شام میں اسرائیلی حملے: خدشات، مشکلات اور خطرات

ایسا لگتا ہے نتن یاہو اکتوبر کے انتخابات جیتنے کے لیے ترکی اور شام کے ساتھ کشیدگی چاہتے ہیں۔

28 نومبر، 2025 کو شام کے گاؤں بیت جن میں اسرائیلی فورسز کے آپریشن کے بعد دمشق کے الموسات ہسپتال کے بستر پر ایک شخص پڑا ہے (اے ایف پی)

اسرائیل کی شام میں حالیہ بمباری کے بعد ترکی اور صیہونی ریاست کے درمیان زبانی جنگ چھڑ گئی ہے، جس سے کشیدگی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

اس صورت حال نے شام کی نئی حکومت کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے جبکہ امریکہ کے لیے یہ حالات پریشان کن ہیں، جو پہلے ہی ایران کے ساتھ جنگ کو کسی منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

صیہونی ریاست کا کہنا ہے کہ ترکی الیپو کے قریب ایک فضائی اڈے پر اپنے فوجی متعین کرنے والا تھا۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں شام کو یاد دہانی کرائی گئی کہ سلامتی کے معاملات پر اسرائیل اور شام میں اتفاق ہوا تھا کہ سٹیٹس کو برقرار رکھا جائے گا۔

تل ابیب نے شام کو خبردار کیا تھا کہ کسی بھی طرح کی تعیناتی اسرائیلی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کیا جائے گا، لیکن شام نے اس تنبیہ کو نظر انداز کیا۔

اسرائیلی حکام کے بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ترکی کو ایک دشمن ریاست تصور کر رہے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف ایوال ضمیر نے اس صورت حال پر کہا کہ صیہونی ریاست کسی دشمن قوت کو اپنی سرحد کے قریب پنجے گاڑنے نہیں دے گی۔

ان کا کہنا تھا اسرائیل نہ صرف دہشت گردوں سے اٹھنے والی دھمکی کو روکے گا بلکہ وہ کسی ایسے عسکری خطرے کو بھی روکے گا جو اس کی سرحد پر ہو۔

اس بیان سے صاف ظاہر ہے کہ اسرائیلی حکومت اور اس کے اعلیٰ حکام شام میں ترکی کے کردار کو کیسے دیکھتے ہیں۔

کچھ اسرائیلی حلقوں میں یہ تاثر ہے کہ ان فضائی حملوں کی وجہ سے ممکنہ طور پر یا تو شام سے جنگ ہو سکتی ہے یا پھر ترکی سے اور یا پھر دونوں ممالک سے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ شام پر اس طرح کے فضائی حملے اسرائیل کی طرف سے نئے نہیں اور یہ کہ اسرائیل نے دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے گرنے سے پہلے جنگ زدہ ملک میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے حملے کیے تھے۔

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کی حکومت چاہتی ہے کہ ترکی شام میں اپنے کردار کو مزید وسیع نہ کرے۔

شاید اسی بنیاد پر اسرائیلی وزارت خارجہ نے اکثر و بیشتر شمالی شام میں ترکی کے کردار کی مذمت کی، جہاں انقرہ نے 2016 سے لے کر اب تک کئی مرتبہ مداخلت کی ہے۔

گو احمد الشرح جولانی کے اقتدار میں آنے کے بعد ترکی نے اس مداخلت میں کمی کی ہے۔ تاہم انقرہ شامی حکومت کی مدد کر رہا ہے۔

صیہونی ریاست کو خدشہ ہے کہ اس معاونت کے بدلے ترکی سٹریٹیجک مفادات حاصل کرنا چاہتا ہے جس میں ممکنہ طور پر فضائی اڈوں کا حصول شامل ہے۔

شام کی نئی حکومت نے صاف طور پر کہا ہے کہ وہ اسرائیل سے کسی طرح کی لڑائی نہیں چاہتی لیکن خدشہ ہے کہ اسرائیل کی یہ کارروائیاں جولانی کی حکومت میں موجود سخت گیر عناصر کو چراغ پا کر سکتی ہیں۔

ایسے عناصر حکومت پر دباؤ برھائیں گے کہ وہ اسرائیل کے حوالے سے سخت پالیسی اپنائے۔

اسرائیل شام کی فضا میں اپنی برتری چاہتا ہے اور وہ اس بات پہ پہلے ہی سیخ پا ہے کہ شام کو ترکی کی طرف سے ریڈار سسٹم کیوں دیا گیا؟

اگر شام کے اندر ترکی کو فضائی اڈے بھی ملتے ہیں تو اس سے اسرائیل کی یہ برتری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

اس ساری صورت حال نے امریکہ کو پریشان کر دیا ہے کیونکہ ایک طرف اس کا دیرینہ اتحادی اسرائیل ہے اور دوسری طرف ترکی، قطر اور سعودی عرب ہیں، جو نئی شامی حکومت کی حمایت بھی کرتے ہیں اور شام کی حکومت کے مغرب سے تعلقات بہتر کروانے میں انہوں نے اپنا کردار بھی ادا کیا ہے۔

ٹرمپ کے حمایتیوں میں اسرائیل - ایران جنگ کی وجہ سے پہلے ہی تقسیم ہے۔ امریکہ میں ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف بھی اس وجہ سے گرا ہے۔

ایسے میں اگر اسرائیل ایک اور محاذ کو گرم یا کشیدہ کرتا ہے تو امریکی صدر کے لیے بہت سی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

اسرائیل اور ترکی دونوں میں قدامت پرست حکومتیں ہیں، جو مذہب کو ایک کارڈ کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔

دونوں 2010 سے اٹھنے والی تلخی کو بھولی نہیں۔ اس لیے اس بات کا قوی امکان ہے کہ ان میں کسی وقت بھی کشیدگی بھڑک اٹھے۔

ترکی شام میں کردوں پہ نظر رکھنے کے لیے اپنے کردار کو وسیع کرنا چاہتا ہے جبکہ اسرائیل ایسے کردار کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترکی کی طرف سے حماس کی حمایت بھی اسرائیل کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اسرائیلی حملے کردوں اور دروز برادری کے حوصلے بڑھا سکتے ہیں، جو شام اور ترکی کے لیے باعث تشویش ہے۔

ماضی میں فلسطینی مزاحمت کاروں نے پڑوسی ممالک سے اسرائیل پہ حملے کر کے اس کی ناک میں دم کردیا تھا۔

اس وقت اسرائیل کے پڑوس میں کوئی بھی ایسی طاقت نہیں جو موثر طور پر اسرائیل کے لیے مشکلات کھڑی کر سکے۔

حماس عسکری طور پہ تقریبا قریب المرگ ہے۔ حزب اللہ کی طاقت کو شدید دھچکا لگا ہے۔

شام میں ایران کی موجودگی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ ایسے میں نتن یاہو شامی حکومت کو کمزور کر کے اپنے لیے خود گڑھا کھود رہے ہیں۔

شامی حکومت کے سخت گیر عناصر 15 سال سے زائد عرصے تک حالت جنگ میں رہے ہیں۔ اگر انہوں نے اسرائیل کے حوالے سے سخت گیر پالیسی اپنائی تو اس سے اسرائیل کو شدید نقصان ہوگا۔

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اسرائیل ہوش کے ناخن لے۔ ایسا لگتا ہے کہ نتن یاہو صرف انتخابات کو جیتنے کے لیے ترکی اور شام کے ساتھ کشیدگی چاہتے ہیں۔

اگر اسرائیلی وزیر اعظم اس کشیدگی کو بڑھاتے ہیں تو شاید وہ ممکنہ طور پہ الیکشن جیت جائیں، جس سے ان کو وقتی فائدہ ہوگا۔

تاہم کشیدگی بڑھنے سے اسرائیل کو آنے والے وقتوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہوگا، جن پر قابو پانا آسان نہیں ہوگا۔

یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر