حکومت پاکستان نے گندم کی کمی کو پورا کرنے اور آٹے کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دی ہے۔
تاہم پنجاب کے فلور ملز مالکان اور کاشتکاروں کے مطابق یہ مستقل حل نہیں ہے۔ ان کے مطابق گندم درآمد کرنے سے بحران میں عارضی بہتری تو آ سکتی ہے، لیکن قیمتوں میں خاطر خواہ کمی ممکن نہیں۔
پنجاب میں مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی سرکاری سطح پر گندم کی خریداری بند کر دی، جبکہ سرکاری ریٹ کا اعلان بھی نہیں کیا۔ تاہم رواں سال پنجاب میں 11 نجی کمپنیوں کے ذریعے گندم کی خریداری کا فیصلہ کیا گیا اور سرکاری ریٹ فی من گندم تین ہزار 500 روپے مقرر کیا گیا۔
حکومتی دعووں کے مطابق اس سال گندم کی پیداوار کا ہدف دو کروڑ 19 لاکھ ٹن حاصل کر لیا گیا۔ لیکن چند ماہ بعد ہی نہ صرف پنجاب بلکہ ملک بھر میں آٹے کی قلت پیدا ہوگئی، جس کے باعث گندم کی قیمت ان دنوں 4 ہزار 700 روپے فی من سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔
اسی طرح فلور ملز مالکان بھی گندم ضرورت کے مطابق نہ ملنے کا شکوہ کر رہے ہیں۔
فلور ملز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین خلیق ارشد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’ان دنوں فلور ملز کو ڈیمانڈ کے مطابق گندم کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔
پہلے حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطالبے پر سرکاری قیمت کا اعلان کیے بغیر مارکیٹ کو اوپن چھوڑ دیا، جو بہتر فیصلہ تھا۔ لیکن رواں سال نجی کمپنیوں کے ذریعے خریداری کرائی گئی، جبکہ ریٹ 3 ہزار 500 روپے فی من مقرر کیا گیا۔
فلور ملز اور مڈل مین کو گندم خریدنے سے روک دیا گیا۔ پھر بین الصوبائی گندم کی سپلائی پر پابندی لگا دی گئی۔ ان فیصلوں کی وجہ سے گندم کا بحران پیدا ہوا۔
’حکومت یا تو دیگر ممالک کی طرح مارکیٹ کو سپلائی اور ڈیمانڈ کی بنیاد پر گندم کی خرید و فروخت کے لیے اوپن چھوڑ دے یا پھر پوری طرح خود خریداری اور سپلائی کی ذمہ داری اٹھائے۔
’اب آدھا تیتر، آدھا بٹیر والی مثال ہے، جس کا نتیجہ فصل ختم ہونے کے چند ماہ بعد ہی بحران کی صورت میں سامنے آگیا ہے۔ ہم نے کئی بار اس بارے میں صدر، وزیر اعظم اور آرمی چیف کو خطوط بھی لکھے ہیں۔‘
بقول خلیق: ’حکومت جو گندم درآمد کر رہی ہے، اس سے گندم کی عارضی ضرورت تو پوری ہوگی، لیکن ہماری ڈیمانڈ سال میں تین کروڑ ٹن تک ہے، جو 10 لاکھ ٹن سے پوری نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ سرکاری سطح پر درآمد کرنے کی بجائے مقررہ تاریخ، یعنی آئندہ فصل سے پہلے، نجی شعبے کو گندم درآمد کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔‘
جولائی 2026 کے وفاقی ویٹ بورڈ کے اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں گندم کی ممکنہ کمی پر تشویش ظاہر کی گئی۔
شرکا نے ملک میں 35 لاکھ ٹن سے زیادہ شارٹ فال کا خدشہ ظاہر کیا اور کم از کم 20 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا مطالبہ کیا۔ تاہم وفاقی حکومت نے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پنجاب میں فوڈ سیفٹی کے ادارے کی سربراہ سلمیٰ بٹ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ کسانوں سے براہِ راست گندم نہیں خریدی جائے گی۔ یہ ایک درست فیصلہ تھا، لیکن پالیسی چونکہ اب تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے اس کے ثمرات اگلے ایک دو سال میں ہی بہتر طور پر سامنے آئیں گے۔
’پوری دنیا میں ایسا ہی ہو رہا ہے۔ حکومتیں مارکیٹ کو کنٹرول نہیں کرتیں۔ اس وقت ہمارے پاس پانچ لاکھ ٹن گندم ہے اور ہم تین لاکھ ٹن وفاق سے لے رہے ہیں۔
’ہم اس گندم پر سبسڈی دے کر آٹے کی قیمت نیچے رکھیں گے۔ پنجاب میں سرپلس گندم ہوئی ہے جو دو کروڑ 20 لاکھ ٹن کے قریب ہے۔ تاہم دیگر صوبوں میں گندم ان کی ضروریات سے کم پیدا ہوتی ہے، اس لیے اس ڈیمانڈ کو پورا کرنے کے لیے حکومت گندم درآمد کر رہی ہے۔‘
بقول سلمیٰ بٹ، ’صوبے میں اِس وقت گندم کا کوئی بحران نہیں ہے۔ رواں سال پورے ملک میں جو گندم پیدا ہوئی ہے وہ 28 ملین ٹن تھی، جبکہ ضرورت تین کروڑ 20 سے 30 لاکھ ٹن ہے۔ جیسے ہی باہر سے گندم آئے گی، یہاں بھی قیمتیں مستحکم ہو جائیں گی۔‘
کسان اتحاد کے ایک دھڑے کے چیئرمین خالد کھوکھر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’موجودہ حکومت اپنی ناقص پالیسیوں سے تین سال سے ہی نقصان پہنچا رہی ہے۔ ابھی تک گندم خریداری کا کوئی منظم منصوبہ نہیں بنایا گیا، جس سے کاشتکار بدحال ہوتا جا رہا ہے۔
’ان تین سالوں میں کاشتکاروں نے گندم لاگت سے بھی کم قیمت پر فروخت کی، لیکن ہر سال مارکیٹ میں آٹے کا بحران پیدا ہو رہا ہے اور روٹی مہنگی ہو رہی ہے۔
’ہم اپنی ایک پالیسی ترتیب دے رہے ہیں، جس میں گندم کی خریداری میں حکومتی مداخلت ختم کرنے، بین الصوبائی گندم کی نقل و حرکت پر پابندی ختم کرنے اور دیگر تجاویز شامل ہیں۔‘
کسان اتحاد کے دوسرے دھڑے کے چیئرمین خالد باٹھ نے کہا کہ ’ہم موجودہ حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں سے تنگ آچکے ہیں۔ گندم کی فصل ہو، چاول یا گنا، کسان کو لاگت کے مطابق بھی قیمت نہیں مل رہی۔
’تین سالوں میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ناتجربہ کاری پر مبنی پالیسیوں سے نہ صرف زراعت بلکہ کاشتکار بھی معاشی تباہی کے دہانے پر ہیں۔ اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے استعفے کا مطالبہ لے کر ہم 25 ستمبر کو لاہور سے اسلام آباد لانگ مارچ کریں گے۔‘