پاکستان کی قومی اسمبلی نے جمعے کو پمز ہسپتال میں حالیہ آتشزدگی کی شدید مذمت کرتے ہوئے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ہے، جس میں ’قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہری تشویش کا اظہار‘ کرتے ہوئے حکومت سے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
رکن قومی اسمبلی دانیال چوہدری کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ’غفلت یا حفاظتی اقدامات میں کوتاہی کے ذمہ دار کسی بھی فرد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔‘
قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ’وفاقی حکومت کے ہسپتالوں، بالخصوص نوزائیدہ بچوں اور اطفال کے یونٹس میں آگ سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاریوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔‘
اس معاملے پر وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے ایوان میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں کوئی اگر مگر کی بات نہیں کروں گا، وزیر اعظم نے اس حوالے کمیٹی بنا دی ہے۔ اور اس واقعے کا شواہد کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا۔‘
وفاقی وزیر صحت نے کہا آج (جمعے) رات کو کمیٹی کے 48 گھنٹے پورے ہو جائیں گے اور جو بھی ذمہ دار ہو گا کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ ’میرے سمیت جو بھی ذمہ دار ہوگا اس کے خلاف کارروائی ہو گی۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی بنائیں گے جو غور کرکے تفصیلی رپورٹ دے گی۔‘
وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا پمز میں آتشزدگی کا واقعہ بہت تکلیف دہ ہے۔ ’ایسے حادثات پوری زندگی کا رخ بدل دیتے ہیں، حادثے کی وجوہات تک پہنچنے کے لیے وزیراعظم نے کمیٹی بنائی۔ سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی جس کی رپورٹ آج شام تک آ جائے گی۔ جبکہ تفصیلی رپورٹ سات روز میں سامنے آئے گی۔‘
وزیر قانون نے کہا ڈاکٹر اظہر کیانی کی سربراہی میں بھی ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو پمز ہسپتال کی بہتری کے حوالے رپورٹ پیش کرے گی۔ انہوں نے اراکین قومی اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اراکین اس معاملے پر جامع تجاویز دیں تاکہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
قومی اسمبلی میں اٹھائے گئے سوالات
اپوزیشن کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پمز ہسپتال واقعہ کی شفاف اور غیر جانبدار انکوائری ہونی چاہیے۔ ’ہم کوشش کریں کہ آج کے بعد کوئی واقعہ نہ ہو، پمز میں ڈاکٹرز اور نرسز موجود نہیں تھے۔ بچوں کو وہاں لاک کرکے چھوڑ دیا گیا تھا۔‘
قومی اسمبلی کے چئیرمین قائمہ کمیٹی برائے صحت مہیش کمار مالانی، جو پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، نے کہا کہ قومی اسمبلی کی صحت کمیٹی نے پمز کا دورہ کیا۔ ’وزیر صحت نے کہا کہ ایئر کنڈیشنر کے سپارک کی وجہ سے آگ لگی، ہم نے پمز کے دورے کے دوران سٹاف سے سوالات کیے۔ پمز حکام نے بتایا کہ اے سی تو خراب تھا لیکن نرسز نے آگ لگنے کی کوئی اور وجہ بتائی۔ ہمارے مطابق اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی اس واقعے کی ذمہ دار ہے۔‘
جمعیت علمائے اسلام کی شاہدہ اختر علی نے کہا پمز ہسپتال میں ایسے واقعات ہو رہے ہیں تو باقی ملک کا کیا حال ہوگا؟
’ایسی قانون سازی کریں کہ ایسے واقعات میں قصور وار افراد کے خلاف کاروائی ہو، یہاں پر آپ نے ایک بندے کو معطل کیا۔ رپورٹ آنے کے بعد شواہد اور تفصیلات ایوان کے سامنے رکھیں۔‘