دنیا بھر سے 21 سابق اور نامور کرکٹ کپتانوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر سابق وزیراعظم اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کا سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق مکمل اور آزادانہ طبی معائنہ کروانے اور ان کے قانونی حقوق کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
سابق کپتانوں کی جانب سے اتوار کو بھیجے گئے اس مشترکہ خط میں حکومت پاکستان سے بنیادی طور پر تین اہم مطالبات کیے گئے ہیں:
پہلا مطالبہ آزادانہ طبی معائنے سے متعلق ہے۔ ان کرکٹرز کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق عمران خان کے ذاتی معالجین پر مشتمل میڈیکل بورڈ کو ان کا مکمل اور غیر جانب دارانہ معائنہ کرنے دیا جائے، بالخصوص دائیں آنکھ کی بینائی میں کمی سے متعلق اطلاعات کا فوری اور تفصیلی جائزہ لیا جائے۔
دوسرا مطالبہ اہل خانہ سے ملاقاتوں کی بحالی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے بحال کی گئی ہفتہ وار فیملی سے ملاقاتوں کے سلسلے کو کسی بھی انتظامی تاخیر یا رکاوٹ کے بغیر باقاعدگی سے جاری رکھا جائے۔
ایک اور اہم مطالبہ فوری علاج کی فراہمی ہے۔ خط کے مطابق طبی معائنے کے بعد بورڈ کی جانب سے تجویز کردہ کسی بھی قسم کے علاج کو بغیر کسی تاخیر کے فوری طور پر یقینی بنایا جائے۔
خط میں موقف اپنایا گیا ہے کہ 73 سالہ عمران خان گذشتہ تین سال سے زائد عرصے سے حراست میں ہیں اور ان کے کیس سے جڑے سیاسی و قانونی دلائل سے قطع نظر، عدالت کے حکم پر مبنی طبی کارروائی کی مکمل اور درست فرہمی ایک بنیادی انسانی تقاضا ہے۔
سابق کپتانوں کا کہنا ہے کہ کرکٹ کے میدان میں قائم ہونے والا رشتہ سیاسی سرحدوں سے بالاتر ہے اور اس معاملے کا وقار کے ساتھ جلد حل تمام کرکٹ کھیلنے والے ممالک کی نظر میں منصفانہ قدم تسلیم کیا جائے گا۔
خط میں چھ ماہ پہلے 14 سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں کے ایک اور خط کا بھی حوالہ ہے جس میں عمران خان کے ساتھ انسانی ہمدردی کے سلوک اور مناسب طبی دیکھ بھال کی اپیل کی تھی۔
آج سامنے آنے والے خط میں کہا گیا ’ہم نے وہ خط سیاست دانوں کے طور پر نہیں بلکہ سابقہ ساتھیوں اور حریفوں کے طور پر لکھا تھا جن کا رشتہ کرکٹ کے میدان میں قائم ہوا تھا — ایک ایسا رشتہ جو ان سرحدوں اور تنازعات سے بالاتر ہے جو اکثر ممالک کو تقسیم کرتے ہیں۔‘
’ہم اب دوبارہ لکھ رہے ہیں، جس میں مزید سات سابق کپتان بھی شامل ہوئے ہیں۔‘
خط پر دستخط کرنے والوں میں مائیکل اتھرٹن، الیکس بلیک ویل، ایلن بارڈر، مائیکل بئیرلی، گریگ چیپل، این چیپل، بلنڈا کلارک، سر ایلسٹائر کک، سنیل گواسکر، لی جیرمون، ایڈم گلکرسٹ، ڈیوڈ گوور، کم ہیوز، ناصر حسین، سر کلائیو لائیڈ، کپیل دیو، ارجنا راناتُنگا، اینڈریو سٹراس، دلیپ وینگسارکر، سٹیفن واہ اور جان رائٹ شامل ہیں۔
سپریم کورٹ نے منگل کو حکم دیا تھا کہ عمران خان کو علاج کے لیے دارالحکومت اسلام آباد کے نجی شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم حکام نے جمعے کوعمران خان کو سرکاری ہسپتال میں طبی معائنے کے بعد دوبارہ جیل منتقل کر دیا۔
سابق کرکٹ کپتان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو گذشتہ سال کے آخر میں ایک ایسے کیس میں 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جس کے بارے میں عمران خان کا موقف ہے کہ وہ سیاسی انتقام پر مبنی ہے۔
خان 2018 سے 2022 تک وزیراعظم رہے، جس کے بعد سیاسی بحران کے دوران عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔
اس کے بعد سے انہیں کرپشن اور دیگر الزامات کے متعدد قانونی مقدمات کا سامنا ہے، جن کے بارے میں وہ اور ان کی پارٹی پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ یہ سیاسی انتقام پر مبنی ہیں۔
مئی 2023 میں ان کی گرفتاری کے بعد ملک گیر احتجاج شروع ہو گئے تھے، جن میں سے کچھ پرتشدد ہو گئے اور جن کے نتیجے میں سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا۔
عمران خان نے 1971 سے 1992 کے درمیان پاکستان کے لیے 88 ٹیسٹ اور 175 ون ڈے انٹرنیشنل کھیلے اور 1992 میں پاکستان کو اس کی واحد ODI ورلڈ کپ فتح دلائی۔