیم مکمل کر رہے ہیں۔ فلسطینی طلبہ کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ان سے یونیورسٹی آف لاہور کا تعلق بھی گہرا ہوتا گیا۔

مہوش عروج نے بتایا کہ گذشتہ برسوں کے دوران مختلف سرگرمیوں کے ذریعے یونیورسٹی اور طلبہ کے درمیان مضبوط رشتہ قائم ہوا۔

’ہم نے مل کر عید کی نماز ادا کی، کھانوں کے میلوں میں گئے اور بہت سی سماجی سرگرمیاں کیں تاکہ ان طلبہ میں اپنائیت کا احساس پیدا ہو۔

’جب وہ پاکستان سے روانہ ہوئے تو ان میں سے بہت سے رو رہے تھے کیوں کہ انہیں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ ایک بار پھر اپنا گھر چھوڑ رہے ہیں۔‘

الخدمت فاؤنڈیشن کے سیکریٹری جنرل سید وقاص جعفری نے کہا کہ ان کا ادارہ تنازعے کے باعث تعلیم ادھوری چھوڑنے والے فلسطینی طلبہ کو پاکستان لانے اور یہاں تعلیم مکمل کرنے میں مدد دے رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ ادارہ مصر اور اردن سے بھی فلسطینی طلبہ کو پاکستان لانے میں معاونت کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا ان کا ادارہ اس وقت لاہور میں 288 فلسطینی میڈیکل طلبہ اور اسلام آباد میں بھی بعض طلبہ کو تعلیم مکمل کرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے جب کہ 110 طلبہ مصر میں اپنی ہاؤس جاب مکمل کر چکے ہیں۔

وقاص جعفری کے بقول ’ہم یونیورسٹی آف لاہور کے تعاون سے نہ صرف پاکستان میں ان کی مدد کر رہے ہیں بلکہ قاہرہ، مصر میں ہاؤس جاب کے دوران بھی ان کی معاونت کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا ادارے کا مقصد پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے تعاون سے ایک ہزار فلسطینی طلبہ کو پاکستان لانا ہے۔

فلسطینی گریجویٹس کا مستقبل کیا ہو گا؟

مصطفیٰ ابو شعبان اپنے ملک واپس جا کر ڈاکٹر کی حیثیت سے لوگوں کی خدمت کرنا چاہتے ہیں لیکن پاکستان چھوڑنا ان کے لیے مشکل ہو گا۔

انہوں نے کہا ’اب میں پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہوں۔ میں یہاں کے لوگوں سے رابطے میں رہوں گا کیوں کہ وہ میری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔‘

اب باضابطہ طور پر ڈینٹسٹ بننے والی نرمین مناع پاکستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

ان کے لیے پاکستان اب صرف وہ ملک نہیں رہا جہاں انہوں نے تعلیم حاصل کی۔

انہوں نے کہا ’میں اسے دوسرا گھر نہیں سمجھتی۔ میں اسے بھی اپنا گھر سمجھتی ہوں اور میرے دل میں اس کی قدر فلسطین جتنی ہی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس