ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کھولنے کا ایرانی منصوبہ مسترد کر دیا: رپورٹ

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکہ اور ایران ثالثوں کے ذریعے ’مثبت اور تعمیری بات چیت‘ کر رہے ہیں، لیکن ٹرمپ کو ذاتی طور پر شک ہے کہ ایران ان کے مطالبات پورے کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چار ستمبر 2026 کو واشنگٹن وائٹ ہاؤس میں ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے جمعے کو رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سات دن کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ بند کرنے کی ایرانی تجویز مسترد کر دی ہے۔

دنیا بھر میں تیل کی فراہمی کے لیے کلیدی اہمیت رکھنے والی یہ آبی گزرگاہ امریکہ اور ایران کے درمیان اس تنازعے کی مرکزی وجہ ہے، جو تقریباً سات ماہ بعد بھی تعطل کا شکار ہے۔

تاہم، اس ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کے عالمی رہنماؤں کے اجلاس کے دوران ثالثی کی نئی کوششوں نے کسی معاہدے کی جانب پیش رفت کی کچھ امید پیدا کی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کو ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکاف سے مذاکرات کے لیے ملاقات کی اور اس سے قبل جنگ کے خاتمے اور اہم بحری گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے شرائط پیش کی تھیں۔

عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا کہ ’ایران نے قطر کے ذریعے امریکہ کو ٹھوس سات روزہ منصوبہ پہنچا دیا ہے۔ اگر ضروری شرائط پوری ہو جائیں تو آبنائے کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے، اور سات دنوں کے اندر معمول کی بحری آمدورفت بحال کی جا سکتی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’اب فیصلہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔ ایران جبر، دھمکیوں یا دھونس کو قبول نہیں کرتا، اور ایران دباؤ میں اپنے خودمختار حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ اگر امریکی فریق میں معاہدہ کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سنجیدگی ہے، تو اب سب کچھ تیار ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم ایرانی وزیر خارجہ کے بیان کے چند ہی گھنٹے کے اندر اخبار وال سٹریٹ جرنل نے معاملے سے باخبر امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

ایک امریکی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ امریکہ اور ایران ثالثوں کے ذریعے ’مثبت اور تعمیری بات چیت‘ کر رہے ہیں، لیکن ٹرمپ کو ذاتی طور پر اس بات پر شک ہے کہ ایران ان کے مطالبات پورے کرے گا۔

وال سٹریٹ جنرل کے مطابق امریکی صدر نے بتایا کہ انہوں نے اپنے سٹاف کو بتایا ہے کہ ان کے خیال میں دوبارہ بمباری مہم شروع ہونے کا امکان ہے۔

روئٹرز فوری طور پر اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کر سکا۔

ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ایک نقشے کی تصویر بھی پوسٹ کی، جس میں آبنائے ہرمز کے گرد دائرہ لگایا گیا تھا اور اس پر ’ٹرمپ سٹریٹ‘ لکھا تھا۔

اس سے قبل سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس سے اشارہ ملتا تھا کہ نئے منصوبے میں لبنان سمیت مشرق وسطیٰ میں سات دن کے لیے تمام جنگی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا