پاکستانی فیلڈ مارشل کی باقر قالیباف، عباس عراقچی سے ملاقاتیں

پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پیر کو ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ باقر قالیباف سے ملاقات کی، جس میں خطے کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پیر کو ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ باقر قالیباف سے ملاقات کی، جس میں خطے کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے بتایا کہ ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ ڈاکٹر سید عباس عراقچی اور پاکستان کے وزیر داخلہ سید محسن نقوی بھی موجود تھے جس میں خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے بات چیت ہوئی۔

ارنا کے مطابق ملاقات کے دوران باقر قالیباف نے کہا کہ ایران مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور امریکہ کو چاہیے کہ وہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔

اس سے قبل پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے پیر کو تہران میں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات کی، جس میں علاقائی امن سمیت مختلف امور پر بات چیت کی گئی۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ ایران کے تجارتی شراکت داروں کو ہدف بنانے والی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور محسن نقوی، جو امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، تہران پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات کی۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق پیر کو پاکستانی فوج نے ایک الگ بیان میں کہا کہ ’فیلڈ مارشل مشرق وسطیٰ میں تنازع کے پُرامن، پائیدار اور جامع حل کی کوششوں کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کریں گے۔‘

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اتوار کو کہا تھا کہ ’عاصم منیر کا دورہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ میں کردار ادا کرنے کے لیے پاکستان کی جاری خیرسگالی اور ثالثی کی کوششوں کے تحت ہو رہا ہے۔‘

ایرانی کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر پیر کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ تہران پہنچے تھے۔

سرکاری نیوز ایجنسی ایرنا کے مطابق پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تہران پہنچنے پر ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے ان کا استقبال کیا۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے کے پرامن، پائیدار اور جامع حل کے لیے کوششوں کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کریں گے۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ عاصم منیر نے گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔

یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب انہوں نے آج تہران جانا تھا۔ فون کال کی پہلے اطلاع سامنے نہیں آئی تھی۔ 

وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری کے دفتر نے تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ دونوں میں کیا بات چیت ہوئی۔

عاصم منیر کا یہ دورہ ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب امریکہ نے ایران کے خلاف ’اب تک کی سب سے بڑی مالی کارروائی‘ کی دھمکی دی ہے۔

امریکہ آج ایسی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے جن کا ہدف ایران کے تجارتی شراکت دار ہوں گے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ جائن کریں

روئٹرز کے مطابق امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ پیر کو دوپہر دو بجے مشرقی امریکی وقت (گرین وچ مین ٹائم کے مطابق شام چھ بجے) پریس کانفرنس کریں گے، جس میں تقریباً مسلسل اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنے والے ملک ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات کا اعلان متوقع ہے۔

ایران 1979 کے انقلاب کے بعد سے تقریباً مسلسل اقتصادی پابندیوں کی زد میں ہے۔

بیسنٹ نے اتوار کو فنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا ’صبح ہوتے ہی اقتصادی ڈی ڈے شروع ہو گا — کسی مخالف کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی مالی کارروائی۔‘

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی منگل کو ایران کا دورہ کریں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو ایک بیان میں کہا بدر البوسعیدی ’آبنائے ہرمز کے دونوں ساحلی ممالک کی حیثیت سے جاری سیاسی مشاورت‘ میں شرکت کریں گے، جس کا مقصد خطے میں امن و سلامتی کے فروغ میں مدد دینا ہے۔

بقائی نے مزید کہا ’دورے کا مقصد ایران اور عمان کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ البوسعیدی ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات میں دوطرفہ اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔‘

تاہم انہوں نے پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور عمانی وزیر خارجہ کے دوروں میں تعلق کو رد کر دیا۔

بقائی نے امریکی معاشی دباؤ میں شامل ہونے والے ممالک کو ’سنگین نتائج‘ کی وارننگ بھی دی۔

عاصم منیر اور محسن نقوی نے رواں سال اپریل میں بھی وفد کے ہمراہ ایران کا تین روزہ سرکاری دورہ کیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان