’کیس تو مضبوط ہے، بس آپ ٹوئٹر ٹرینڈ چلوا دیں‘

آج کے اس ڈیجیٹل دور کو دیکھتے ہوئے دل سے یہ ہی دعا نکلتی ہے کہ کاش! قانون سوشل میڈیا کو لے کر اندھا ہونے کے ساتھ ساتھ بہرا اور گونگا بھی ہوتا۔ تاکہ فیصلے ایکس پر ٹرینڈز اور فالوورز کی گنتی پر نہیں، بلکہ صرف اور صرف ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ہوتے۔

9 اپریل 2021 کو لی گئی اس تصویر میں بیجنگ میں ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ’کوائشو‘ پر اپنے چینل کو سکرول کر رہی ہیں (گریگ بیکر / اے ایف پی)

پچھلے دنوں میرے پاس ایک خاتون آئیں۔ ان کا ایک مقدمہ چند سالوں سے سپریم کورٹ میں چل رہا ہے۔ قانونی طور پر ان کا پلڑا بظاہر اتنا بھاری ہے کہ تمام تر ثبوت اور شہادتیں ان کے حق میں ہیں اور فیصلہ قریب ہے۔ لیکن وہ مجھ سے کیا چاہتی تھیں؟ وہ مجھے ایک اچھی خاصی رقم کی پیشکش کر رہی تھیں تاکہ میں ان کے حق میں ایک زور دار سوشل میڈیا مہم چلا دوں۔

وجہ؟ انہیں ڈر تھا کہ مخالف پارٹی جوسوشل میڈیا کمپین چلا رہی ہے، ان کا شور کہیں فیصلہ کرنے والے معزز جج صاحبان پر اثر انداز نہ ہو جائے۔ ذرا سوچیں، ایک مدعی جس کے پاس تمام ثبوت موجود ہیں، اسے قانون پر بھروسہ کرنے کی بجائے ٹرینڈز خریدنے پڑ رہے ہیں۔

 کسی بھی 'نارمل' اور مہذب معاشرے میں ہوتا یہ ہے کہ اگر کوئی جرم ہو تو قانون حرکت میں آتا ہے، تفتیش ہوتی، عدالت لگتی ہے اور شواہد کی بنیاد پر سزا سنا دی جاتی ہے۔ سب کچھ ایک طے شدہ نظام یا ایس او پیز کے تحت ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے جیسے ممالک میں جہاں عدالتوں کے دھکے کھاتے کھاتے نسلیں گزر جاتی ہیں، یا پھر عدالت تک پہنچنے سے پہلے ہی 'نامعلوم افراد کی فائرنگ' یا آج کل کی مشہور اصطلاح کے مطابق ملزم کو 'ہاف یا فل فرائی' کر دیا جاتا ہے، وہاں اب انصاف حاصل کرنے کا ایک نیا ماڈرن طریقہ ایجاد ہو گیا ہے۔

اب قانون کی کتابوں میں کیا لکھا ہے، اس سے زیادہ اہم یہ ہو گیا ہے کہ آپ کے ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ سوشل میڈیا فالوورز اور آپ کا نام جسٹس فار کے ہیش ٹیگ کے ساتھ کتنے زور و شور سے ٹرینڈ کر رہا ہے، اب یہ عوامل طے کرتے ہیں کہ آپ کو انصاف ملے گا یا نہیں، اور ملے گا تو اس کی رفتار کیا ہوگی۔

 چونکہ میرا تعلق ایک عرصے سے ڈیجیٹل میڈیا انڈسٹری سے ہے اور ایک ادارے میں بطور نیوز ڈائریکٹر کام کر رہا ہوں، تو اکثر لوگ یہ گمان کر بیٹھتے ہیں کہ شاید میں کوئی ایسی 'سوشل میڈیا سائنس' جانتا ہوں جو انہیں راتوں رات انصاف دلا دے گی۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ یہ ٹرینڈز اور کیمپینز ایک دو دھاری تلوار ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 اس کی سب سے بڑی اور تلخ مثال مشہورِ زمانہ جنید حفیظ کیس ہے۔ حال ہی میں جب چھ سال کے طویل تعطل کے بعد اس کیس کی سماعت ہوئی، تو ہمارے نیوز روم میں فیصلہ ہوا کہ کیس کے تمام پہلوؤں کو سامنے لانے کے لیے ایک چھوٹی سی دستاویزی رپورٹ بنائی جائے۔ ہمارے پروڈیوسر نے اس کیس سے جڑے مختلف افراد سے رابطے شروع کیے۔ ایسے ہی ایک فرد سے جب بات ہوئی تو انہوں نے اپنا موقف تو بیان کر دیا، مگر ساتھ ہی درخواست کی کہ خدارا فی الحال یہ رپورٹ پبلش نہ کریں۔ ان کا ڈر بالکل جائز تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ چھ سال بعد تو ہماری شنوائی ہوئی ہے، یہ کیس اتنا حساس ہے کہ اگر سوشل میڈیا پر دوبارہ شور برپا ہوا، اور یہ شور اندھے قانون کے کانوں تک پہنچ گیا، تو عین ممکن ہے کہ کیس پھر سے طوالت کا شکار ہو جائے اور ہمیں مزید کئی سال انتظار کرنا پڑے۔ ہم نے تو فیصلہ کر لیا کہ فی الحال اس کیس پر رپورٹ نہیں کریں گے تاکہ کسی کی زندگی مزید عذاب نہ بنے۔

لیکن اس سارے واقعے نے میرے ذہن میں ایک سوال ضرور چھوڑ دیا۔ کہا جاتا ہے کہ قانون اندھا ہوتا ہے، وہ شکلیں نہیں بلکہ صرف ثبوت دیکھتا ہے۔ لیکن آج کے اس ڈیجیٹل دور کو دیکھتے ہوئے دل سے یہ ہی دعا نکلتی ہے کہ کاش! قانون سوشل میڈیا کو لے کر اندھا ہونے کے ساتھ ساتھ بہرا اور گونگا بھی ہوتا۔ تاکہ فیصلے ایکس پر ٹرینڈز اور فالوورز کی گنتی پر نہیں، بلکہ صرف اور صرف ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ہوتے۔

مصنف ایک ڈٰیجیٹل میڈیا نیوز نیٹ ورک میں بطور نیوز ڈایئریکٹر خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور دی بگ کویئسچن کے نام سے ایک پوڈکاسٹ کی میزبانی بھی کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ