گندم کی کمی: سندھ حکومت نے پاسکو سے خریداری کی منظوری دے دی

شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ صوبائی حکومت کے پاس گندم کے ذخائر 11 لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن سے کم ہو کر تقریباً سات لاکھ میٹرک ٹن رہ گئے ہیں۔

صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن 18 اگست، 2026 کو کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے(ویڈیو کا سکرین گریب)

سندھ حکومت نے صوبے میں گندم کے ذخائر میں کمی کے بعد پاسکو سے دو لاکھ 23 ہزار 445 میٹرک ٹن گندم خریدنے کی منظوری دے دی ہے، جبکہ سرل ایسوسیشن آف پاکستان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم کی درآمد کی اجازت دی جائے۔
صوبائی وزیر اطلاعات اور ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے منگل کو کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ سندھ کابینہ نے پاسکو سے چار ہزار 150 روپے فی من (40 کلوگرام) کے حساب سے گندم خریدنے کی منظوری دی ہے اور پاسکو سندھ کو دو لاکھ 23 ہزار 445 میٹرک ٹن گندم فراہم کرے گا۔

شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ صوبائی حکومت کے پاس گندم کے ذخائر 11 لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن سے کم ہو کر تقریباً سات لاکھ میٹرک ٹن رہ گئے ہیں، جبکہ صوبے میں مجموعی طور پر 48 لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن گندم موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں 800 سے زائد غیر مجاز گوداموں کا معائنہ کیا گیا، جہاں سے دو لاکھ 97 ہزار 730 میٹرک ٹن گندم ضبط کی گئی۔ دوسری جانب سندھ کابینہ نے فلور ملز کے لیے گندم ذخیرہ کرنے کی مدت بھی ایک ماہ سے بڑھا کر تین ماہ کرنے کی منظوری دی ہے۔

صوبائی وزیر کے مطابق فلور ملز سے نکلنے والے آٹے کی قیمت 112 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ موجودہ معاشی صورت حال اور مہنگائی کے باعث عام آدمی کے ساتھ ساتھ کسان بھی متاثر ہو رہا ہے، اس لیے گندم کی دستیابی یقینی بنانا سندھ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

’نجی شعبے کو گندم درآمد کرنے کی اجازت دی جائے‘

دوسری جانب سرل ایسوسیشن آف پاکستان ’Cereal Association of Pakistan‘ کے چیئرمین مزمل راؤف چپل نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم کی درآمد کے لیے نجی شعبے کو بھی اجازت دی جائے۔

مزمل راؤف چپل نے انڈپینڈٹ اردو کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے خود گندم درآمد کرکے اسے کوٹا سسٹم کے تحت مارکیٹ میں فراہم کرنے کے بجائے نجی شعبے کو براہ راست گندم درآمد کرنے کی اجازت دینا زیادہ مؤثر طریقہ ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چیئرمین سرل ایسوسیشن آف پاکستان نے کہا کہ نجی شعبے کو گندم درآمد کرنے کی اجازت ملنے سے مارکیٹ میں گندم کی دستیابی بہتر اور قیمتیں مستحکم ہو سکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طریقہ کار میں حکومت کو سبسڈی دینے یا بینکوں سے رقم لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی، کیونکہ نجی شعبہ اپنی استطاعت کے مطابق گندم درآمد کرے گا۔

مزمل راؤف چپل نے کہا کہ حکومت کو صرف نجی شعبے کو گندم درآمد کرنے کی اجازت دینی ہوگی، جس کے بعد نجی شعبہ مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق گندم منگوا سکے گا۔

ان کے بقول کوٹا سسٹم کے تحت گندم فراہم کرنے سے مارکیٹ میں قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کے امکانات کم ہیں، جبکہ نجی شعبے کو آزادانہ درآمد کی اجازت دینے سے قیمتیں نیچے آنے میں مدد مل سکتی ہے۔

دوسری جانب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے منگل کو گندم کی درآمد سے متعلق سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی تیاری شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اجلاس میں صوبوں اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (TCP) کی جانب سے گندم کی درآمد سے متعلق ضروریات کا جائزہ لیا گیا۔ اسحاق ڈار نے TCP کو گندم کی درآمد کے لیے ضروری تیاریوں کا عمل شروع کرنے کی ہدایت کی۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ حکومت گندم سمیت ضروری اشیائے خورونوش کی مناسب فراہمی اور قیمتوں میں استحکام یقینی بنانے کے لیے صوبوں کی معاونت جاری رکھے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ گندم کی درآمد کا پورا عمل مکمل شفافیت کے ساتھ اور تمام صوبوں کے قریبی تعاون سے مکمل کیا جائے۔

 

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان