پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کی باقاعدہ لائسنسنگ کا آغاز

وزیر مملکت نے کہا کہ معتبر عالمی کمپنیاں پاکستان میں کام کرنا چاہتی ہیں تو ان کا خیرمقدم کیا جائے گا، تاہم انہیں پاکستانی قوانین کے تحت کام اور مقررہ تقاضوں کی پابندی کرنا ہوگی۔

وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے ہفتے کو کہا ہے کہ ملک میں ورچوئل اثاثہ خدمات کی باقاعدہ لائسنسنگ کا عمل شروع ہوگیا ہے جبکہ پہلے سے یہ خدمات فراہم کرنے والے کاروباروں کو قانونی دائرے میں آنے کے لیے 5 ستمبر 2026 تک درخواست دینا ہوگی۔

پاکستان نے 21 مئی 2025 کو غیر رسمی کرپٹو مارکیٹ کو ریگولیٹ کرنے، عالمی سرمایہ کاروں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے اور ڈیجیٹل اثاثوں کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینے کے لیے ڈیجیٹل اثاثہ جات اتھارٹی کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

وفاقی وزارت خزانہ کے مطابق مجوزہ اتھارٹی کا مقصد ایف اے ٹی ایف کے معیار کے مطابق ایک واضح ریگولیٹری نظام قائم کرنا اور پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل معیشت میں ایک مسابقتی کھلاڑی بنانا ہے جبکہ ملک کی 25 ارب ڈالر سے زائد کی غیر رسمی کرپٹو مارکیٹ کو بھی باقاعدہ دائرے میں لانے کی توقع ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کرپٹو کرنسی ایک خاص قسم کی ٹیکنالوجی پر کام کرتی ہے، جسے بلاک چین کہتے ہیں۔ یہ ایک قسم کا انکرپٹڈ یا خفیہ ڈیجیٹل ریکارڈ ہے جو صرف آن لائن ہوتا ہے اور اسی میں ہر لین دین یا ٹرانزیکشن کا ریکارڈ محفوظ ہوتا ہے۔ یہ ریکارڈ دنیا بھر کے کمپیوٹروں پر موجود ہوتا ہے اور ہر کوئی اسے دیکھ سکتا ہے، لیکن کوئی اس میں ردوبدل یا چھیڑ چھاڑ نہیں کر سکتا۔ مختلف کرپٹو کرنسیاں مختلف بلاک چینز پر بنی ہوتی ہیں۔

سرکاری ٹی وی پر نشر ایک ویڈیو پیغام میں بلال بن ثاقب نے بتایا کہ پاکستان ورچوئل ایسٹ سروس ریگولیشنز 2026 نوٹیفائی کر دیے گئے ہیں۔ ’پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کی سرگرمیاں پہلے سے موجود ہیں اور نئے ریگولیٹری نظام کا مقصد انہیں ختم کرنا نہیں بلکہ قانونی اور باقاعدہ دائرے میں لانا ہے۔ ان کے بقول: ’اس عمل کے ذریعے غیر رسمی سرگرمیوں کو جواب دہ نظام میں منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ریگولیٹری فریم ورک صرف ورچوئل اثاثہ ایکسچینجز کی نگرانی تک محدود نہیں بلکہ اس کے ذریعے مالیاتی جدت، مالی شمولیت اور ڈیجیٹل معیشت کے نئے مرحلے کی بنیاد رکھنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔

بلال بن ثاقب کے مطابق بلاک چین، سٹیبل کوائنز اور ٹوکنائزیشن پاکستان کی برآمدات، ترسیلات زر، ایس ایم ای فنانسنگ اور اسلامی مالیات کے لیے نئے مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔

ڈیجیٹل آمدنی اور پاکستان

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کئی لاکھ نوجوان افرادی قوت فری لانسنگ، سافٹ ویئرڈیزائن اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبوں میں عالمی صارفین کو خدمات فراہم کر رہی ہے، تاہم اب اہم سوال یہ ہے کہ ان ڈیجیٹل آمدنیوں کو کم لاگت اور شفاف طریقے سے پاکستان منتقل کرکے باضابطہ معیشت کا حصہ کیسے بنایا جائے۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ ٹوکنائزیشن کے ذریعے قابل اعتماد تجارتی واجبات اور دیگر اثاثوں کو عالمی سرمایہ مارکیٹ سے جوڑنے کے امکانات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے، جس سے کاروباروں کو ورکنگ کیپیٹل تک بہتر رسائی مل سکتی ہے۔

تین مرحلوں میں ریگولیٹری سفر

بلال بن ثاقب کے مطابق ورچوئل اثاثوں کے ریگولیٹری سفر کو تین مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں قوانین اور متعلقہ اتھارٹی قائم کی گئی اور موجودہ سرگرمیوں کو ریگولیٹری فریم ورک میں لایا جا رہا ہے۔

دوسرے مرحلے میں ذمہ دار اور قابل اعتماد آپریٹرز کو لائسنس جاری کیے جائیں گے جبکہ تیسرے مرحلے میں ترسیلات زر، سرحد پار ادائیگیوں، ڈیجیٹل برآمدات، ٹریڈ فنانس، نجی کریڈٹ اور ٹوکنائزیشن سمیت قومی سطح پر ورچوئل اثاثوں کے استعمال کے منصوبے تیار کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بلاک چین کو سرکاری گرانٹس، سبسڈیز اور دیگر عوامی پروگراموں میں بھی شفافیت اور وسائل کی مؤثر تقسیم بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان کو موجودہ کے ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے پالیسیاں بنانا ہوں گی۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت ذہانت کی لاگت اور دستیابی جبکہ بلاک چین قدر اور ملکیت کے ڈھانچے کو تبدیل کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا: ’کوئی بھی یقین سے نہیں بتا سکتا کہ 2050 میں کون سی ٹیکنالوجی دنیا پر غالب ہوگی، اس لیے ریاست کا کام مستقبل کی مکمل پیش گوئی کرنا نہیں بلکہ ایسی قومی صلاحیت پیدا کرنا ہے جو آنے والی تکنیکی تبدیلیوں سے فائدہ اٹھانے کے قابل ہو۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت