آبنائے ہرمز میں کشیدگی سے بحری جہازوں کی آمدورفت ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر

اعداد و شمار فراہم کرنے والے ادارے کیپلر کے مطابق منگل کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد ایک ہفتے کی کم ترین سطح یعنی آٹھ تک گر گئی۔

10 اگست 2026 کو جنوبی ایران کے شہر بندر عباس کے قریب آبنائے ہرمز سے بحری جہاز گزرتے ہوئے (اے ایف پی)

شپنگ سے متعلق اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی تعداد منگل کو ایک ہفتے کی کم ترین سطح یعنی آٹھ تک گر گئی کیونکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث جہاز مالکان اس اہم آبی گزرگاہ سے گریز کر رہے ہیں۔

روئٹرز کے مطابق 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے قبل دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تیل کا ہر پانچ میں سے تقریباً ایک بیرل اسی آبنائے سے گزرتا تھا، لیکن ایران حملوں کے ردعمل میں نہ صرف آبنائے ہرمز کو بند کر دیا بلکہ اسرائیل اور مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات پر حملے بھی کیے۔

تہران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک واشنگٹن اس کی شرائط تسلیم نہیں کرتا۔

آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی ترسیل میں اس تعطل کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور مہنگائی بڑھی ہے۔

اعداد و شمار فراہم کرنے والے ادارے کیپلر کے مطابق منگل کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آٹھ بحری جہازوں کی تعداد 10 روزہ اوسطاً تقریباً 12 جہازوں سے کم تھی اور یہ 5 اگست کے بعد ایک دن میں گزرنے والے بحری جہازوں کی سب سے کم تعداد تھی۔

صرف ایک بحری جہاز، جو کوئلہ لے جا رہا تھا، آبنائے سے باہر نکلا، جبکہ باقی بحری جہاز اب بھی آبنائے سے گزر رہے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آبنائے میں داخل ہونے والے تمام سات بحری جہازوں نے ایرانی راستہ اختیار کیا۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کر دی ہیں اور اب اس اہم آبی گزرگاہ پر ’100 فیصد‘ کنٹرول حاصل ہے۔

ٹرمپ نے رواں ہفتے صحافیوں سے گفتگو میں کہا: ’یہ اب کھلی ہوئی ہے۔‘ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس وقت ’آبنائے ہرمز پر صرف امریکہ ہی کنٹرول رکھتا ہے۔‘

دوسری جانب ٹرمپ نے ایران سے جنگی ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے، جو واشنگٹن کے سامنے پیش کیے گئے چھ نکاتی الٹی میٹم میں تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی شرائط کے حوالے سے ان کے مؤقف میں اچانک تبدیلی ہے۔

ایران کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار نے رواں ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ وہ اس آبی گزرگاہ سے بحری ٹریفک کو اسی وقت گزرنے دیں گے جب امریکہ چھ شرائط پوری کرے گا، جن میں جنگ کے دوران ہونے والے نقصان کی ’مکمل ادائیگی‘ بھی شامل ہے۔

تاہم ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا: ’یہ ایک دلچسپ خیال ہے کیونکہ اب میں بھی اسی طرح ایران سے معاوضے کا مطالبہ کر رہا ہوں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’میں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت دی ہے کہ آئندہ ہونے والے تمام مذاکرات میں اس مطالبے کو مضبوطی سے شامل کریں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا