پاکستان اور کرغزستان نے بدھ کو دوطرفہ تجارتی حجم دو سال میں موجودہ ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 20 کروڑ ڈالر تک لے جانے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک میں موجود تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی وطن واپسی سے قبل بشکیک ایئرپورٹ پر پاکستان اور کرغزستان کے درمیان دوطرفہ تجارت بڑھانے کے معاہدے پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور کرغزستان کے وزیر خارجہ ژین بیک کولوبایف نے دستخط کیے اور دستاویزات کا تبادلہ کیا۔
"ہماری دوطرفہ تجارت اس وقت صرف 16 ملین ڈالر ہے، جبکہ ہمارے باہمی تعلقات انتہائی برادرانہ اور بہت اچھے ہیں۔ لہٰذا یہ 16 ملین ڈالر کا تجارتی حجم آٹے میں نمک کے برابر ہے۔
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) September 2, 2026
میں نے تجویز پیش کی کہ ایم او یو کی بجائے ہم ایک معاہدہ سائن کریں، جو 200 ملین ڈالر کی ٹریڈ کے ہدف کے حصول کی… pic.twitter.com/GNxjCrkEx7
اس موقع پر کرغزستان کے صدر صادر زاپاروف بھی موجود تھے۔
ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان ملاقاتوں کے دوران مختلف معاملات پر تبادلہ خیال ہوا اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان سالانہ تجارتی حجم اس وقت صرف ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہے، جو دونوں ممالک کے گہرے اور برادرانہ تعلقات کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔
وزیراعظم کے مطابق انہوں نے کرغزستان کے صدر صادیر زاپاروف کو تجویز دی تھی کہ دوطرفہ تجارت کو دو سال میں 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے کے لیے محض مفاہمت کی یادداشت کے بجائے باقاعدہ معاہدہ کیا جائے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ان کی تجویز کو صدر زاپاروف نے منظور کیا، جس کے بعد بشکیک ایئرپورٹ پر معاہدے پر دستخط کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تجارتی حجم آٹے میں نمک کے برابر ہے اور 20 کروڑ ڈالر کا ہدف حاصل کرنے کے لیے معاہدے پر دستخط ایک مضبوط قدم ہے۔