پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے ہسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) نے بدھ کو آتشزدگی کے واقعے میں 14 نومولود بچوں کی موت پر لواحقین سے اظہار تعزیت کیا ہے۔
پمز ہسپتال کے ترجمان نے ایک بیان میں ابتدائی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ آج صبح تقریباً چھ بج کر 38 منٹ پر ایم سی ایچ نرسری کے اندر چنگاری سے آگ بھڑکی جو چند ہی سیکنڈز میں انکیوبیٹرز کے ساتھ موجود آکسیجن پوائنٹس کے باعث پھیل گئی۔
بیان کے مطابق نرسری میں موجود ڈیوٹی پر مامور دو ڈاکٹروں اور دو نرسوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سکیورٹی عملے کو اطلاع دی، جو موقعے پر پہنچ گیا۔
’عملے نے بچوں کو باہر نکالنے کی کوشش میں دو مرتبہ اندر داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم 6:39 بجے ایک زوردار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں چھتیں گر گئیں۔‘
بیان میں مزید بتایا گیا کہ ڈیوٹی پر موجود عملے نے نرسری سے ایک بچے جبکہ ملحقہ کمرے سے چار بچوں اور تین ماؤں کو بحفاظت نکال لیا۔
’اس کے علاوہ عملے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسی منزل پر واقع ملحقہ گائنی وارڈ میں داخل 73 دیگر مریضوں کو بھی چند ہی منٹوں میں بحفاظت باہر نکال لیا۔‘
بیان کے مطابق آگ پر قابو پانے کے لیے دستیاب فائر سیفٹی آلات، جن میں 35 فائر ایکسٹنگوشرز بھی شامل تھے، جو عملے نے استعمال کیے۔ تمام ہنگامی راستے مکمل طور پر کھلے اور فعال تھے۔
بیان میں کہا گیا کہ واقعے کی مختلف سطحوں پر شفاف تحقیقات جاری ہیں اور ان کی رپورٹس کا انتظار ہے۔
’ذمہ داروں کو کڑی سزا ملے گی‘
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بدھ کو اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز میں آتشزدگی کے واقعے میں 14 نومولود بچوں کی موت پر ’خود کو احتساب کے لیے پیش کرتے‘ ہوئے کہا کہ غفلت میں ملوث افراد کو نہیں چھوڑا جائے گا۔
واقعے کے بعد ہسپتال میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ بچوں کو آکسیجن فراہم کرنے والی لائنوں اور سلنڈرز نے آگ پھیلانے میں کردار ادا کیا جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیجز میں واقعے سے متعلق تمام صورتحال واضح ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ جائن یہاں کریں
انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود کو وزیراعظم کے سامنے احتساب کے لیے پیش کیا ہے اور اب وزیراعظم کو واقعے کے حوالے سے رپورٹ کریں گے۔ ان کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور غفلت کے مرتکب افراد کو کڑی سزا دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکریٹری صحت کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے، تاہم سیکریٹری صحت سمیت کسی کو تعینات یا ہٹانا وزیراعظم کی صوابدید ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے واضح کیا کہ کسی بھی ذمہ دار کو کیفر کردار تک پہنچائے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔
بچوں کی میتیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے موقعے پر پہنچ کر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ افسوس ناک واقعے میں غفلت کے مرتکب عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر پمز کا دورہ کرتے ہوئے طلال چوہدری نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن مکمل کرنے کے بعد میتیں ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا ریسکیو ٹیموں نے چھ سے سات منٹ میں موقعے پر پہنچ کر کارروائی شروع کی جبکہ متعلقہ انتظامی افسران آپریشن مکمل ہونے تک موقع پر موجود رہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
طلال چوہدری کے مطابق واقعے کی ریسکیو رپورٹ وزیر داخلہ اور وزیراعظم کو ارسال کر دی گئی ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کا عمل جاری ہے۔
سیکریٹری صحت معطل
وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ ’بچوں کے ساتھ ایسی صورت حال ناقابل تلافی ہے۔ واقعہ کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور ذمہ داران کا تعین کر کے سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔‘
اس حوالے سے وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں انہوں نے متعلقہ افسران پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو فوری طور پر معطل کر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔
بعض والدین نے جان سے جانے والے بچوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام لگایا ہے کہ آتشزدگی کے وقت ہسپتال اہلکاروں میں سے ’کوئی بھی وہاں موجود نہیں تھا۔‘
ایک متاثرہ خاتون نے کہا کہ ’اس لمحے وہاں صرف وہ اور کچھ دیگر والدین ہی موجود تھی جبکہ نہ تو گائنی ڈاکٹر موجود تھیں اور نہ ہی نرسنگ سٹاف میں سے کوئی موجود تھا۔‘