حنا جاوید قتل کیس میں شوہر اور ملازم کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ

حنا جاوید کی لاش 21 اگست کی صبح راولپنڈی کے لال کرتی علاقے میں واقع عسکری اپارٹمنٹس کے ایک فلیٹ کے باتھ روم سے برآمد ہوئی تھی۔

راولپنڈی میں ڈیوٹی مجسٹریٹ نے اتوار کو حنا جاوید قتل کیس میں ان کے شوہر اور ملازم کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

45 سالہ حنا کے قتل کیس میں پولیس نے ان کے شوہر فیصل اصغر اور گھریلو ملازم ذیشان ارشد کو گرفتار کیا تھا۔

ان کی لاش 21 اگست کی صبح راول پنڈی کے لال کرتی علاقے میں واقع عسکری اپارٹمنٹس کے ایک فلیٹ کے باتھ روم سے برآمد ہوئی تھی۔

راول پنڈی پولیس نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کیے جا چکے ہیں۔

پولیس کے مطابق ملزمان سے قتل کی واردات میں استعمال ہونے والی رسی اور تار برآمد کر لی گئی جبکہ تفتیش کے دوران ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے لیے جائیں گے۔

پولیس کا کہنا ہے مرکزی ملزم فیصل اصغر کے والد کو بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ فیصل نے اپنے ملازم ذیشان کو قتل کی واردات میں معاونت کے لیے پیسے دیے تھے۔

تھانہ سول لائنز میں حنا کے بھائی فہد جاوید ملک کی مدعیت میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 302 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

دفعہ 302 قتل جبکہ دفعہ 34 مشترکہ نیت کے تحت متعدد افراد کی جانب سے کیے گئے مجرمانہ عمل سے متعلق ہے۔

ایف آئی آر میں کیا کہا گیا؟

ایف آئی آر کے مطابق جب فہد جاوید ملک گھر پہنچے تو انہوں نے اپنی بہن کو باتھ روم میں مردہ حالت میں پایا۔

درخواست گزار کے مطابق ’حنا کے دونوں ہاتھ پیچھے کپڑے سے بندھے ہوئے تھے، ان کے منہ پر کپڑا تھا جبکہ گلے میں بجلی کی تار موجود تھی، جو مبینہ طور پر شاور کے ساتھ باندھی گئی تھی۔‘

ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا ’حنا کے منہ سے خون اور جھاگ نکل رہا تھا جبکہ باتھ روم کے فرش پر بھی خون موجود تھا۔

مدعی نے الزام لگایا کہ حنا کو قتل سے قبل تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

فہد نے شبہ ظاہر کیا کہ ان کی بہن کو کسی زہریلی چیز کا استعمال بھی کرایا گیا جس کی تصدیق پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹس کے بعد ہی ہو سکے گی۔

ان کے مطابق جمعرات کی صبح حنا کے سسر اصغر علی فیاض نے فون کر کے گھر میں ایمرجنسی کی اطلاع دی اور انہیں فوری پہنچنے کے لیے کہا۔

ایف آئی آر میں حنا کے شوہر فیصل اصغر، سسر اصغر علی فیاض اور گھریلو ملازم کو نامزد کیا گیا ہے۔

حنا نے نومبر 2025 میں ریٹائرڈ کرنل اصغر علی فیاض کے بیٹے فیصل اصغر سے شادی کی تھی۔

پولیس کے مطابق حنا کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بینظیر بھٹو ہسپتال منتقل کی گئی تھی اور تفتیش میں پوسٹ مارٹم رپورٹ سمیت تمام دستیاب شواہد کا جائزہ لیا جائے گا۔

خاندان کے الزامات کیا ہیں؟

حنا کے خاندان نے واقعے کو ایک مبینہ منصوبہ بند قتل قرار دیتے ہوئے شوہر اور دیگر افراد کے کردار پر سوالات اٹھائے ہیں۔

حنا کے رشتے دار شہرام اظہر ملک نے واقعے کو خاندان کے لیے ایک اچانک پیش آنے والا حادثہ نہیں بلکہ مبینہ طور پر پہلے سے تیار کیا گیا منصوبہ قرار دیا۔

شہرام کے مطابق ’حنا بدھ کی رات اپنے میکے سے واپس سسرال گئی تھیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ رات کو شوہر اور گھریلو ملازم نے مبینہ طور پر انہیں ایمرجنسی کا بہانہ کر کے کمرے سے باہر بلایا، جس کے بعد ان پر تشدد کیا گیا۔‘

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ مبینہ منصوبہ بندی چند روز پہلے کی گئی تھی اور گھریلو ملازم کو اس جرم میں شامل ہونے کے لیے ایک لاکھ روپے دینے کا لالچ دیا گیا۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔

شہرام نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ’حنا کی موت کے بعد واقعے کو خودکشی یا گھر میں ڈکیتی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔‘

ان کے مطابق حنا کے سسر نے فہد کو فون کر کے گھر میں ایمرجنسی کی اطلاع دی، تاہم جب خاندان وہاں پہنچا تو حنا باتھ روم میں مردہ حالت میں موجود تھیں۔

خاندان نے فیصل اصغر کی پہلی شادی کے بارے میں بھی دعویٰ کیا کہ وہ مبینہ تشدد اور بدسلوکی کے باعث ختم ہوئی تھی۔ اس دعوے کی بھی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔

 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حنا کی تایا زاد بہن صباح بانو ملک نے کہا ’پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد ایک سنگین مسئلہ ہے، جو کسی ایک طبقے یا مخصوص معاشی پس منظر تک محدود نہیں۔‘

انہوں نے کہا وہ برسوں سے خواتین کے خلاف جرائم اور تشدد کے واقعات کے بارے میں لکھتی رہی ہیں لیکن اس مرتبہ وہ ایک ایسے واقعے کے بارے میں بات کر رہی ہیں جس میں متاثرہ خاتون ان کے اپنے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔

صباح بانو کے مطابق ’حنا کی شادی کو ابھی دس ماہ بھی مکمل نہیں ہوئے تھے اور خاندان چاہتا ہے کہ واقعے کی مکمل، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔‘

خواتین کے خلاف تشدد اور انصاف کا مطالبہ

پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد اور قتل کے متعدد نمایاں مقدمات سامنے آتے رہے ہیں، جن میں 2021 میں اسلام آباد میں 27 سالہ نور مقدم کا قتل بھی شامل تھا۔

نور مقدم کے قتل میں مجرم قرار دیے جانے والے ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی گئی تھی، جسے سپریم کورٹ نے 2025 میں برقرار رکھا جبکہ رواں سال جون میں ان کی نظرثانی کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی۔

حنا کی موت کے معاملے پر صدر مملکت آصف علی زرداری کی صاحب زادی اور خاتون اول عاصفہ بھٹو زرداری نے بھی فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

صدر سیکریٹریٹ کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق آصفہ بھٹو زرداری نے حنا کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے واقعے کی مذمت کی اور پنجاب حکومت پر زور دیا کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔

انہوں نے کہا ذمہ دار افراد کا تعین کر کے انہیں قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ ایسے واقعات کے خلاف واضح پیغام جائے۔

آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ’ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ایسی ہونی چاہیے جو مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام میں مثال بنے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان