آبنائے ہرمز کی بندش سے ممالک کو مہنگائی کے دباؤ کا سامنا: آئی ایم ایف

آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرستالینا جاجیوا کا کہنا ہے کہ  ترقی پذیر اور کم آمدنی والے ممالک کی  جانب سے قرضے قابو میں رکھنے کی کوششیں خطرے سے دوچار ہو گئی ہیں۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے آبنائے ہرمز کے تاحال بند ہونے کی وجہ سے  ممالک کو مہنگائی کے مسلسل دباؤ کا سامنا ہے۔

جارجیوا نے منگل کی رات گئے نارتھ کیرولائنا میں جی 20 کے مالیاتی رہنماؤں کے اجلاس کے موقعے پر ایک انٹرویو میں کہا کہ ترقی یافتہ معیشتوں میں تیزی سے بڑھتے ہوئے قرضے اور بانڈز پر منافعے کی شرح میں اضافہ نے ترقی پذیر اور کم آمدنی والے ممالک کی  جانب سے قرضے قابو میں رکھنے کی کوششوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ صرف کم آمدنی والے ترقی پذیر ممالک کا مسئلہ نہیں ہے۔ ترقی یافتہ معیشتوں میں قرضوں کی بلند سطح اور اس کے ساتھ ساتھ قابو میں نہ آنے والی مہنگائی کے باعث کم آمدنی والے، ابھرتی ہوئی مارکیٹوں اور ترقی پذیر معیشتوں سمیت سب کے لیے قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔‘

2022 میں آئی ایم ایف نے اندازہ لگایا تھا کہ کم آمدنی والے 60 فیصد ممالک قرضوں کے شدید بحران کا شکار ہیں یا انہیں اس بحران کا بہت زیادہ خطرہ ہے۔ تاہم کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں اور سرکاری قرض دہندگان کی مدد سے مضبوط مالیاتی اصلاحات کے باعث صورت حال بعد میں بہتر ہو گئی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ پیش رفت خطرے میں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکہ اور ایران کے درمیان فروری کے آخر میں جنگ کے آغاز سے ہی آبنائے ہرمز کی بندش نے دنیا بھر کے ممالک کو مشکل میں ڈال رکھا جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث جہاں تیل کی قلت کا سامنا ہے وہیں قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اسی کو دیکھتے ہوئے پاکستانی حکومت کو بھی چند مشکل فیصلے لینے پڑے ہیں۔

ابتدا میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا تاہم بعد میں امریکہ نے بھی اس کی ناکہ بندی کا آغاز کر دیا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے 24 اگست کو تہران کا دورہ کیا تھا جس کے بارے میں پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ یہ دورہ اسلام آباد کی جانب سے امریکی، ایران تنازعے کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں کے لیے جاری سفارتی کاوشوں کا حصہ تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت