ایک تحقیق کے مطابق آپ کی آواز سے پتا چل سکتا ہے کہ آپ کی عمر کتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور بڑھاپے کے اثرات آپ پر کس حد تک ظاہر ہو رہے ہیں۔
سائنس دانوں نے سپیچ کلاک کے نام سے ایک کمپیوٹر نظام تیار کیا ہے۔ یہ نظام بولتے وقت وقفے، آواز کے اتار چڑھاؤ اور استعمال کیے گئے الفاظ کو سن کر کسی شخص کی عمر کا اندازہ لگا سکتا ہے۔
نوجوانوں جیسی آواز میں عموماً بولنے کی رفتار تیز، انداز رواں اور وقفے مختصر ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں بڑی عمر کے افراد سے منسوب گفتگو نسبتاً سست اور زیادہ وقفوں والی ہوتی ہے۔
جب اس نظام کو آزمایا گیا تو بعض افراد کی آواز ان کی اصل عمر سے زیادہ بوڑھی محسوس ہوئی۔ ان افراد میں جسمانی بڑھاپے، ذہنی صلاحیت میں کمی اور ڈیمنشیا کی علامات کا امکان بھی زیادہ پایا گیا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نظام مستقبل میں مریضوں میں ڈیمنشیا کی ابتدائی جانچ کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف اور ٹرینیٹی کے سکول آف میڈیسن اور گلوبل برین ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ میں دماغی صحت کے پروفیسر آگسٹن ابانیز نے کہا، ’ایسا لگتا ہے کہ ہماری آواز میں بڑھتی عمر کے بارے میں ہماری گذشتہ سوچ سے کہیں زیادہ معلومات موجود ہوتی ہیں۔‘
انہوں نے کہا: ’آواز سے نہ صرف کسی شخص کی اصل عمر کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ اس میں ذہنی صلاحیت، دماغ، جسم کے حیاتیاتی نظام اور زندگی بھر کے سماجی ماحول کے اثرات بھی ظاہر ہوتے ہیں۔
’اس سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ مستقبل میں سپیچ کلاک جیسے سادہ اور آسان طریقے، ممکنہ طور پر جسمانی علامات کی جانچ کے ساتھ مل کر، بڑھتی عمر کا اندازہ لگانے والے زیادہ مہنگے طریقوں کے متبادل یا معاون بن سکیں گے۔‘
سائنس ایڈوانسز نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ارجنٹائن، چلی، کولمبیا، میکسیکو اور پیرو سے تعلق رکھنے والے ہسپانوی زبان بولنے والے دو ہزار 928 افراد کی آوازوں کا جائزہ لیا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان افراد میں صحت مند بالغوں کے علاوہ معمولی ذہنی کمزوری، الزائمر اور دماغ کے اگلے اور کنپٹی والے حصوں کو متاثر کرنے والے ڈیمنشیا کی مختلف اقسام میں مبتلا لوگ بھی شامل تھے۔
کمپیوٹر نظام نے ہر شخص کی ’آواز کی عمر کا فرق‘ معلوم کیا، یعنی اس کی اصل عمر اور آواز سے ظاہر ہونے والی جسمانی عمر کے درمیان کتنا فرق ہے؟
جن افراد کی آواز ان کی اصل عمر سے زیادہ بوڑھی محسوس ہوئی، انہوں نے یادداشت، سوچنے اور منصوبہ بندی کے امتحانات میں بھی نسبتاً کم کارکردگی دکھائی، چاہے ان امتحانات میں بولنا شامل نہ ہو۔
آواز اور اصل عمر کے درمیان زیادہ فرق کا تعلق بعض جسمانی تبدیلیوں سے بھی پایا گیا۔ مثال کے طور پر دماغ کے سکین میں دماغ زیادہ عمر رسیدہ دکھائی دیا اور ڈی این اے میں بھی تبدیلیاں پائی گئیں۔
الزائمر کے مریضوں میں آواز کی عمر اور اصل عمر کا فرق زیادہ تھا۔ اس فرق کا تعلق ان کے خون میں ’پی ٹاؤ 217‘ نامی پروٹین کی زیادہ مقدار سے بھی تھا، جو الزائمر کی اہم علامات میں سے ایک ہے۔
جن لوگوں کی آواز ان کی اصل عمر سے زیادہ بوڑھی لگتی تھی، ان میں سماجی مشکلات، کم تعلیم، مالی تنگی اور خوراک کی کمی یا غیر یقینی دستیابی بھی زیادہ دیکھی گئی۔
جسمانی عمر کا اندازہ لگانے کے موجودہ طریقوں میں اکثر ایم آر آئی مشین، خون کے نمونے، جینیاتی اور حیاتیاتی ٹیسٹ یا ماہر ڈاکٹروں سے خصوصی معائنہ درکار ہوتا ہے۔
اس کے مقابلے میں آواز کہیں سے بھی ریکارڈ کی جا سکتی ہے، بار بار جانچی جا سکتی ہے، اس عمل میں جسم کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور اس پر خرچ بھی بہت کم آتا ہے۔ یہ سہولت خاص طور پر ان ملکوں اور علاقوں میں اہم ثابت ہو سکتی ہے جہاں جدید تشخیصی ٹیکنالوجی آسانی سے دستیاب نہیں۔
© The Independent