خیبر پختونخوا حکومت نے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لیے ہونے والے ایم ڈی کیٹ کو 2027 سے ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایویلیوایشن ایجنسی یعنی ’ایٹا‘ کے ذریعے کرانے کی منظوری دی ہے، حالانکہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل پہلے ہی ایٹا کے ذریعے ہونے والے امتحان کے نتائج تسلیم نہ کرنے کا مؤقف اختیار کر چکی ہے۔
رواں سال کا ایم ڈی کیٹ خیبر میڈیکل یونیورسٹی منعقد کر رہی ہے۔ یونیورسٹی کے مطابق 20 ستمبر کو امتحان پشاور، مردان، ایبٹ آباد، سوات، مالاکنڈ، لوئر دیر، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوگا۔
خیبر پختونخوا کی صوبائی وزیر برائے ہائیر ایجوکیشن مینا خان نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ 2026 کا امتحان خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے ذریعے ہی ہوگا، جبکہ اگلے سال ایٹا کو ذمہ داری دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق 2027 کے امتحان کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جو متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر اس کے طریقۂ کار کو حتمی شکل دے گی۔
پی ایم ڈی سی کا مؤقف
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے خیبر پختونخوا کے سیکرٹری صحت کو خط میں ایٹا کے ذریعے ایم ڈی کیٹ کرانے پر اعتراض کیا تھا۔
کونسل نے کہا تھا کہ ایٹا کے ذریعے منعقد ہونے والے ایم ڈی کیٹ کے نتائج تسلیم نہیں کیے جائیں گے اور صوبائی حکومت سے ایسا اقدام نہ کرنے کو کہا تھا جس سے امتحان کے نتائج کی حیثیت متاثر ہو۔
رواں سال کے امتحان کے لیے خیبر میڈیکل یونیورسٹی کا انتخاب برقرار ہے، جبکہ صوبائی حکومت کا نیا فیصلہ آئندہ سال کے امتحان سے متعلق ہے۔
ایٹا کیا ہے؟
ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایویلیوایشن ایجنسی خیبر پختونخوا حکومت نے نومبر 1998 میں قائم کی تھی۔ ایٹا کے مطابق اسے ابتدا میں صوبے کے میڈیکل اور انجینیئرنگ اداروں کے داخلہ امتحانات کے انتظام کے لیے بنایا گیا تھا، بعد میں اس کی ذمہ داریوں کا دائرہ وسیع کیا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایٹا کی سرکاری ویب سائٹ پر میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کے داخلہ امتحان سے متعلق سابقہ مواد بھی موجود ہے۔ تاہم مخصوص برسوں میں ایم ڈی کیٹ کس ادارے نے منعقد کیا اور اس کی ذمہ داری کب خیبر میڈیکل یونیورسٹی کو منتقل ہوئی، اس کی مکمل تفصیل دستیاب سرکاری معلومات میں موجود نہیں۔
مینا خان کے مطابق ایٹا ماضی میں ایم ڈی کیٹ منعقد کرتا رہا ہے اور بعد میں یہ ذمہ داری خیبر میڈیکل یونیورسٹی کو دی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ایٹا میں گزشتہ تقریباً ڈھائی برس کے دوران ہونے والی اصلاحات کو بھی فیصلے میں مدنظر رکھا ہے۔ ان کے مطابق اس عرصے میں کمپیوٹرائزڈ امتحانات اور آن لائن نگرانی کے نظام پر کام کیا گیا، جبکہ ایٹا صوبے کے علاوہ وفاقی اداروں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لیے بھی ٹیسٹ منعقد کرتا ہے۔
2027 کے امتحان کا طریقۂ کار
صوبائی حکومت کے مطابق ایٹا کو ذمہ داری منتقل کرنے سے پہلے ایک کمیٹی اس کے قانونی، تکنیکی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔
مینا خان کے مطابق کمیٹی پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، خیبر میڈیکل یونیورسٹی، اعلیٰ تعلیم کے شعبے اور ایٹا سے متعلق قوانین اور قواعد کو بھی دیکھے گی۔
اس طرح رواں سال امتحان کا انتظام خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے پاس ہے، جبکہ ایٹا کو ذمہ داری دینے کا فیصلہ 2027 کے لیے کیا گیا ہے۔ اس منتقلی کا حتمی طریقۂ کار کمیٹی کی سفارشات کے بعد طے ہونا ہے۔