مشرق وسطیٰ بحران: پاکستانی برآمدی آرڈرز خطرے میں

فروری میں شروع ہونے والی امریکہ، ایران جنگ نے خلیج کے راستے بحری نقل و حمل کو متاثر کیا ہے۔

فروری میں شروع ہونے والی امریکہ، ایران جنگ نے خلیج کے راستے بحری نقل و حمل کو متاثر کیا ہے (انڈپینڈنٹ اردو)

صنعتوں کے نمائندوں نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بحری نقل و حمل میں خلل کے باعث مال برداری کے اخراجات بڑھنے اور ترسیل کے زیادہ غیر یقینی ہونے سے غیر ملکی خریدار پاکستانی برآمدی آرڈرز موخر یا دیگر ممالک منتقل کر سکتے ہیں۔

فروری میں شروع ہونے والی امریکہ، ایران جنگ نے خلیج کے راستے بحری نقل و حمل کو متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ بحیرہ احمر میں یمن کی حوثی تحریک کی جانب سے دھمکیوں کے باعث بحری جہاز چلانے والی کمپنیوں نے بعض سروسز کو ایشیا اور یورپ کے درمیان مختصر بحری راستے نہر سویز سے ہٹا کر جنوبی افریقہ کے گرد بھیجنا شروع کر دیا ہے۔

پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے، جس کے بارے میں صنعت سے وابستہ نمائندوں کا کہنا ہے کہ جون میں ختم ہونے والے مالی سال کے دوران تقریباً 18 ارب ڈالر کی برآمدات ہوئیں، بحری نقل و حمل میں خلل سے پیداواری سامان درآمد کرنے کی لاگت کے ساتھ ساتھ خریداروں کی جانب سے ڈیلیوری پر ادا کی جانے والی حتمی قیمت بھی بڑھ رہی ہے۔

ترسیل میں تاخیر خاص طور پر ان کپڑوں اور گھریلو ٹیکسٹائل مصنوعات کے لیے نقصان دہ ہے جن کے آرڈرز خوردہ فروخت کے مقررہ شیڈول کے مطابق دیے جاتے ہیں۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے چیئرمین کامران ارشد نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’خریدار ترسیل کی یقین دہانیوں اور اشیا کی حتمی لاگت کے حوالے سے تیزی سے محتاط ہو رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’آرڈرز موخر، کم یا ایسے حریف ممالک منتقل کیے جانے کے خطرے سے دوچار ہیں جو خاص طور پر بڑے نقل و حمل اور لاجسٹکس مراکز رکھتے ہیں، جہاں مال برداری کے اخراجات کم اور بحری ترسیل کے شیڈول اب بھی زیادہ قابل اعتماد ہیں۔‘

کامران ارشد نے انڈیا، بنگلہ دیش اور چین کو حریف سپلائرز قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ طویل عرصے تک جاری رہنے والا خلل خریداروں کے مستقبل میں مصنوعات حاصل کرنے کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے پہلے ہی ضائع یا دیگر ممالک منتقل کیے جا چکے آرڈرز کی تعداد نہیں بتائی۔

انہوں نے ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی سے نیویارک ایک کنٹینر کی ترسیل کے مال برداری کے اخراجات تقریباً دو ہزار ڈالر سے بڑھ کر نو ہزار ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جو 350 فیصد اضافہ ہے۔

چین سے پاکستان ترسیل کے نرخ بھی دو ہزار سے 2400 ڈالر سے بڑھ کر چار ہزار سے 4500 ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

یہ اعداد و شمار مخصوص راستوں پر برآمد کنندگان کی جانب سے بتائے گئے نرخوں کی عکاسی کرتے ہیں اور پاکستان کی مجموعی تجارت میں اوسط اضافے کی نمائندگی نہیں کرتے۔

کامران ارشد نے کہا کہ ’خلل کے بعد سے مال برداری کے اخراجات میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔‘

پاکستانی کمپنی انٹرلوپ، جو نائکی، ایڈیڈاس اور پوما سمیت عالمی برانڈز کو مصنوعات فراہم کرتی ہے، نے بھی مال برداری کے زیادہ اخراجات اور بحری ترسیل کے کم قابل اعتماد شیڈول کی اطلاع دی ہے۔

کمپنی کے خارجہ امور کے سینئر جنرل منیجر ہمایوں جاوید خان نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’28 فروری کے بعد سے بین الاقوامی مال برداری کے نرخوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم اس کے اثرات راستے اور بحری کمپنی کے لحاظ سے مختلف ہیں۔‘

ہمایوں جاوید خان نے کہا کہ امریکہ کے مشرقی ساحل تک ترسیل کا وقت تقریباً 28 دن سے بڑھ کر 40 سے 42 دن ہو گیا ہے۔ تاہم ان کے مطابق کمپنی نے غیر ملکی آرڈرز منسوخ ہوتے نہیں دیکھے۔

انہوں نے کہا کہ ’فریٹ فارورڈرز کے لیے کنٹینرز دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے کچھ ترسیلات میں تاخیر ہوئی۔‘

انٹرلوپ اپنی زیادہ تر مصنوعات فری آن بورڈ بنیاد پر فروخت کرتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ سامان جہاز پر لادے جانے کے بعد عام طور پر خریدار ہی سمندری راستے سے مرکزی ترسیل کا انتظام اور اس کی ادائیگی کرتے ہیں۔

ہمایوں جاوید خان نے کہا کہ اس لیے بین الاقوامی مال برداری کے زیادہ اخراجات خریدار برداشت کر رہے ہیں۔

طویل راستے، زیادہ اخراجات

پاکستان شپ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل سید طاہر حسین نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے گرد موڑے جانے والے بحری سفر میں مزید 15 سے 20 دن لگ رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ’قدرتی طور پر جب آپ طویل راستوں سے سفر کرتے ہیں تو آپ کے ایندھن، بنکر فیول کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں، پھر انشورنس پریمیم میں اضافہ ہوتا ہے اور دیگر مختلف انتظامی اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔‘

ان کا حوالہ بحری ایندھن اور دیگر آپریشنل اخراجات کی جانب تھا۔

بحری نقل و حمل میں خلل کا اثر بحری کمپنی اور راستے کے لحاظ سے مختلف ہے۔

مارسک کی ستمبر کی ایڈوائزریز میں متاثرہ خلیجی ترسیلات کے لیے پابندیوں اور اضافی چارجز کا ذکر کیا گیا، جبکہ عمان میں صلالہ سمیت بعض بندرگاہوں کے ذریعے کچھ کارگو قبول کرنے کی بات بھی کہی گئی۔

مارسک اور ہیپگ لوئڈ نے بھی نہر سویز کے ذریعے محدود تعداد میں منتخب سروسز کی بحالی کا اعلان کیا، تاہم اپنے پورے نیٹ ورک کی عمومی بحالی نہیں کی۔

پاکستانی حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا ایک مخصوص کنٹینر بردار جہاز برآمد کنندگان کے لیے بحری ترسیل کے رابطوں کو بہتر بنا سکتا ہے۔

وزارت بحری امور کے ترجمان محمد ارشد نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’حکومت جہاز خرید یا لیز پر لے سکتی ہے، لیکن یہ مطلوبہ مقدار میں یقینی کارگو کی دستیابی سے مشروط ہوگا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ ضمانت برآمد کنندگان کی جانب سے ہونی چاہیے، جنہیں جہاز کے لیے مطلوبہ کارگو کی مقدار دستیاب ہونے کو یقینی بنانا ہوگا۔‘

یہ تجویز ابھی مشروط ہے۔ حکومت نے تاحال جہاز خریدنے یا لیز پر لینے، مجوزہ راستوں یا سروس شروع کرنے کے لیے کسی شیڈول کا اعلان نہیں کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت