پاکستان کے نجکاری کمیشن نے جمعے کو اعلان کیا ہے کہ اس نے سرکاری ملکیت کی بجلی تقسیم کرنے والی کمپنی فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کی فروخت کے لیے بولی میں حصہ لینے کے خواہش مند 10 فریقوں کو شارٹ لسٹ کر لیا ہے، جن میں تین ترک کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
فیسکو حکومت کے نجکاری پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل تین سرکاری بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ دیگر دو گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی ہیں۔
اسلام آباد نے ان کمپنیوں میں 51 سے 100 فیصد تک حصص کے ساتھ انتظامی کنٹرول حاصل کرنے کے لیے سرمایہ کاروں کو دعوت دی ہے۔
پاکستان ان سرکاری کمپنیوں کی نجکاری کے ذریعے قرضوں کے بوجھ تلے دبے بجلی کے شعبے میں اصلاحات لانا چاہتا ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور انتظامی تجربے سے بجلی کے شعبے کی کارکردگی بہتر ہوگی، جو طویل عرصے سے بجلی کے نقصانات، کمزور وصولیوں اور بڑھتے ہوئے گردشی قرضے جیسے مسائل کا شکار ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ جائن یہاں کریں
پاکستان نے مئی میں فیسکو اور دو دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں 51 سے 100 فیصد حصص حاصل کرنے کے خواہش مند سرمایہ کاروں سے اظہارِ دلچسپی طلب کیے تھے۔
نجکاری کمیشن نے رواں ماہ کے آغاز میں بتایا تھا کہ فیسکو کے حصص کے حصول میں 12 فریقوں نے دلچسپی ظاہر کی، جن میں ترکی کے تین کنسورشیم، چین کا ایک سرمایہ کاری گروپ اور پاکستان کے آٹھ کاروباری گروپ شامل تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کمیشن نے اپنے 258ویں بورڈ اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا: ’جمع کرائی گئی دستاویزات کا منظور شدہ پری کوالیفکیشن معیار کے مطابق جائزہ لینے کے بعد مالیاتی مشیر نے 10 خواہش مند فریقوں کو پری کوالیفکیشن اور لین دین کے اگلے مرحلے میں پیش رفت کے لیے سفارش کی۔‘
نجکاری کمیشن کی جانب سے پری کوالیفائی کیے گئے بولی دہندگان کی فہرست میں تین ترک کمپنیاں ایکٹر الیکٹرک انرجی یاتریملاری سان۔ وے تِک۔ اے۔ایس، جینویرا اینرجی اے۔ایس اور جینگز انرجی سانایئی وے تِجارت اے۔ایس شامل ہیں۔ تینوں ترکی کی توانائی کے شعبے سے وابستہ کمپنیاں ہیں۔
دیگر بولی دہندگان میں مقامی کنسورشیمز اینگرو انرجی لمیٹڈ، سیفائر فائبرز لمیٹڈ، حب پاور ہولڈنگز کنسورشیم، شیرازی انویسٹمنٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ، میپل لیف سیمنٹ فیکٹری لمیٹڈ کنسورشیم، پاک جین لمیٹڈ کنسورشیم اور آرٹسٹک ملنرز (پرائیویٹ) لمیٹڈ شامل ہیں۔
نجکاری کمیشن نے کہا کہ شارٹ لسٹ کیے گئے بولی دہندگان اب لین دین کے اگلے مرحلے میں داخل ہوں گے، جس میں تفصیلی جائزے کے لیے ورچوئل ڈیٹا روم تک رسائی بھی شامل ہے۔
کمیشن نے مزید کہا: ’بورڈ نے شفاف، مسابقتی اور پیشہ ورانہ انداز میں چلائے جانے والے لین دین کے ذریعے حکومت کے نجکاری پروگرام کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا، جس میں احتساب اور حکومت اور پاکستان کے عوام کے لیے زیادہ سے زیادہ قدر کے حصول پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔‘