ایران پر امریکی معاشی پابندیاں آج متوقع، پاکستانی فیلڈ مارشل تہران پہنچ رہے ہیں

ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اقتصادی دباؤ بڑھانے کی بات دراصل عسکری محاذ پر بڑی ناکامی کا بالواسطہ اعتراف ہے۔

14 جون، 2026 کو تہران کے انقلاب سکوائر میں ایک عمارت پر ایرانی پرچم نظر آ رہا ہے (اے ایف پی)

ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اقتصادی دباؤ بڑھانے کی بات دراصل عسکری محاذ پر ایک بڑی ناکامی کا بالواسطہ اعتراف ہے۔

بریگیڈیئر جنرل حسین محیبی نے صوبہ البرز میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’اگر آپ عسکری محاذ پر کامیاب ہوتے تو اس تمام اقتصادی شور شرابے کی ضرورت نہ پڑتی۔‘

محیبی نے کہا کہ مخالف قوتوں کو اپنے بحری جہاز کافی پیچھے لے جانے پر مجبور ہونا پڑا جبکہ آبنائے ہرمز کو کھولنے یا ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو توڑنے کی کوششیں بھی ناکام ہو چکی ہیں۔

انہوں نے ایرانی میڈیا پر زور دیا کہ وہ جنگ کی نوعیت اور اس میں شامل فریقین کی نشاندہی کرے اور عوام کو اس حوالے سے آگاہ کرے۔

ایران نے کہا ہے کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر پیر کو خطے میں امن و سلامتی کی بحالی کی کوششوں کے سلسلے میں تہران کا دورہ کریں گے، تاہم اس حوالے سے زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

ادھر امریکہ نے ایران کے خلاف ’اب تک کی سب سے بڑی مالی کارروائی‘ کی دھمکی دی ہے اور پیر کو ایسی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے جن کا ہدف ایران کے تجارتی شراکت دار ہوں گے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ جائن یہاں کریں

ایران نے جواباً دھمکی دی ہے کہ اگر اقتصادی جنگ جاری رہی تو وہ خلیج سے تیل کی تمام برآمدات روک دے گا۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ پیر کو دوپہر دو بجے مشرقی امریکی وقت (گرین وچ مین ٹائم کے مطابق شام چھ بجے) پریس کانفرنس کریں گے، جس میں تقریباً مسلسل اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنے والے ملک ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات کا اعلان متوقع ہے۔

ایران 1979 کے انقلاب کے بعد سے تقریباً مسلسل اقتصادی پابندیوں کی زد میں ہے۔

بیسنٹ نے اتوار کو فنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا ’صبح ہوتے ہی اقتصادی ڈی ڈے شروع ہو گا — کسی مخالف کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی مالی کارروائی۔‘

متحارب ممالک نے کئی ہفتوں سے ایک دوسرے کے خلاف فوجی حملے نہیں کیے، تاہم چھ ماہ سے جاری تنازع ختم کرنے کے لیے بامعنی مذاکرات بھی نہیں ہوئے۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملے شروع کیے جانے کے بعد سے ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں، جن میں زیادہ تر ایران اور لبنان میں جان سے گئے۔

ان حملوں نے ایران کی روایتی عسکری صلاحیتوں کو خاصا نقصان پہنچایا، اقتصادی مشکلات میں اضافہ کیا اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو بھی نشانہ بنایا۔

تاہم ایران نے اتنی میزائل اور ڈرون صلاحیت برقرار رکھی کہ وہ خلیجی ممالک پر حملے کر سکے اور آبنائے ہرمز میں تیل بردار بحری جہازوں کے لیے خطرہ بن سکے۔

اس کے نتیجے میں اس اہم آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت تقریباً رک گئی ہے اور عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

بیسنٹ نے مخصوص اقدامات کی تفصیلات بتائے بغیر عندیہ دیا کہ امریکہ ان ’خوف زدہ ممالک‘ کو بھی نشانہ بنائے گا جو ایران کی معیشت اور مالیاتی نظام کے ساتھ روابط برقرار رکھ کر ’مصالحت پسندی‘ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے فنانشل ٹائمز میں لکھا ’انہیں ایران کے ساتھ یہ تعاون جاری رکھنے کے نتائج پر غور کرنا چاہیے۔‘

ایران کئی روز سے ممکنہ پابندیوں کے لیے تیاری کر رہا ہے اور متعدد سخت بیانات جاری کر چکا ہے جن سے عندیہ ملتا ہے کہ وہ بڑے فوجی ردعمل کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے اتوار کو اقتصادی جوابی کارروائی کا عندیہ دیا۔

رضائی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا ’اگر اقتصادی جنگ جاری رہی تو ایک قطرہ بھی تیل برآمد نہیں کیا جائے گا، نہ آبنائے ہرمز کے ذریعے اور نہ ہی خلیج فارس کے کسی اور راستے سے۔‘ 

انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی ملک کی جانب سے امریکی اقتصادی جنگ میں شرکت یا حمایت کو ایرانی عوام کے خلاف ’جنگی اقدام‘ تصور کرے گا۔

بیسنٹ اس سے قبل چین پر زور دے چکے ہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ تعاون کرے کیونکہ چین خلیجی خطے سے اپنی تیل کی درآمدات کا نصف حاصل کرتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے جواباً کہا ’پابندیاں اور دباؤ مسئلے کے حل میں مدد نہیں دیتے‘ اور سفارت کاری پر زور دیا۔

امریکی اور اسرائیلی حملوں سے بنیادی ڈھانچے کے کچھ حصے تباہ ہونے سے پہلے ہی ایرانی معیشت عالمی پابندیوں کے دباؤ میں تھی۔

اگرچہ تہران اب بھی کھل کر مزاحمت کا اظہار کر رہا ہے، تاہم ایرانی حکام خبردار کر چکے ہیں کہ مزید اقتصادی سزا سے مشکلات میں اضافہ، دوبارہ بدامنی اور ملک کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ایران جنگ میں پہلے ہی بلند افراطِ زر، کمزور کرنسی، توانائی کی قلت، پابندیوں اور گہری ساختی کمزوریوں کے ساتھ داخل ہوا تھا اور اب اسے تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے، متاثرہ تجارت، پیداوار میں کمی اور تعمیر نو کے اخراجات کا بھی سامنا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان باضابطہ مذاکرات نہ ہونے کی صورت میں، جو آخری بار جون میں سوئٹزرلینڈ میں ہوئے تھے، قطر، پاکستان اور ترکی سمیت دیگر ممالک نے سفارت کاری کے فروغ کی کوششیں کی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا